میت سے دعا کی درخواست کرنا
سوال:کیا میت سے دعا کی درخواست کرنا اس کی پرستش شمار ہوتا ہے؟
جواب:بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ زندہ انسان سے دعا کی درخواست کرنا جو اس پر قادر ہے جائز ہے اور یہ پرستش نہیں ہے لیکن مردہ شخص سے دعا یا ہر چیز کی درخواست کرنا جس پر وہ قادر نہیں ہے یہ ایک طرح کی پرستش شمار ہوتی ہے اور یہ با ت طبیعی ہے کہ اس طرح کے کام انجام دینے والا مشرک قرار دیا جاتا ہے ۔
۱۔ کسی بھی موت یازندگی یازندہ یا مردہ سے درخواست کرناعبادت ،پرستش ، شرک اور توحید کا ملاک نہیں ہے یہ کیونکر ممکن ہے کہ زندہ فرد سے دعا کی درخواست کرنا عین توحید ہو اور وہی دعا کسی مرے ہوئے شخص سے کرنا عین شرک شمارہو جبکہ ماہیت عمل ایک ہی ہے مگر یہ کہ ایک میں جس سے درخواست ہورہی ہے وہ زندہ ہے اور دوسرا اس جہان میں نہیں ہے جبکہ کسی موحد نے حیات وموت کو توحید کے لئے میزان وشرک نہیں جانا ہے یاں یہ ہو سکتا ہے کہ یہ موت و حیات اس دعا کے موثر ہونے میں مفید یا غیر مفید ہو سکتی ہے لیکن توحید اور شرک میں کوئی اثر نہیں رکھتی ۔
۲۔ وہ افراد جو میت سے دعا کے لئے درخواست کرنے کو شرک سمجھتے ہیں ان کے استدلال کی بنیاد اس بات پر قائم ہے کہ وہ اولیاء و انبیاء کے مرنے کے بعد انکی زندگی کا اختتام سمجھ لیتے ہیں اور ان کے لئے برزخی حیات کے قائل نہیں ہیں،جب کہ ہم نے اس فصل کے پہلے سوال میں اس بات کو واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ شہداء و انبیاء و اولیاء حتی بعض مجرم وغیرہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔
۳۔ کسی بھی قسم کی درخواست یا دعااورتوسل اس وقت شرک کی منزل میں آجاتا ہے جب انسان اپنے وسیلہ کوایک قسم کی الوھیت، خدا وندگاری اورخدا کے تمام امورکو اس کے ہاتھ میںفرض کرلے اور اس کا قائل ہوجائے ،اس حالت میں چاہے وہ شخص زندہ ہو یا مردہ یہ اس کی پرستش شمار ہوگی لیکن ایک شخص سے دعا کی درخواست کرنا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ وہ ایک بہت بلند انسان ہے اور خداوند عالم اس کی دعا اوردرخواست کو قبول کرتا ہے ، اس کا شرک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور پوری دنیا کے مسلمان ،پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حضور میں ان کی تعریف کرتے ہیں ۔