سوال: خدا وند عالم مستقیم اپنے بندوں کے گناہوں کیوںنہیں بخشتا اوراس کیلئے شفیع اورواسطہ کی کیا ضرورت ہے ؟

 

جواب :  اس سوال کے جواب میں دو علتوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے:

۱۔خدا وندعالم نے اس جہان کو بہترین طریقہ پر خلق کیا ہے”الذی احسن کل شئی خلقہ“(۱)وہ خدا وند عالم جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے خلق فرمایا ہے، اس دنیا کو نظام علت و معلول اور اسباب و مسببات کی بنیاد پر انسان کی ہدایت اور اس کے تکامل کے لئے خلق کیا ہے اور انسان کی ضرورتیں عادی عوامل و اسباب کے ذریعہ پوری ہوجاتی ہیں۔

خدا وند عالم کے معنوی فیض و کرم ، ہدایت و مغفرت کی طرح نظام خاص کی بنیاد پر انسانوں پر نازل ہوتے ہیں اور اخدا وند عالم کا حکیمانہ ارادہ اس سے تعلق رکھتا ہے تاکہ یہ امور، اسباب اورمعین علتوں کے ذریعہ انسانوں تک پہنچ جائیں، اس بناء پر جس طرح  عالم مادہ میں یہ نہیں پوچھ سکتے کہ خدا وند عالم نے اس زمین کو سورج کے وسیلے سے کیوںروشن کیا ہے، اس نے خود اپنے ذریعہ سے مستقیم اس کام کو کیوں انجام نہیں دیا اسی طرح عالم معنا میںبھی یہ نہیں پوچھ سکتے کہ خدا وند عالم نے اپنے اولیاء کے واسطے سے اپنے بندوں کی مغفرت اور شفاعت کیوں کی ہے ؟اسی وجہ سے خدا وند عالم نے گناہ گاروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے روضہ مبارک پرجائیں اور اپنے لئے طلب مغفرت کرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے بھی دعا طلب کرو کہ وہ تمہارے لئے طلب مغفرت کریں کیونکہ خدا وند عالم فرماتا ہے”ولو انھم اذظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرلھم الرسول لوجدواتوابا رحیما“(۲)اے رسول جب یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور رسول بھی انکے لئے استغفارکرے تو خدا وند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے ۔

۲۔  شفاعت کی دوسری حکمت یہ ہے کہ مشئیت الہی یہی ہے کہ پیغمبروں اور اولیائے الہی کو شفاعت کا مقام عطا کرکے ان کا احترام کرے ،دعا اوران کی درخواست کو قبول کرنا ایک طرح سے ان کا احترام کرنا ہے ۔ اولیائے خدا، نیک افراد، آسمان کے فرشتے، حاملان عرش اپنے تمام اوقات کو خداوند عالم کی فرمانبرداری میں گذار دیتے ہیں اور خداوندعالم کی عبودیت سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالتے لہذا یہ اکرام واحترام کے لائق ہیں اور اس سے بہتر کیا احترام ہوسکتا ہے کہ ان کی دعائیں اور درخواستیں بندوں کے حق میں مستجاب ہوتی ہیں (۳)۔

___________________

۱۔  سورہ سجدہ آیت نمبر ۷۔

۲۔  سورہ نساء آیت نمبر ۶۴۔

۳۔  پاسخ بہ شبھات صفحہ ۴۶۷۔