موسسه علمی،فرهنگی امام زمان (عج) بلتستان

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
کی مختصر سوانح حیات

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے والد حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی خامنہ ای مرحوم تھے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای اٹھائیس صفر تیرہ سو اٹھاون ہجری قمری کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے خاندان کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کے والد سید جواد خامنہ ای کی زندگي دینی علوم کے دیگر اساتذہ اور علمائے دین کی مانند انتہائی سادہ تھی۔ان کی شریک حیات اور اولاد نے بھی قناعت اور سادہ زندگي گزارنے کے گہرے معنی ان سے سیکھے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگي اور حالات کے بارے میں اپنی بچپن کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میرے والد ایک مشہور عالم دین تھے لیکن بہت ہی پارسا اور گوشہ نشین ...
ہماری زندگي تنگ دستی میں بسر ہوتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہمارے گھر میں رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ہماری والدہ بڑی مشکل سے ہمارے لیے کھانے کا بندوبست کرتی تھیں اور ... وہ رات کا کھانا بھی کشمش اور روٹی ہوتی تھی۔
لیکن جس گھر میں سید جواد کا خاندان رہتا تھا اس کے بارے میں قائد انقلاب اسلامی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
میرے والد صاحب کا گھر کہ جہاں میری پیدائش ہوئی اور میرے بچپن کے چار پانچ سال وہیں گزرے ، ساٹھ ستر میٹر کا ایک گھر تھا جو مشہد کے ایک غریب علاقے میں واقع تھا۔اس گھر میں صرف ایک ہی کمرہ اور ایک تنگ و تاریک سرداب(تہہ خانہ)تھا۔جب کوئی مہمان ہمارے والد سے ملنے کے لیے آتا ہمارے والد چونکہ عالم دین تھے اس لیے عام طور پر لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے تھے تو ہم سب گھر والوں کوسرداب( تہہ خانہ ) میں جانا پڑتا اور مہمان کے جانے تک وہیں پر رہتے۔بعد میں میرے والد کے کچھ عقیدت مندوں نے ہمارے گھر کے ساتھ والی زمین خرید کر میرے والد صاحب کو دے دی اور پھر ہمارا گھر تین کمروں کا ہو گيا۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایک غریب لیکن دیندار ، پاکیزہ اور علم دوست گھرانے میں تربیت پائی اور چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائي سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دیے گئے تا کہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں۔اس کے بعد دونوں بھائیوں نے تازہ قائم ہونے والے اسلامی اسکول دارالتعلیم دیانتی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔
دینی درسگاہ میں آپ ہائی اسکول کے بعد دینی درسگاہ میں داخل ہو گئے اور اپنے والد اور اس وقت کے دیگر اساتذہ سے عربی ادب اور مقدمات(قواعد) کی تعلیم حاصل کی ۔آپ دینی درسگاہ میں داخلے اور دینی تعلیم کے انتخاب کے محرک کے بارے میں کہتے ہیں:
اس نورانی راستے کے انتخاب میں بنیادی عنصر اور محرک میرے والد کا عالم دین ہونا تھا اور میری والدہ کی خواہش تھی۔
آپ نے جامع المقدمات ، سیوطی اور مغنی کی مانند عربی ادب کی کتابیں مدرسۂ سلیمان خان اور مدرسۂ نواب کے اساتذہ سے پڑھیں اور آپ کے والد بھی اپنے بچوں کی تعلیم پر نظر رکھتے تھے۔اسی دوران آپ نے کتاب معالم بھی پڑھی۔اس کے بعد آپ نے شرائع الاسلام اور شرح لمعہ اپنے والد سے اور ان کے بعض حصے آقا میرزا مدرس یزدی مرحوم سے پڑھے اور رسائل و مکاسب حاج شیخ ہاشم قزوینی سے اور فقہ و اصول کے دروس سطح اپنے والد سے پڑھے۔آپ نے حیرت انگیز طور پر صرف ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں مقدمات اور سطح کے کورس مکمل کر لۓ۔آپ کے والد سید جواد مرحوم نے ان تمام مراحل میں اپنے چہیتے بیٹے کی ترقی و پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔قائد انقلاب اسلامی نے منطق اور فلسفہ میں کتاب منظومہ سبزواری پہلے آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانی مرحوم اور بعد میں شیخ محمد رضا ایسی سے پڑھی۔

نجف اشرف کی دینی درسگاہ میں

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ، کہ جنہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں مشہد میں عظیم مرجع آیت اللہ العظمی میلانی مرحوم سے فقہ اور اصول کا درس خارج پڑھنا شروع کیا تھا، سن 1957 میں مقدس مقامات کی زيارت کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے اور سید محسن حکیم مرحوم،سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحیی ، یزدی اور میرزا حسن بجنوردی سمیت نجف اشرف کے عظیم مجتہدین کے دروس میں شرکت کی۔آپ کو یہاں درس و تدریس اور تحقیق کا معیار پسند آیا اور نجف میں تعلیم جاری رکھنے کے اپنے فیصلے سے اپنے والد کو آگاہ کیا لیکن وہ راضی نہ ہوئے چنانچہ آپ کچھ عرصے کے بعد مشہد واپس لوٹ آئے۔
 قم کی دینی درسگاہ میں
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ سن 1958 سے لے کر سن 1964 تک قم کی دینی درسگاہ میں فقہ، اصول اور فلسفہ کی اعلی تعلیم میں مشغول رہے اور آیت اللہ العظمی بروجردی، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ مرتضی حائری یزدی اور علامہ طباطبائی جیسے عظیم اساتذہ سے کسب فیض کیا۔1964 میں قائد انقلاب اسلامی کو اپنے والد سے خط و کتابت کے بعد پتہ چلا ان کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی موتیا کے مرض کی وجہ سے جا چکی ہے آپ کو یہ خبر سن کر بہت دکھ پہنچا۔آپ قم کی عظیم درسگاہ میں رہ کر اپنی تعلیم کو جاری رکھنے اور مشہد واپس جا کر اپنے والد کی دیکھ بھال کرنے کے سلسلے میں شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اللہ کی رضا کیلۓ مشہد واپس جانا چاہیے اور اپنے والد کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:
میں مشہد گیا اور خدا نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عنایت فرمائیں۔بہرحال میں اپنے کام اور ذمہ داریوں میں مشغول ہوگيا۔اگر مجھے زندگی میں کوئی توفیق حاصل ہوئی ہے تو میرا یہ خیال ہے کہ وہ اس نیکی کا صلہ ہے جو میں نے اپنے والد اور والدہ کے ساتھ کی تھی۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس دو راہے پر صحیح راستے کا انتخاب کیا۔آپ کے بعض اساتذہ اور ساتھی افسوس کرتے تھے کہ کیوں آپ نے اتنی جلدی قم کو چھوڑ دیا اگر وہ وہاں رہ جاتے تو آئندہ یہ بن جاتے وہ بن جاتے... لیکن مستقبل نے ظاہر کر دیا کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور الہی فیصلے نے لوگوں کے اندازوں سے کہیں بہتر ان کی تقدیر لکھی تھی۔ کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ پچیس سالہ باصلاحیت عالم دین جو اپنے والدین کی خدمت کے لیے قم چھوڑ کر مشہد واپس چلا گيا تھا، پچیس سال بعد ولایت امر مسلمین کے اعلی مقام و مرتبے پر پہنچ جائے گا؟
آپ نے مشہد میں بھی اپنی اعلی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور تعطیلات،جدوجہد،جیل اور سفر کے علاوہ 1968 تک مشہد کے عظیم اساتذہ خصوصا" آیت اللہ میلانی سے با قاعدہ طور پر تعلیم حاصل کی۔اسی طرح سن 1964 سے کہ جب آپ مشہد میں مقیم تھے ، تعلیم حاصل کرنے اور بوڑھے اور بیمار والد کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نوجوان طلبہ کو فقہ و اصول اور دینی علوم کی دیگر کتابیں بھی پڑھاتے تھے۔
سیاسی جدوجہدحضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بقول خود ان کے، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی ، اصولی ،سیاسی اور انقلابی شاگردوں میں سے ہیں لیکن ان کے ذہن میں طاغوت کے خلاف دشمنی اور سیاست و جدوحہد کی پہلی کرن عظیم مجاہد اور شہید راہ اسلام سید مجتبی نواب صفوی نے ڈالی۔جب نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ساتھ سن 1952 میں مشہد گئے تو انہوں نے مدرسہ سلیمان خان میں احیائے اسلام اور احکام الہی کی حاکمیت کے موضوع پر ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور شاہ اور برطانیہ کے مکر و فریب اور ملت ایران سے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ان دنوں مدرسہ سلیمان خان کے نوجوان طالب علم تھے، نواب صفوی کی جوشیلی تقریر سے آپ بہت متاثر ہوئے ۔آپ کہتے ہیں:اسی وقت نواب صفوی کے ذریعے میرے اندر انقلاب اسلامی کا جھماکہ ہوا چنانچہ مجھے اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پہلی آگ نواب صفوی مرحوم نے میرے اندر روشن کی۔

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کے ہمراہ
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سن 1962 سے کہ جب آپ قم میں تھے اور محمد رضا شاہ پہلوی کی اسلام مخالف اور امریکہ نواز پالیسیوں کے خلاف امام خمینی کی انقلابی اور احتجاجی تحریک شروع ہوئي ، سیاسی جدوجہد میں شامل ہو گئے اور بے پناہ نشیب و فراز ، جلاوطنی ، قید و بند اور ایذاؤں کے باوجود سولہ سال تک جدوجہد کرتے رہے اور کسی مقام پر بھی نہیں گھبراۓ ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں پہلی ذمہ داری یہ سونپی کہ وہ ماہ محرم میں علمائے کرام کے تبلیغی مشن اور شاہ کی امریکی پالیسیوں کو آشکارہ کریں، ایران کے حالات اور قم کے واقعات کے بارے میں ان کا پیغام آیت اللہ میلانی اور خراسان کے علماء تک پہنچائيں ۔آپ نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائي اور خود بھی تبلیغ کے لیے بیرجند شہر گئے اور وہاں تبلیغ کے ضمن میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے پیغام کے تناظر میں پہلوی حکومت اور امریکہ کا پردہ چاک کیا چنانچہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک رات قید رکھنے کے بعد اگلے دن آپ کو اس شرط پر رہا کیا گيا کہ آپ منبر پر نہیں جائيں گے اور پولیس کی نگرانی میں رہیں گے۔پندرہ خرداد کے واقعے کے بعد آپ کو بیرجند سے مشہد لاکر فوجی جیل میں ڈال دیا گيا اور وہاں دس روز تک کڑی نگرانی میں رکھا گیا اور سخت ایذائيں دی گئيں۔
دوسری گرفتاری
جنوری سن 1963 مطابق رمضان تیرہ سو تراسی ہجری قمری کو حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت کرمان گئے۔کرمان میں دو تین دن ٹھہرنے ،تقریریں کرنے اور اس شہر کے علماء اور طلبہ سے ملاقات کرنے کے بعد زاہدان چلے گئے۔آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگیز تقریروں خصوصا" چھ بہمن کو شاہ کے جعلی ریفرنڈم اور انتخاب کی سالگرہ کے دن آپ کی تقریر کو عوام نے بے حد پسند کیا۔ پندرہ رمضان کو امام حسن علیہ السلام کی ولادت کے روز پہلوی حکومت کی شیطانی اور امریکی پالیسیوں کا پردہ چاک کرنے والی آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگيز تقریریں اپنے عروج پر پہنچ گئيں چنانچہ شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک نے آپ کو راتوں و رات گرفتار کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے تہران روانہ کر دیا۔رہبر بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو تقریبا" دو ماہ تک قزل قلعہ نامی جیل میں قید تنہائی میں رکھا گيا۔ دوران قید آپ نے مختلف قسم کی ایذائیں اور توہین آمیز سلوک برداشت کیا۔
تیسری اور چوتھی گرفتاریاں
مشہد اور تہران میں آپ کے تفسیر و حدیث کے دروس اور اسلامی افکار و نظریات کا انقلابی نوجوانوں نے زبردست خیرمقدم کیا۔آپ کی ان سرگرمیوں سے شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک بھڑک اٹھی اور آپ کو گرفتار کرنا چاہا لہذا آپ نے سن 1966 میں تہران میں روپوشی کی زندگي اختیارکرلی تاہم ایک سال بعد یعنی 1967 میں آپ گرفتار کر لیے گئے ۔ رہائی کے بعد آپ کی انقلابی سرگرمیوں کے باعث ساواک نے آپ کو ایک بار پھر سن 1970میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔
پانچویں گرفتاری
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مدظلہ العالی ساواک کے ہاتھوں اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
سن 1969 سے ایران میں مسلح تحریک کے آثار محسوس کیے جا رہے تھے۔ خفیہ اداروں کی میرے بارے میں حساسیت بھی بڑھ گئي تھی انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس قسم کی تحریک کا مجھ جیسے افراد سے تعلق نہ ہو۔ سن 1971 میں ایک بار پھر مجھے جیل میں ڈال دیا گيا۔جیل میں ساواک کے تشدد آمیز سلوک سے واضح طور پر ظاہر ہوتا تھا کہ اسے مسلح تحریک کے اسلامی فکر کے مراکز سے جڑے ہونے پر سخت تشویش ہے اور وہ اس بات کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے کہ مشہد اور تہران میں میرے نظریاتی اور تبلیغی مشن کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہائی کے بعد میرے تفسیر کے عام دروس اور خفیہ کلاسوں کا دائرہ مزید بڑھ گيا۔
 چھٹی گرفتاری1971 اور 1974 کے برسوں کے دوران حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے تفسیر اور انقلابی نظریات کے دروس اور تقاریر مشہد مقدس میں واقع مسجد کرامت ، مسجد امام حسین اور مسجد میرزا جعفر میں انجام پاتی تھیں جن میں انقلابی اور روشن فکر نوجوانوں اور طلبہ سمیت ہزاروں لوگ جوق در جوق شرکت کرتے تھے اور اسلام کے حقیقی نظریات سے آگاہ ہوتے تھے۔آپ کے نہج البلاغہ کے درس کا رنگ ہی کچھ اور تھا آپ کے نہج البلاغہ کے دروس فوٹو کاپی ہو کر لوگوں میں تقسیم ہوتے تھے۔ نوجوان اور انقلابی طلبہ جو آپ سے درس حقیقت اور جدوجہد کا سبق لیتے تھے ، ایران کے دور و نزدیک کے شہروں میں جا کر لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کرتے۔ان سرگرمیوں کے باعث 1974عیسوی میں ساواک نے مشہد میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے گھر پر دھاوا بول دیا اور آپ کو گرفتار کر کے آپ کی بہت سی تحریروں اور نوٹس کو ضبط کر لیا۔یہ آپ کی چھٹی اور سخت ترین گرفتاری تھی۔آپ کو 1975 کے موسم خزاں تک قید میں رکھا گيا۔ اس عرصے کے دوران آپ کو ایک کوٹھڑی میں سخت ترین حالات میں رکھا گيا اور خود آپ کے بقول صرف وہی ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ان حالات کو دیکھا ہے۔جیل سے رہائي کے بعد آپ مشہد مقدس واپس آ گئے اور ماضی کی طرح علمی ، تحقیقی اور انقلابی عمل کو آگے بڑھایا۔ البتہ آپ کو پہلے کی طرح کلاسوں کی تشکیل کا موقع نہیں دیا گيا۔
شہر بدریظالم پہلوی حکومت نے سن 1977 کے اواخر میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو گرفتار کر کے تین سال کے لیے ایرانشہر شہر بدر کر دیا۔ سن 1978 کے وسط میں ایران کے مسلمان اور انقلابی عوام کی جدوجہد کے عروج پر پہنچنے کے بعد آپ شہر بدری سے آزاد ہو کر مشہد مقدس واپس آ گئے اورسفاک پہلوی حکومت کے خلاف عوام کی جدوجہد کی اگلی صفوں میں شامل ہو گئے ۔
راہ خدا میں انتھک جدوجہداور سختیاں برداشت کرنے کا نتیجہ یعنی ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ظالم پہلوی حکومت کا سقوط اور اس سرزمین میں اسلام کی حاکمیت کے قیام کا مشادہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کیا۔
کامیابی سے قبل
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے ان کی طرف سے شہید مطہری، شہید بہشتی، ہاشمی رفسنجانی وغیرہ کی مانند مجاہد علما اور افراد پر مشتمل کمیٹی شورائ انقلاب اسلامی قائم کی گئی۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر اس کمیٹی کے رکن بنے۔ شہید مطہری نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام آپ تک پہنچایا ۔ رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام ملتے ہی آپ مشہد سے تہران آ گئے۔
کامیابی کے بعد
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اپنی انقلابی اور اسلامی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں اس دوران آپ مختلف عہدوں پر فائز رہے اور متعدد اہم کارنامے انجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
٭ فروری 1979 میں اپنے ہم خیال مجاہد علماء اور ساتھیوں کے تعاون سے جمہوری اسلامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔
٭ 1979 میں نا‏ئب وزیردفاع بنے۔
٭ 1979میں ہی پاسداران انقلاب اسلامی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے۔
٭ 1979میں ہی بانی انقلاب اسلامی کی جانب سے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ منصوب ہوئے
٭ 1980 میں اعلی دفاعی کونسل میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نمائندےمقرر ہوئے
٭ 1979 میں پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی میں تہران کے نمائندے بنے
٭ 1970 میں امریکہ اور سابق سوویت یونین سمیت شیطانی اور بڑی طاقتوں کے اکسانے اور ان کی فوجی مدد سے ایران کی سرحدوں پر صدام کی جارحیت اور ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ شروع ہوتے ہی دفاع مقدس کے محاذوں پر فوجی لباس میں دشمن کے خلاف نبرد آزما ہوئے
٭ 1981 میں تہران میں واقع مسجد ابوذر میں انقلاب دشمن منافقین کےناکام قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے
صدر مملکت
ایران کے دوسرے صدر محمد علی رجائي کی شہادت کے بعد 1981 میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی طرح 1985 میں آپ دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔
1981 میں ثقافتی انقلابی انجمن کے سربراہ بنے
1987 میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کی سر براہی سنبھالی
1989 میں آئین پر نظر ثانی کرنے والی کونسل کے سربراہ مقرر ہوئے
امت کی قیادت و ولایت
رہبر کبیر انقلاب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد جون 1989 میں ماہرین کی کونسل نے اس اعلی عہدے اور عظیم ذمہ داری کے لیے آپ کو منتخب کیا۔ یہ انتخاب انتہائی مبارک اور صحیح تھا چنانچہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ نے نہایت مہارت سے ملت ایران بلکہ مسلمانان عالم کی قیادت و راہنمائی کی اور یہ عظیم اور الہی فریضہ آج بھی بخوبی نبھا رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف1- طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
2- از ژرفای نماز
3- گفتاری در باب صبر
4- چہار کتاب اصلی علم رجال
5- ولایت
6- گزارش از سابقہ تاریخی و اوضاع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
7- زندگینامہ ائمہ تشیع(غیر مطبوعہ)
8- پیشوای صادق
9- وحدت و تحزب
10- ہنر از دیدگاہ آیت اللہ خامنہ ای
11- درست فہمیدن دین
12- عنصر مبارزہ در زندگی ائمہ علیہم السلام
13- روح توحید، نفی عبودیت غیر خدا
14- ضرورت بازگشت بہ قرآن
15- سیرت امام سجاد علیہ السلام
16- امام رضا علیہ السلام و ولایت عہدی
17- تہاجم فرہنگی(قائد انقلاب کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل کتاب)
18- حدیث ولایت(آپ کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل مجموعہ، اس کی اب تک نو جلدیں چھپ چکی ہیں)
19 اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمے
1- صلح امام حسن [ع] ،تصنیف آل یاسین۔
2- آیندہ در قلمرو اسلام، تصنیف سید قطب۔
3- مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان، تصنیف عبدالرحیم نمری نصری۔
4- ادعا نامہ علیہ تمدن غرب، تصنیف سید قطب۔
5- اور ۔ ۔ ۔ ۔

نوشته شده در پنجشنبه سوم تیر 1389| ساعت 11:0| توسط غلام حیدر عابدی| |

بسم الله الرحمن الرحیم

اساسنامه موسسه فرهنگی امام زمان«عج»

فصل اول: کلیات

نام موسسه: موسسه فرهنگی امام زمان «عج»

ملیت: پاکستان

سال تأسیس: 1377

تعریف موسسه: این موسسه متشکل از طلاب پاکستان منطقه شمال(گول، غورو، نرو، تهورگو و حسین آباد) است که برای رشد علمی و فکری طلاب و پیشرفت هنر های تبلیغی، تدریسی، تحقیقی، و فرهنگی به وجومد آمده است

ماهیت: کلیه فعالیت های این تشکل غیر سیاسی و غیر انتفاعی بوده و ضمن رعایت کامل قوانین جامعه المصطفی العالمیه دقیقا طبق این اساس نامه فعالیت خواهد کرد.

فصل دوم: اهداف کلی

1-     خدمت اسلام و مسلمین خصوصا پشتیبانی ولایت فقیه.

2-     گسترش و تعمیق فرهنگی قرآن  معارف اهل بیت علیهم السلام.

3-     تربیت شخصیت جامع و متعادل بر اساس معیار های اسلامی.چ

4-     توانمندی سازی طلاب با آموزش های کار بردی و فوق برنامه برای حضور در زمینه های مختلف فرهنگی و تبلیغی.

5-     دعوت طلاب برای ایجاد و حدت و همبستگی.

6-     در اینده تأسیس مراکز علمی و فرهنگی در کشور متبوع.

7-     ارتباط با مساجد، حسینیه ها و مراکز مختلف کشور و منطقه.

8-     ارتباط با مدارس دینی و دینی و دانشگاهی.

برنامه های مختلف موسسه:

بخش تبلیغ:

1-     ایجاد انگیزه در طلاب برای تبلیغ.

2-     آموزش سخنرانی به طلبه ها توسط اساتیذ و سخنران توانا.

3-     اجرای برنامه هفتگی برای آموزش سخنرانی و روش تبلیغ.

4-     تهیه مواد تبلیغی برای محرم، صفر، رمضان و تابستان.

5-     برگزاری نشت های علمی، فرهنگی و همایش ها طبق نیاز منطقه.

6-     برنامه مجالس عزا و جشن به مناسبت های ولادت و شهادت معصومین علیهم السلام.

بخش فرهنگی:

1-     فعال کردن مساجد و مراکز فرهنگی منطقه.

2-     قائم کردن مراکز علمی مثل کتابخانه ها و مکتب القرآن.

3-     مسابقات قرآنی، احکام و عقاید برای دانش آموزان منطقه.

4-     تدوین کتابچه ها و بروشر ها برای دانش آموزان و دانشجویان منطقه.

5-     راه اندازی سایت انترنیتی به زبان های زنده دینا.

6-     قائم کردن مدرسه ها در منطقه و کشور.

بخش تدریس و تحقیق:

1-     ایجاد انگیزه در طلاب برای تدریس.

2-     بالا بردن سطح علمی طلبه از لحاظ عمیق بودن.

3-     تربیت مدرس موفق.

4-     مباحثات تفسیر، نهج البلاغه، عقاید در ایام پنجشنبه، جمعه و تعطیلات.

5-     ایجاد انگیزه در زمینه تالیف، ترجمه و مقاله.

6-     ایجاد زمینه برای ورود استعدادهای درخشان جامعه در دانشگاه ها و مراکز علمی پیشرفته.

فصل سوم: شرایط و وظائف اعضاء و شرایط کاندیدا

مجلس نظارت:

مجلس نظارت مشتمل بر پنچ نفر اند و برای یک سال با رای اراکین انتخاب می شوند

ارکان: مجلس نظارت:

1-     حجت الاسلام شیخ فدا حسین نجفی

2-     حجت الاسلام شیخ فدا علی خان صادقی

3-     حجت الاسلام شیخ احمد محقق

4-     حجت الاسلام شیخ محمد حسن صانعی

5-     حجت الاسلام شیخ علی نجفی

وظیفه مجلس نظارت:

1-     نظارت در انتخاب رئیس موسسه که رئیس را با رای اراکین برای یک سال انتخاب می نماید.

2-     اگر رئیس بخواهد بخواهد مستعفی شود استعفای خود را به مجلس نظارت ابلاغ نماید.

3-     مجلس نظارت حق دارد او را عزل کند.

4-     اگر مجلس نظارت دید که موسسه قوانین را رعایت نمی کند و از اهداف اصلی خود انحراف پیدا کند حق دارد موسسه را منحل کند.

رئیس موسسه:محمد علی ممتاز

رئیس موسسه بالا ترین مقام اجرائی است که در نظارت مجلس نظارت با رای اراکین موسسه انتخاب می شود و نماینده رسمی موسسه محسوب شده و از طرف موسسه حق امضاء دارد و رئیس برای یک سال انتخاب می شود

شرایط رئیس موسسه:

1-     پابند احکام شرعی و اخلاقی باشد.

2-     تجربه مدیریت داشته باشد.

3-     پایبند به ولایت فقیه باشد.

4-     طلبه رسمی جامعه المصطفی العالمیه باشد.

وظایف رئیس:

1-     انتخاب کابینه.

2-     عزل و نصب کابینه.

3-     هر ماه جلسه خصوصی با کابینه داشته باشد.

4-     در جلسه هفگی حتما حضور داشته باشد.

5-     به حسب نیاز تشکیل جلسه اضطراری.

نائب رئیس اول و دوم:

محمد حسین طاهری و علی محمد محمدی

در صورت عدم موجودگی رئیس موسسه کارهای او را انجام می دهد.

دبیر:غلام حیدر عابدی

معاون: سید احمد موسوی

وظائف:

1-     گزارش های جلسات را کنترول می کند.

2-     قوانین تصویب شده را ثبت می کند.

3-     در صورت عدم موجودگی رئیس، نائب اول و دوم امور موسسه را انجام می دهد.

4-     قبل از جلسه ایجندای جلسه را آماده می کند.

5-     معاون دبیر با دبیر تعاون و همکاری می کند.

امور فرهنگی: سید حسین حسین

معاونین: محمد رضا نجفی، محمد الیاس عابدی

وظائف:

هرچه که مربوط به امور فرهنگی است اینها انجام می دهد.

امور مالی:محمد شمشاد نوری

معاون: سجاد حسین ساجدی

وظائف:

1-     دریافت ماهیانه از طلاب.

2-     تشکیل پرونده برای اعضاء.

3-     تأسیس صندوق قرض الحسنه.

4-     حفاظت بودجه موسسه.

امور ارتباطات: نثار علی جنتی

معاونین: محمد اشرف صالحی، محمد باقر انصاری

وظائف:

1-     ارتباط با موسسه جامعه المصطفی العالمیه.

2-     ارتباط با علماء منطقه.

3-     ارتباط با طلاب دیگر منطقه برای جذب اعضاء در موسسه.

امور آموزش:غلام محمد انصاری

معاون: سید محمد الموسوی

وظائف:

1-     نظارت بر مباحثات تفسیر، عقاید و نهج البلاغه.

2-     برگزاری مسابقات علمی.

3-     برگزاری کلاسهای روش تدریس.

4-     تربیت مدرس موفق.

 

نوشته شده در یکشنبه نوزدهم اردیبهشت 1389| ساعت 20:31| توسط غلام حیدر عابدی| |

بزرگ عالم دین آغا علی الموسوی انتقال کرگئے
اسلام ٹائمز۔ بزرگ شیعہ عالم دین حجتہ الاسلام  و المسلمین علامہ آغا علی الموسوی اندرون موچی گیٹ لاہور میں انتقال کرگئے ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے علیل تھے۔ سحری کے وقت نماز شب کی ادائیگی کے لئے اٹھے۔ تو خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے تین بیوگان، بیٹے اور بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ وہ شیعہ جامع مسجد کشمیریاں کے امام آغا حیدر علی الموسوی اور آغا مظاہر حسین موسوی کے والد گرامی تھے۔ آغا علی الموسوی قائدین ملت جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ ساجد علی نقوی کے قریبی رفقا میں سے رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کو بھی ان کی سرپرستی حاصل تھی۔ 

مرحوم کی نماز جنازہ باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں ادا کی جائے گی۔ مرحوم علامہ موسوی متعدد شیعہ تنظیموں کے بانی اور سرپرست تھے۔ خصوصاً امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بانی علماء اور سرپرستوں میں سرفہرست تھے۔ آئی ایس او کا نام بھی انہوں نے قرآنی استخارہ سے رکھا۔ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک آئی ایس او کی مجلس نظارت کے مستقل رکن اور مالی حوالے سے بھی اس طلبہ تنظیم کی مدد کرتے رہے۔ 

علامہ آغا علی الموسوی کی وفات پر مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماوں نے شدید غم کا اظہار کیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی، مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر اطہر عمران، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر اور دیگر رہنماوں نے علامہ آغا علی الموسوی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ ایک جید عالم دین اور متحرک رہنما سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کا خلا صدیوں پر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے مرحوم کے خانوادے اور ملت اسلامیہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
آئی ایس او لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے آغا علی الموسوی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شفیق باپ سے محروم ہوگئی ہے۔

نوشته شده در سه شنبه دهم مرداد 1391| ساعت 13:12| توسط غلام حیدر عابدی| |

بزرگ عالم دین آغا علی الموسوی انتقال کرگئے
اسلام ٹائمز۔ بزرگ شیعہ عالم دین حجتہ الاسلام  و المسلمین علامہ آغا علی الموسوی اندرون موچی گیٹ لاہور میں انتقال کرگئے ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے علیل تھے۔ سحری کے وقت نماز شب کی ادائیگی کے لئے اٹھے۔ تو خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے تین بیوگان، بیٹے اور بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ وہ شیعہ جامع مسجد کشمیریاں کے امام آغا حیدر علی الموسوی اور آغا مظاہر حسین موسوی کے والد گرامی تھے۔ آغا علی الموسوی قائدین ملت جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ ساجد علی نقوی کے قریبی رفقا میں سے رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کو بھی ان کی سرپرستی حاصل تھی۔ 

مرحوم کی نماز جنازہ باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں ادا کی جائے گی۔ مرحوم علامہ موسوی متعدد شیعہ تنظیموں کے بانی اور سرپرست تھے۔ خصوصاً امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بانی علماء اور سرپرستوں میں سرفہرست تھے۔ آئی ایس او کا نام بھی انہوں نے قرآنی استخارہ سے رکھا۔ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک آئی ایس او کی مجلس نظارت کے مستقل رکن اور مالی حوالے سے بھی اس طلبہ تنظیم کی مدد کرتے رہے۔ 

علامہ آغا علی الموسوی کی وفات پر مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماوں نے شدید غم کا اظہار کیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی، مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر اطہر عمران، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر اور دیگر رہنماوں نے علامہ آغا علی الموسوی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ ایک جید عالم دین اور متحرک رہنما سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کا خلا صدیوں پر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے مرحوم کے خانوادے اور ملت اسلامیہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
آئی ایس او لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے آغا علی الموسوی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شفیق باپ سے محروم ہوگئی ہے۔

نوشته شده در سه شنبه دهم مرداد 1391| ساعت 13:5| توسط غلام حیدر عابدی| |






 


بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق  24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔  وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔
اس طرح حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ انتہائی کمسنی کے عالم سے ہی رنج یتیمی سے آشنا اور مفہوم شہادت سے مانوس ہوگئے ۔ انھوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن اپنی والدہ محترمہ ہاجرہ خاتون کے دامن شفقت میں گذارا ۔  محترمہ ہاجرہ خاتون خود بھی اہل علم وتقوی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور صاحب زبد‏‏‏‌‌التصانیف آیت اللہ خوانساری کی اولادوں میں سے تھیں۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنی پھوپھی محترمہ صاحبہ خانم کے دامن تربیت میں بھی پرورش پائی جو ایک دلیر اور باتقوی خاتون تھیں لیکن ابھی آپ پندرہ سال کے تھے کہ آپ ان دونوں شفیق اور مہربان ہستیوں کے سایہ عطوفت سے محروم ہوگئے۔

قم کی جانب سفر

جب تیرہ سو چالیس ہجری قمری کو آیت اللہ العظمی شیخ عبدالکریم حائری یزد ی نے قم کی جانب ہجرت کی اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ بھی قم کی جانب روانہ ہوگئے اور آپ نے بڑی ہی تیزی کے ساتھ دینی اور حوزوی علوم حاصل کئے اور درجہ اجتہاد پر فائزہوئے۔ اس زمانے میں آپ نے حوزوی دروس جن اساتذہ سے حاصل کئے ان میں مرحوم آقامیرزا محمدعلی ادیب تہرانی، مرحوم آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری،  مرحوم آیت اللہ سید علی یثربی کاشانی اور زعیم حوزہ علمیہ قم آیت اللہ العظمی حاج شیخ عبدالکریم حائری یزدی رضوان اللہ علیہم کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ آیت اللہ العظمی حائری یزدی کی رحلت کے بعد حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے دیگر مجتہدین کے ہمراہ کوشش کی کہ  آیت اللہ العظمی بروجردی حوزہ علمیہ قم کی زعامت قبول کرلیں اور ان کی یہ کوشش کامیاب بھی ہوئی اور آیت اللہ العظمی بروجردی حوزہ علمیہ قم کے زعیم کی حیثیت سے بروجرد سے قم تشریف لے آئے۔  اس وقت تک حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو حوزہ علمیہ میں فقہ واصول اورفلسفہ وعرفان میں ایک اعلی سطح کے مدرس اور مجتہد کی حیثيت سے لوگ پہچاننے لگے تھے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے برسہا برس حوزہ علمیہ قم کے مختلف مراکز میں جن میں مدرسہ فیضیہ ،مسجد اعظم، مسجد محمدیہ، مدرسہ حاج ملاصادق اورمسجد سلماسی شامل ہیں فقہ واصول فلسفہ وعرفان اور اخلاق کے درس دیتے رہے۔ عراق میں قیام کے دوران حوزہ علمیہ نجف اشرف میں بھی چودہ برس تک مسجدشیخ اعظم انصاری میں علوم اہل بیت کے پیاسوں کو سیراب کرتے رہے ۔ آپ نے نجف اشرف میں ہی پہلی بار اسلامی حکومت کا نظریہ اور اصول پیش کئے جو آپ کے ولایت فقیہ کے سلسلے میں دئے جانے والے دروس کے دوران انتہائي مدلل اندازمیں سامنے آئے۔

حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ جہاد کے محاذ پر

 اللہ کی راہ میں جہاد کا جذبہ آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ نے ظلم وستم کے خلاف جدوجہد لڑکپن سے ہی شروع کردی اور اس جدوجہد کو آپ کی علمی اورمعنوی ترقی کےساتھ ساتھ عروج حاصل ہوتا رہا اور پھر ایران کے سماجی اور اسلامی دنیاکے سیاسی حالات نے اس جذبہ کو اور بھی تقویت بخشی۔ سن 62 ۔ 1961 میں صوبائي اور ضلعی کونسلوں کی تشکیل کے دوران عوام اور علماء کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ اس طرح علماء اور عوام کی ملک گیرتحریک ایرانی عوام کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغازثابت ہوئی ۔ پندرہ خرداد کوشروع ہونے والی یہ تحریک دو اہم خصوصیات اپنے اندر لے کر اٹھی۔ ایک حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی متفق علیہ قیادت اور دوسرے اس تحریک کا اسلامی تشخص، چنانچہ آگے چل کر اس تحریک کو ایران کے اسلامی انقلاب سے جانا اور پہچانا جانے لگا ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ جو پہلی عالمی جنگ کے موقع پر صرف بارہ سال کے تھے اپنی یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
مجھے دونوں ہی عالمی جنگيں یاد ہیں۔ میں چھوٹاتھا مگر مکتب جاتا تھا اور سابق سویت یونین کے فوجیوں کو خمین میں آتے جاتے دیکھتا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران ہمیں حملوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایک مقام پر مرکزی حکوت سے وابستہ بعض خوانین(زمینداروں)  اور راہزنوں کا نام بھی لیتے ہيں جو لوگوں کا مال واسباب لوٹتے اور حتی ان کی ناموس پر بھی حملے کرتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں تو لڑکپن ہی سے جنگ کی حالت میں تھا۔ ہم زلقی اور رجب علی جیسے خوانین (زمینداروں ) کے ظلم ستم کا شکا ر تھے ہمارے پاس بھی بندوقیں تھیں اور میں شاید تازہ سن بلوغ کو پہنچا تھا اور کمسن تھا۔ ہمارے علاقے میں مورچے بنائے گئے تھے اور یہ لوگ (خوانین) حملہ کرکے لوٹ مار کرنا چاہتے تھے ، اس وقت ہم اس علاقے میں جاکرمورچوں کو دیکھتے تھے۔
تین اسفند 1299 ہجری شمسی (1921 ) کو رضاخان کی بغاوت نے جو ناقابل انکار شواہد وثبوت اورتاریخی اسناد کی بنیاد پر برطانیہ کی حمایت سے انجام پائی اورجس کی منصوبہ بندی بھی خود برطانیہ نےکی تھی اگرچہ سلطنت قاجاریہ کاخاتمہ کر دیا اور کسی حدتک زمینداروں کی طوائف الملوکی ختم ہوگئی لیکن اس کے عوض ایک آمر شہنشاہ تخت نشین ہوا اور اس کے زیرسایہ ایران کی مظلوم قوم کی تقدیر پر ہزار خاندان مسلط ہوگۓ اورپہلوی خاندان کی آل اولاد نے زمینداروں اور راہزنوں کی جگہ لےلی۔ ان حالات میں علماء نے جن پر آئيينی انقلاب کے واقعات کے بعد انگریزوں کی آلہ کار حکومت کی یلغار تھی اور دوسری طرف وه مغرب زدہ اور نام نہاد روشن خیال افراد کا نشانہ بن رہے تھے اسلام کے دفاع اور اپنی بقا کے لئے کوششیں شروع کردیں ۔
آیت اللہ العظمی حاج شیخ عبدالکریم حائری نے اس وقت قم کے علما کی دعوت پر اراک سے قم کے لئے ہجرت کی اور اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد حضرت امام خمینی رحمت اللہ نے جو اپنی غیرمعمولی صلاحتیوں کی بدولت خمین اور اراک کے حوزہ علمیہ میں مقدماتی اورسطوح (درس خارج سے پہلے کے دروس) کوپایہ تکمیل تک پہنچا چکے تھے قم کے لئے ہجرت کی اورعملی طورپر قم کے نئےدینی مرکزکی تقویت کے لئے بھرپورطریقے سے کوشش کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ کا شمار قم کی چند گنی چنی علمی شخصیات میں ہونے لگا اور آپ فقہ واصول اور فلسفہ وعرفان کے ایک جید عالم کی حیثیت سے معروف ہوگئے ۔
10بہمن 1315 ہجری شمسی ( 30 جنوری 1937 ) کو آیت اللہ العظمی حایری کی رحلت کے بعد حوزہ علمیہ قم کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔ چنانچہ حوزہ علمیہ قم کے بہی خواہ علما نے فورا چارہ اندیشی شروع کردی ۔ اس دوران آٹھ برسوں تک آیت اللہ العظمی حجت، آیت اللہ العظمی سید صدرالدین صدر اور آیت اللہ العظمی سید محمد تقی خوانساری رضوان اللہ علیہم نے اس دینی مرکز کی سر پرستی فرمائی۔ اس دوران بالخصوص رضاخان کی حکومت کے خاتمے کے بعد مرجعیت عظمی یعنی ایک بزرگ مرجع کے سامنے آنے کا ماحول سازگارہوگيا۔  آیت اللہ العظمی بروجردی ایک عظیم علمی شخصیت تھے جو مرحوم آیت اللہ العظمی حایری کے مناسب جانشین بن سکتے تھے اور حوزہ علمیہ قم کی زعامت سنبھال سکتے تھے ۔ چنانچہ یہ بات آیت اللہ حایری کے شاگردوں اورخاص طورپر حضرت امام خمینی رحمت اللہ کی طرف سے آیت اللہ بروجردی کے سامنے رکھی گئي اور حضرت امام خمینی رحمت اللہ نے آیت اللہ بروجردی کو بروجرد سے قم تشریف لانے اور حوزہ کی زعامت قبول کرنے کے لئے راضی کرنے کی بھرپورکوشش کی۔ اس دوران حضرت امام خمینی رحمت اللہ نہایت باریک بینی کے ساتھ معاشرے اور حوزہ علمیہ پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور حالات حاضرہ کے بارے میں کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی تہران رفت و آمد اور آيت اللہ مدرس جیسی عظیم علمی اور سیاسی شخیصتوں سے کسب فیض کیاکرتے تھے۔ چنانچہ آپ یہ سمجھ گئے تھے آئيينی انقلاب اور خاص طورپر رضاخان کے برسراقتدار آنے کے بعد کی ذلت آمیزصورت حال سے نجات کا واحد راستہ حوزہ علمیہ کی بیداری اور علما کے ساتھ عوام کا معنوی رابطہ ہے ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ نے اپنے مقدس اور الہی مشن کی خاطر 1328 ہجری شمسی ( 1950 ۔ 1949 ) میں آیت اللہ مرتضي حایری کے تعاون سے حوزہ علمیہ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاح کا لائحہ عمل تیار کرکے آیت اللہ العظمی بروجردی کو پیش کیا۔  اس اقدام کا حضرت امام خمینی رحمت اللہ کے شاگردوں اور بیدار طلبہ نے بھرپورخیرمقدم کیا اور اس کی زبردست حمایت کی ۔ 16 مہر 1341( 8 اکتوبر 1962 ) کو صوبائی ضلعی کونسلوں کا بل امیر اسداللہ کی کابینہ میں پاس ہوا جس کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے کے لئے امیدوار کے مسلمان ہونے، قرآن کریم کے ذریعہ حلف اٹھانے، رائےدہندگان اور خود امیدوار کے لئے مرد ہونے کی شرط ختم کردی گئ البتہ خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے کی آزادی کچھ دیگر مقاصد پر پردہ ڈالنے کے لئے تھی۔ پہلی دوشرطوں کو ختم کرنے کا مقصد بہائی عناصر کوملک کے معاملات میں مکمل طورپر دخیل کرنے کو قانونی شکل دینا تھا کیونکہ شاہ کے لئے امریکہ کی حمایت کی شرط یہ تھی کہ ایران اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے اور ایران کے تینوں اہم اداروں یعنی مجریہ، مقننہ اورعدلیہ میں سامراجی مسلک بہائيت کے پیروکاروں کی موجودگي اسرائیل کے ساتھ ایران کے تعلقات میں فروغ کویقینی بناسکتی تھی۔ البتہ حکومت نے اس بل کے تعلق سےحالات کا اندازہ لگانے میں سخت غلطی کی چنانچہ اس بل کی منظوری کی خبر شائع ہوتےہی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نےقم اورتہران کے بزرگ علماء سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد بھرپور احتجاج کیا ۔ شاہی حکومت کے عزائم سے پردہ ہٹانے اوراس حساس صورت حال میں علما اور حوزہ علمیہ کی خطیر ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے بہت ہی اہم کرداراداکیا ۔ شاہ اور وزیراعظم اسداللہ علم کے نام علما اور حوزہ علمیہ کے خطوط اور کھلے مراسلوں نے پورے ملک میں شاہی حکومت کے اس نئے قانون کے خلاف احتجاجی لہردوڑادی۔ شاہ اور وزیراعظم کے نام حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ٹیلی گراموں کا لب و لہجہ بہت ہی تند اور سخت تھا ۔ ایک ٹیلی گرام میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ فرماتےہیں کہ میں تمہیں ایک بار پھر نصیحت کرتاہوں کہ خداوند متعال کی اطاعت اور بنیادی آئيين کی پیروی کرو اور قرآن، علما قوم اور مسلمان زعما کے احکام کی خلاف ورزی اور بنیادی آئيين سے سرپیچی کے برے انجام سے ڈرو اور جان بوجھ کر اور بلاسبب ملک کو خطرے میں مت ڈالو بصورت ديگر علما اسلام تمھارے بارے میں اپنے نظریے بیان کرنے سے گریزنہیں کریں گے ۔
بہرحال صوبائی اورضلعی کونسلوں کا قضیہ ایرانی قوم کے لئے ایک اچھا تجربہ تھا خاص طورپر اس لئے کہ اس واقعے میں ایرانی قوم نے ایک ایسی شخصیت کو بھی پہچان لیا جو امت مسلمہ کی قیادت کے لئے ہرجہت سے مناسب تھی ۔
صوبائي اورضلعی کونسلوں کی تشکیل میں ناکامی کے باوجود شاہ پر امریکہ کے مجوزہ نام نہاد اصلاحی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے واشنگٹن کا دباؤ جاری رہا۔ شاہ نے دی ماہ 1341 ہجری شمسی (1963 ۔1962 ) کو انقلاب سفید کے نام پر چھ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ریفرنڈم کرائے جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایک بارپھر میدان میں آگئے اور اس سلسلے میں حکمت عملی تیار کرنے کے لئے اور علما قم کا اجلاس بلایا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی تجویز پر شاہ کے اقدامات کے خلاف بطور احتجاج عید نوروز نہ منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس سلسلے میں جو اعلامیہ جاری کیا اس میں شاہ کے انقلاب سفید کو انقلاب سیاہ سے تعبیر کیا گیا اور کہاگیا کہ شاہ کے یہ سارے اقدامات امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل کے لئے ہیں ۔
شاہ نے امریکہ کو یہ اطمینان دلا رکھا تھا کہ ایرانی عوام اس پروگرام کے حق میں ہیں ۔ شاہ کے خلاف علما کا احتجاج اس کے لئے کافی مہنگا ثابت ہورہاتھا۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ شاہ کی پرواہ کئے بغیر کھلے عام شاہ کو اسرائیل کا اتحادی قراردیتے تھے اوراس کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے لوگوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے تھے۔  آپ نے بارہ فروردین 1342 (1 اپریل 1963 ) کو اپنے ایک خطاب میں علما قم ونجف اوردیگراسلامی ملکوں کے علما کی طرف سے شاہ کے ظالمانہ اقدامات پر اختیارکی گئی خاموشی پر کڑی تنقید کی اور فرمایاکہ آج خاموشی کامطلب ظالم وجابرحکومت کا ساتھ دیناہے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس کے اگلے دن یعنی 13 فروردین 1342 (2 اپریل 1963) اپنا مشہور و معروف اعلامیہ جاری کیا جس کاعنوان تھا شاہ سے دوستی یعنی تباہی وبربادی میں تعاون ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے کلام میں حیرت انگیز تاثیر اور مخاطبین پر آپ کی باتوں کے گہرے اثر کا راز صحیح فکر، مضبوط نظریئے اور عوام کے ساتھ صداقت میں تلاش کرناچاہئے۔ چنانچہ لوگ بھی آپ کے فرمان پر ہمہ وقت اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتے تھے ۔1342 ہجری شمسی (1964 ۔1963 ) کانیا سال عیدنوروزکے بائيکاٹ سے شروع ہوا اور مدرسہ فیضیہ کے مظلوم طلبہ کے خون سے رنگین ہو گیا۔ شاہ، امریکہ کی مرضی کےاصلاحی پروگرام کو نافذ کرنے پر مصرتھا اور حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ اس سازش سے لوگوں کو آگاہ کرنے اورعوام کو امریکہ کی مداخلت اور شاہ کی خیانت کےمقابلے میں ڈٹ جانے پر راضی کر رہے تھے ۔ چودہ فروردین 1342(3 اپریل 1963 ) آیت اللہ العظمی حکیم نے نجف اشرف سے ایران کے علما کے نام اپنے ٹیلی گرام میں فرمایاکہ سب کے سب ایک ساتھ نجف اشرف کی طرف ہجرت کریں۔ یہ تجویزعلما کی جان کی حفاظت اور حوزہ کے تقدس کو بچانے کے لئے پیش کی گئي تھی لیکن حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آیت اللہ العظمی حکیم کے ٹیلی گرام کاجواب ارسال کردیا جس میں کہاگياتھا کہ علما کا ایک ساتھ نجف چلاجانا اور حوزہ (قم کے دینی مرکز) کو خالی چھوڑدینا مناسب نہیں ہے ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے 12اردیبہشت1342 (1922 ۔1921 )  کو شہدائے فیضیہ کے چہلم کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں غاصب اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کا ساتھ دینے کے لئے علما اور ایرانی عوام سے اپیل کی اور شاہ اوراسرائیل کے درمیان ہوئے معاہدوں کی مذمت کی.

پندرہ خرداد(4جون) کی تحریک

1342 ہجری قمری (1922 ۔1921 ) کا محرم جو خرداد کےمہینے سے مصادف تھا آن پہنچا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس مہینے کو شاہ کی ظالم حکومت کے خلاف عوام کی تحریک میں تبدیل کردیا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے عاشورہ کی شام مدرسہ فیضیہ میں ایک تاریخی خطاب کیا جو پندرہ خرداد (چارجون) کی تحریک کا نقطہ آغازثابت ہوا۔ حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے اسی خطاب میں بلند آواز کے ساتھ شاہ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ اس طرح کے کاموں سے بازآجا۔ تجھے بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ میں نہیں چاہتاکہ ایک دن سب لوگ تیرے جانے پر شکراداکريں ... اگر ڈکٹیٹ کرکے سب کچھ تجھ سے کہلوایا جاتا ہے تو تو اس پر ذراغور کر. سن لے میری نصیحت . شاہ اور اسرائیل کے درمیان ایسا کیا رابطہ ہے کہ ساواک کہتی ہے کہ اسرائيل کے بارے میں کچھ مت بولو. کیا شاہ اسرائيلی ہے ؟
شاہ نے تحریک کو کچلنے کا حکم جاری کیا ۔سب سے پہلے چودہ خرداد(3جون) کی شام کو حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتارکیا گیا اور پھر پندرہ خرداد(چارجون) کو صبح صادق سے پہلے ساڑھے تین بجے تہران سے آئے ہوئے سیکڑوں کمانڈوز حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے گھر کا محاصرہ کرلیتے ہیں اور جس وقت آپ نمازشب میں مشغول تھے آپ کوگرفتارکرلیا جاتا ہے۔ خوفزدہ شاہی کمانڈوز انتہائی سراسیمگی کے عالم میں آپ کو قم سے تہران منتقل کرنے کے بعد پہلے تو آپ کو فوجی افسروں کی جیل ميں بند کردیتے ہیں پھر اسی دن شام کو قصر نامی جیل میں منتقل کردیا جاتاہے۔ پندرہ خرداد (چارجون)کی صبح ہی تہران کے علاوہ مشہد شیراز اور دیگرشہروں میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی گرفتاری کی خبر تیزی کے ساتھ پھیل گئی اور قم میں بھی یہی صورت حال پیداہوگئی۔ شاہ کے سب سے قریبی ساتھی جنرل حسین فردوست اپنی سرگذشت میں پندرہ خرداد (چارجون)کی تحریک کوکچلنے میں امریکہ کے کہنہ کار سفارتی اور خفیہ اہلکاروں کے اقدامات اور قریبی تعاون نیز عین اس موقع پر شاہ، دربار، فوج اور ساواک کے سربراہان و اعلی افسران کے خوف وہراس کا ذکر کرتا ہے اور اس کی منظر کشی کرتا ہے کہ شاہ اور اس کے جنرل کس طرح دیوانہ وار اس تحریک کو کچلنے کا حکم جاری کر رہے تھے ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو پندرہ دنوں تک قصر جیل میں رکھنے کے بعد عشرت آباد فوجی چھاؤنی میں منتقل کردیا کیا ۔
تحریک کے رہبر کی گرفتاری اور عوام کے وحشیانہ قتل عام کے بعد بظاہر پندرہ خرداد 1342(5 جون 1963 ) کی تحریک کچل دی گئی ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے قید کے دوران شاہ کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے ایک بھی سوال جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ ایران کی حکومت اور عدلیہ غیرقانونی ہے ۔ 18 فروردین 1343( 7 اپریل 1964) کی شام کو کسی پیشگي اطلاع کے بغیر حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کوآزاد کرکے قم ان کے گھر پہنچا دیا گيا۔ عوام کو جیسے ہی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی رہائي کی اطلاع ملی پورے شہر میں خوشی کی لہر دوڑگئ اورمدرسہ فیضیہ سمیت قم شہر کے گوشہ وکنارمیں کئي دنوں تک جشن منایاگیا۔ پندرہ خرداد کے واقعے اور شہدا کی پہلی برسی کے موقع پر حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ اوردیگر مراجع کرام کے مشترکہ بیان میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اورحوزہ علمیہ قم نے بھی ایک علاحدہ بیان جاری کرکے پندرہ خرداد کے واقعہ کی یاد میں اس دن عام سوگ منانے کا اعلان کیا ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے چار آبان 1343 (26 اکتوبر 1964) کو اپناانقلابی بیان جاری کیا اور اس میں تحریر فرمایا کہ دنیا کو جان لینا چاہئے کہ ایرانی عوام اور پوری دنیا کے مسلمان آج جس طرح کی بھی مشکلات اور مصائب میں گھرے ہیں اس کا باعث امریکہ اور بیرونی طاقتیں ہیں، مسلمان اقوام کو بیرونی طاقتوں سے عام طور پر اور امریکہ سے خاص طورپر نفرت ہے. یہ امریکہ ہی ہے جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کرتاہے. یہ امریکہ ہی ہے جو اسرائیل کومضبوط بنارہاہے تاکہ عرب مسلمان بے گھر ہوجائيں۔
کیپچولیشن بل کے خلاف حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کےبیان کےباعث اسی سال آبان( نومبر) کے مہینے میں ایک اور تحریک کاآغازہوگيا ۔
13 آبان 1343 (4 نومبر 1964) کی صبح کو ایک بارپھر مسلح کمانڈوز نے جو تہران سے قم پہنچے تھے حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے گھرکا محاصرہ کرلیا اور حیرت کی بات یہ کہ ان کو ٹھیک اسی حالت میں گرفتارکیا گيا جس حالت میں ایک سال پہلے گرفتارکیاگیا یعنی جس وقت آپ نمازشب میں مشغول تھے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو گرفتار کرکے سخت پہرے میں مہرآباد ہوائی اڈے پر منتقل کردیا گيا اور پھر وہاں سے ایک فوجی طیارے کے ذریعہ جو پہلے سے تیارکھڑا تھا آپ کو ترکی جلاوطن کر دیا گیا۔ اسی دن شام کو  ساواک نے یہ خبر اخبارات میں شائع کی کہ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو ملکی سالمیت کے خلاف اقدام کرنے کی وجہ سے جلاوطن کردیاگیا ۔ اس خبرکے شایع ہوتے ہی پورے ملک میں گھٹن کےماحول کے باوجود احتجاجی مظاہروں اور عام ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دوکانیں اورتجارتی مراکزبند  ہو گئے اور عوامی، سیاسی اور مذھبی حلقوں کی جانب سے عالمی اداروں اور مراجع تقلید کو احتجاجی مراسلے اور ٹیلیگرام بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دوران دینی مراکز اور مدارس میں دروس بھی بند رہے۔ ترکی میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی جلاوطنی کی مدت گیارہ مہینے  کی رہی۔ اس درمیان شاہی حکومت نے انتہائی سختی کے ساتھ انقلابی عناصرکو کچلنے میں کوئی کسر نہيں چھوڑی اور حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی عدم موجودگي میں امریکہ کی مرضی کی اصلاحات کے پروگرام پر تیزی کے ساتھ عمل کرناشروع کردیا۔ ترکی میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی جلاوطنی سے حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو یہ بہترین موقع ملا کہ آپ اپنی معروف فقہی کتاب تحریرالوسیلہ کی تدوین کا کام شروع کریں۔
تیرہ مہر 1343(5 اکتوبر 1964) کو امام خمینی (رہ) اپنے بڑے بیٹے آیت اللہ الحاج آقا مصطفی خمینی کے ہمراہ ترکی سے عراق بھیج دئے گئے ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ بغداد پہنچنے کے بعد کاظمین ، سامرا اور کربلا میں ائمہ اطہارعلہیم السلام اور شہدائے کربلا کی زيارت کے لئے روانہ ہوگئے اور ایک ہفتے کے بعد اپنی قیام گاہ یعنی نجف اشرف پہنچے۔ نجف اشرف میں آپ کے تیرہ سالہ قیام کا آغاز ایسے عالم میں ہوا کہ اگرچہ وہاں بظاہر ایران اور ترکی کی طرح بندش اور گھٹن نہیں تھی لیکن دشمن کے محاذ کی طرف سے مخالفتوں ، آپ کے راستے میں رکاوٹوں اور طعنہ زنی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور نہ صرف کھلے دشمنوں بلکہ عالم نمانام نہاد اور دنیا پرست عناصر کی طرف سے حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے خلاف اقدامات اور بیان بازیاں اس قدر وسیع پیمانے پر اور اذیت ناک حد تک پہنچ گئي تھیں کہ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنے تمام تر صبر و تحمل کے باوجود جس کے لئے آپ خاص شہرت رکھتے تھے بارہا ان برسوں کو اپنی جدوجہد کے انتہائي سخت اورتلخ ترین سال سے تعبیر کیا لیکن یہ  مصائب و آلام آپ کو آپ کو اپنے مشن سے باز نہ رکھ سکے ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنے دروس خارج فقہ کا سلسلہ آبان ماہ 1344(نومبر1965) میں نجف اشرف میں واقع مسجد شیخ انصاری میں شروع کیا جو عراق سے پیرس کے لئے آپ کی ہجرت تک جاری رہا ۔
آپ کے دروس خارج کو کیفیت و کمیت کے اعتبار سے نجف اشرف میں دئے جانے والے دیگر دروس خارج میں اعلی ترین دروس میں شمار کیا جاتا تھا ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے نجف اشرف پہنچتے ہی ایران میں عوام اور اپنے انقلابی ساتھیوں کے نام خطوط اور بیانات ارسال کرکے انقلابیوں سے اپنے روابط کو برقرار رکھا اور انہیں ہر مناسبت پر پندرہ خرداد کی تحریک کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی تلقین فرمائی ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے جلا وطنی کے برسوں میں تمام مصائب و مشکلات کے باوجود کبھی بھی اپنی جد وجہد سے ہاتھ نہیں کھینچا اور اپنی تقریروں اور پیغامات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں کامیابی و فتح کی امید زندہ رکھی ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے 19 مہر 1347 کو فلسطینی تنظيم الفتح کے نمائندے سے اپنی گفتگو میں عالم اسلام کے مسائل اور ملت فلسطین کے جہاد کے بارے میں اپنے موقف اور نظریات کی تشریح فرمائی اور اپنے اسی انٹرویو میں فرمایا کہ زکات کی رقومات میں سے کچھ حصہ فلسطینی مجاہدین سے مختص کرنا واجب ہے ۔1969 میں ایران کی شاہی حکومت اور عراق کی بعثی حکومت کے درمیان دونوں ملکوں کی آبی حدود کے مسئلے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ عراقی حکومت نے عراق میں موجود ایرانیوں کی ایک بڑی تعداد کو بدترین حالات میں عراق سے نکال دیا۔
عراق کی حکمراں بعث پارٹی  نے اس بات کی بہت زيادہ کوشش کی کہ وہ ایران کی شاہی حکومت سے امام خمینی (رہ) کی دشمنی سے فائدہ اٹھائے۔ امام خمینی (رہ) کی چار برسوں تک تدریس سعی و کوشش نے کسی حد تک حوزہ علمیہ نجف کے ماحول کو بدل دیا تھا اور اس وقت تک ایران کے اندر انقلابیوں کے علاوہ خود عراق ، لبنان اور دیگر اسلامی ملکوں میں بھی امام خمینی کے بیشمار حامی پیدا ہوگئے تھے جو آپ کی تحریک کو اپنے لئے نمونہ اور آئیڈیل سمجھتے تھے ۔
حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ اور ( 1350 ۔ 1356 ) جد جہد کا تسلسل  

1350 کے دوسرے نصف میں عراق کی بعثی حکومت اور شاہ کے درمیان اختلافات اور بھی شدت اختیار کرگئے اور عراق میں موجود ایرانیوں کو وہاں سے نکالا جانے لگا اور بہت سے ایرانی بے گھر کئے جانے لگے ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے عراقی صدر کے نام اپنے ایک ٹیلی گرام میں عراقی حکومت کے ان اقدامات کی سخت مذمت کی ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس صورت حال میں خود بھی عراق سے نکلنے کا فیصلہ کیا لیکن بغداد کے حکام نے حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے عراق سے چلے جانے کے بعد کے نتائج کو بھانپ لیا اور انہیں عراق سے نکلنے کی اجازت نہیں دی ۔
پندرہ خرداد 1354 ہجری شمسی مطابق چار جون سن انیس سو پچہتر عیسوی کو قم کے مدرسۂ فیضیہ میں ایک بار پھر انقلابی طلباء نے ایک شاندار احتجاجی اجتماع منعقد کیا جو اجتماع تحریک کی شکل اختیار کرگیا ۔  دو دنوں تک جاری اس ایجیٹیشن کے دوران درود بر خمینی اور مرگ بر پہلوی، خمینی زندہ باد ، پہلوی حکومت مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے ۔
شاہ نے اپنی مذہب مخالف پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے اسفند 1354  مارچ انیس سو پچہتر ہجری شمسی کو ملک کی سرکاری تاریخ کو بیہودہ طریقے سے پجری کےبجائے ہخامنشی شاہوں کی سلطنت کے آغاز کی تاریخ سے تبدیل کردیا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنے سخت رد عمل میں فتوی جاری فرمایا کہ بے بنیاد شہنشاہی تاریخوں سے استفادہ کرنا حرام ہے ۔ اس موہوم تاریخی مبدا اور آغاز سے بطور کلنڈر استفادے کی حرمت کے فتوے کا ایران کے عوام نے اسی طرح سے خیر مقدم کیا جس طرح سے رستاخیز پارٹی کی حرمت کے فتوی کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور یہ دونوں ہی شاہی اقدامات شاہ کے لئے ذلت و رسوائی کا سبب بنے اور شاہی حکومت نے مجبور ہو کر انیس سو اٹھہر میں شاہنشاہی کیلنڈر سے پسپائی اور اسے ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اسلامی انقلاب کا عروج اور عوامی تحریک

 امام خمینی (رہ) نے جو دنیا اور ایران کے حالات پر انتہائي گہری نظر رکھے ہوئے تھے ہاتھ آئے موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور آپ نے مرداد ماہ 1356 مطابق انیس سو ستتر میں اپنے ایک پیغام میں اعلان فرمایا کہ  اب ملکی اور غیر ملکی حالات اور شاہی حکومت کے جرائم کے عالمی اداروں اور غیر ملکی اخبارات میں بھی منعکس ہونے کی بنا پر علمی حلقوں، محب وطن شخصیتوں، ملک و بیرون ملک ایرانی طلباء اور اسلامی انجمنوں کو جہاں جہاں بھی ہوں یہ چاہئے کہ اس موقع سے فورا" فائدہ اٹھائیں اور کھل کر میدان میں آجائیں ۔یکم آبان  1356  مطابق انیس سو ستتر کو آیت اللہ حاج آقا مصطفی خمینی کی شہادت اور ایران میں ان کے ایصال ثواب کے لئے منعقد مجالس اور پرشکوہ تعزيتی جلسے ایران کے حوزہ ہای علمیہ اور مذہبی حلقوں کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئے ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اسی وقت انتہائي حیران کن طریقے سے اس واقعہ کو خداوند عالم کے الطاف خفیہ سے تعبیر کیا ۔ شاہی حکومت نے روزنامہ اطلاعات میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی شان میں اہانت آمیز مقالہ شائع کرکے آپ سے انتقام لینے کی کوشش کی ۔اس مقالے کی اشاعت کے خلاف قم میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ، رواں دواں انقلابی تحریک کو مہمیز دینے کاباعث بنا۔ اس احتجاجی مظاہرے کے دوران متعدد انقلابی طلباء شہید اور زخمی ہوئے ۔ شاہ اس احتجاجی مظاہرے میں طلباء کا قتل عام کرنے کے بعد احتجاج کے بھڑکے ہوئے شعلوں کو خاموش نہیں کرسکا ۔

حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی عراق سے پیرس ہجرت "

نیویارک میں ایران اور عراق کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو عراق سے نکالنے کا فیصلہ کیا گيا ۔ چوبیس ستمبر سن انیس سو اٹھتر  کو بعثی حکومت کے کارندوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے نجف میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔  اس خبر کے پھیلتے ہی ایران، عراق اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔چار اکتوبر کو حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نجف سے کویت کی سرحد کی جانب روانہ ہوئے کویت کی حکومت نے ایران کی شاہی حکومت کی ایماء پر آپ کو کویت کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ اس سے پہلے لبنان یا شام میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ہجرت کی باتیں گردش کررہی تھیں لیکن آپ نے اپنے بیٹے (حجۃ الاسلام حاج سید احمد خمینی ) سے مشورہ کرنے کے بعد پیرس جانے کا فیصلہ کیا اور چھے اکتوبر کو آپ پیرس پہنچ گئے ۔  دو دنوں کے بعد پیرس کے مضافاتی علاقے نوفل لوشاتو میں آپ ایک ایرانی کے گھر میں رہائش پذیر ہوگئے۔ الیزہ پیلیس کے عہدہ داروں نے فرانس کے صدر کا یہ پیغام حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو پہنچایا کہ انہیں کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ آپ نے بھی اپنے سخت ردعمل میں فرمایا کہ اس طرح کی بندشیں ڈیموکریسی کے دعووں کے منافی ہیں اور اگر میں مجبور ہوا کہ اس ایئیرپورٹ سے اس ایئرپورٹ اور ایک ملک سے دوسرے ملک (مسلسل) ہجرت کرتا رہوں پھر بھی اپنے مشن سے دستبردار نہیں ہوں گا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے نومبر انیس سو اٹھتر میں انقلابی کونسل تشکیل دی۔  شاہ سلطنتی کونسل کی تشکیل اور بختیار کی حکومت کے لئے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد سولہ جنوری انیس سو اٹھتر کو ملک سے فرار ہو گیا ۔ شاہ کے فرار کی خبر تہران شہر اور پھر پورے ایران میں پھیل گئی اور لوگ یہ خبر سن کر جشن منانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ۔

وطن واپسی
جنوری انیس سو اٹھتر میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی وطن واپسی کی خبریں نشر ہونے لگیں۔ جو بھی سنتا خوشی سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں ۔ لوگوں نے 14 برسوں تک انتظار کی گھڑیاں گنی تھیں ۔ ساتھ ہی امام خمینی (رح) کے چاہنے والوں کو آپ کی جان کی سلامتی کے بارے میں بھی تشویش تھی کیونکہ شاہ کی آلۂ کار حکومت نے پورے ملک میں ایمرجنسی لگا رکھی تھی۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنا فیصلہ کرلیا اور ایرانی قوم کے نام اپنے پیغامات میں فرمایا تھا کہ وہ چاہتے کہ ان مستقبل ساز اور فیصلہ کن ایام میں اپنے عوام کے درمیان رہیں ۔ بختیار کی حکومت نے جنرل ہایزر کی ہم آہنگی سے ملک کے تمام ہوائی اڈوں کو غیر ملکی پروازوں کے لئے بند کردیا تھا ۔  مگر بختیار کی حکومت نے بہت جلد پسپائی اختیار کرلی اور عوام کے مطالبات کے سامنے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔   امام خمینی (رہ) 12 بہمن 1357 ہجری شمسی مطابق یکم فروری 1979 کو  چودہ برسوں کی جلا وطنی کے بعد فاتحانہ انداز میں ایران واپس تشریف لائے۔ ایرانی عوام نے آپ کا ایسا عدیم المثال اور شاندار تاریخی استقبال کیا کہ مغربی خبر رساں ایجنسیاں بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکیں اور خود مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ تہران میں چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد نے امام خمینی (رہ) کا والہانہ استقبال کیا ۔

حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی رحلت ، وصال یار فراق یاران "

حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے مشن ، نصب العین ، نظریات اور وہ تمام باتیں جو لوگوں تک پہنچانی تھیں سب کچھ پہنچا دیا تھا اور عملی میدان میں بھی اپنی تمام ہستی اور پورا وجود الہی اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اب چار جون 1989 کو آپ اپنے کو اس عزيز ہستی کے وصال کے لئے آمادہ کررہے تھے کہ جس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ نے اپنی پوری عمر مبارک صرف کردی تھی اور ان کا قامت رعنا سوائے اس عظیم ہستی کے حضور کسی بھی طاقت کے سامنے خم نہیں ہوا اور ان کی آنکھوں نے اس محبوب ذات کے سوا کسی اور کے لئے اشک ریزي نہیں کی۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے عرفانی اشعار و غزلیں سب کی سب محبوب کے فراق کے درد و غم اور وصال محبوب کی تشنگي کے بیان سے ہی عبارت تھیں ۔  حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے وہ عظیم اور ان کے شیدائیوں کے لئے وہ جانکاہ لمحہ آن پہنچا ۔آپ نے خود اپنے وصیت نامے میں رقم فرمایا ہے : خدا کے فضل و کرم سے پرسکون دل، مطمئن قلب ، شاد روح اور پر امید ضمیر کے ساتھ بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے رخصت ہوتا ہوں اور ابدی منزل کی جانب کوچ کرتا ہوں۔ آپ لوگوں کی مسلسل دعاؤں کا محتاج ہوں اور خدائے رحمن و رحیم سے دعا کرتاہوں کہ اگر خدمت کرنے میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو مجھے معاف کردے اور قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں کوتاہی اور کمی کو معاف کرے گي اور پوری قوت، اور عزم و ارادے کے ساتھ آگے کی سمت قدم بڑھائے گی ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اپنی ایک غزل میں اپنی رحلت سے کئی سال قبل یہ شعر کہا تھا : 
                 " انتظار فرج از نیمہ خرداد کشم           سالہا می گذرد و حادثہ ہا می آید"


13 خرداد 1368 ہجری شمسی مطابق 3 جون 1989 کی رات 10 بج کر بیس منٹ کا وقت محبوب سے وصال کا لمحہ تھا وہ دل دھڑکنا بند ہوگیا جس نے لاکھوں اور کروڑوں دلوں کو نور خدا اور معنویت سے زندہ کیا تھا۔ اس کیمرے کی مدد سے جو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے چاہنے والوں نے اسپتال میں نصب کررکھا تھا آپ کی علالت ، آپریشن اور لقائے حق کے لمحات کو ریکارڈ کیا گيا۔ جس وقت ان ایّام کی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے معنوی اور پرسکون حالات کے محض چند گوشوں کی متحرک تصویریں ٹیلی ویژن سے نشر ہوئیں لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور دلوں پر یہ تصویریں اتنا گہرا اثر چھوڑ گئیں کہ جن کا سمجھانا اور بیان کرنا ممکن نہیں مگر یہ کہ کوئی خود اس موقع پر  موجود رہ کر ان معنوی کیفیات کو درک کرے۔ آپ کے ہونٹ مسلسل ذکر خدا میں مصروف تھے ۔ زندگي کی آخری راتوں میں اور اس وقت جب آپ کے کئی بڑے آپریشن ہوچکے تھے عمر بھی 87 برس کی تھی آپ نماز شب (تہجد) بجا لاتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ۔ عمر کے آخری لمحات میں آپ کے چہرے پر غیر معمولی اور روحانی و ملکوتی اطمینان و سکون تھا۔ ایسے معنوی حالات میں آپ کی روح نے ملکوت اعلیٰ کی جانب پرواز کی۔ جب حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت جانگداز کی خبر نشر ہوئی گویا ایک زلزلہ آگیا۔ لوگوں میں ضبط کا یارا نہ رہا اور پوری دنیا میں وہ لوگ جو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے محبت کرتے تھے رو پڑے، ایران سمیت پوری دنیا میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے چاہنے والوں میں نالہ و شیون کا شور تھا ۔ کوئی بھی اس عظیم سانحے کے پہلوؤں اور عوام کے جذبات کو بیان کرنے کی سکت و توانائی نہیں رکھتا ۔ ایرانی عوام اور انقلابی مسلمان بجاطور پر اس طرح کا سوگ اور غم منارہے تھے۔ اپنے رہبر و قائد کو آخری رخصت اور انہیں الوداع کہنے کے لئے سوگواروں کا اتنا بڑا سیلاب تاریخ نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ ان سوگواروں نے ایسی ہستی کو الوداع کہا کہ جس نے ان کی پائمال شدہ عزت کو دوبارہ بحال کردیا تھا جس نے ظالم و جابر شاہوں اور امریکی و مغربی لیڈروں کو پسپائي اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو عزت و وقار عطا کیا تھا۔ اسلامی جمہوری نظام کی تخلیق کی تھی ۔ جس کی بدولت ایرانی مسلمان  دنیا کی جابر اور شیطانی طاقتوں کے مد مقابل اٹھ کھڑے ہوئے اور دس برسوں تک بغاوت و کودتا جیسی سینکڑوں سازشوں اور ملکی و غیر ملکی آشوب و فتنہ کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے رہے  اور آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران تاریخ شجاعت رقم کی۔ جبکہ مد مقابل ایسا دشمن تھا جس کی مشرق و مغرب کی دونوں بڑی طاقتیں وسیع حمایت کررہی تھیں۔
لوگوں کا محبوب قائد ، مرجع تقلید اور حقیقی اسلام کا منادی ان سے جدا ہوگیا تھا ۔
جو لوگ ان مفاہیم کو درک نہیں کرسکے اور یہ سارے واقعات ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں اگر حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین اور تشییع جنازہ کی تصویریں اور فلمیں دیکھیں اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کی خبر سن کر آپ کے دسیوں چاہنے والوں اور شیدائیوں کی حرکت قلب اچانک رک جانے اور ان کی موت واقع ہوجانے اور اس سانحے کی تاب نہ لانے کے واقعات سنیں اور تشییع جنازے کے دوران شدت غم سے سینکڑوں بیہوش سوگواروں کو لوگوں کے ہاتھوں اسپتالوں اور طبی مراکز تک پہنچائے جانے کے مناظر، تصویروں اور فلموں میں دیکھیں تو ان کی توصیف کرنے سے عاجز رہ جائیں گے لیکن جنہیں عشق حقیقی کی معرفت ہے اور جنہوں نے عشق کا تجربہ کیا ان کے لئے یہ ساری باتیں اور واقعات سمجھ لینا مشکل نہیں ہے ۔ حقیقت میں ایران کے عوام حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے عاشق تھے اور انہوں نے آپ کی پہلی برسی کے موقع پر کتنا خوبصورت نعرہ انتخاب کیا تھا "خمینی سے عشق تمام خوبیوں اور اچھائیوں سے عشق ہے"
بہرحال چودہ خرداد 1368 مطابق چار جون 1989 ماہرین کی کونسل نے اپنا اجلاس تشکیل دیا اور حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے توسط سے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا وصیت نامہ پڑھے جانے کے بعد کہ جس میں دو گھنٹے لگے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور رہبر انقلاب اسلامی کے تعین کے لئے تبادلۂ خیال شروع ہوا اور کئی گھنٹوں کے صلاح و مشورے کے بعد حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو، جو  اس وقت اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر تھے  اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے قریبی شاگرد، اسلامی انقلاب کی ممتاز شخصیتوں اور پندرہ خرداد کی تحریک کے رہنماؤں میں شمار کئے جاتے تھے اور جنہوں نے دیگر انقلابی جانبازوں کے ہمراہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کے تمام مراحل میں ہر طرح کی سختیوں اور مصائب و آلام کا سامنا کیا تھا، اتفاق آراء سے اس عظیم و خطیر ذمہ داری کے لئے منتخب کیا گيا مغربی ممالک اور ملک کے اندر ان کے حمایت یافتہ عناصر حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کو شکست دینے کی برسوں کی کوششوں کےبعد مایوس ہوچکے تھے اور وہ اس امید میں تھے کہ امام کی رحلت کے بعد وہ اپنی سازشوں اور ناپاک منصوبوں میں کامیاب ہوسکیں گے لیکن ایرانی عوام کے فہم و فراست، ماہرین کی کونسل کے بروقت فیصلے اور اس فیصلے کی امام کے تمام پیروؤں اور چاہنے والوں کی طرف سے بھرپور حمایت سے انقلاب دشمن عناصر کی تمام امیدوں پر پانی پھیر گیا اور نہ فقط یہ کہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات سے ان کا مشن ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئي زندگی مل گئی۔  کہیں الہی افکار و نظریات اور حقائق کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے!

پندرہ خرداد 1368 مطابق 5 جون 1989 کے موقع پر تہران اور ایران کے دیگر شہروں اور قصبوں و دیہاتوں سے آئے ہوئے دسیوں لاکھ سوگواروں کا ایک سیلاب تھا جو تہران کے مصلائے بزرگ ( عیدگاہ ) میں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لوگ اس عظیم مرد مجاہد کو، جس نے اپنی تحریک اور انقلاب سے ظلم و ستم کے سیاہ دور میں انسانی اقدار و شرافت کی خمیدہ کمر کو استوار کردیا تھا اور دنیا میں خداپرستی اور پاک انسانی فطرت کی جانب واپسی کی تحریک کا آغاز کیا تھا، الوداع کہنے کے لئے آئے تھے۔ آپ کے جنازے کی آخری رسومات میں سرکاری رسومات کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آتا۔ ساری چیزیں عوامی اور عاشقانہ تھیں ۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیکر مطہر جو سبز تابوت میں تھا کروڑوں سوگواروں اور ماتم کنان عزاداروں کے ہاتھوں پر ایک نگینے کی مانند جلوہ نمائی کررہاتھا اور ہر کوئی اپنی زبان سے اپنے محبوب قائد سے وقت رخصت محو گفتگو تھا اور اشک غم بہارہا تھا ۔
درو دیوار پر سیاہ پرچم لگائے گئے تھے اور فضا میں چاروں طرف صرف تلاوت کی آواز سنائی دے رہی تھی اور جیسے ہی رات آئي ہزاروں شمعیں اس مشعل فروزاں کی یاد میں مصلّی بزرگ (عیدگاہ ) اور اس کے اطراف کے ٹیلوں پر روشن ہوگئیں۔ سوگوار و عزادار کنبے ان شمعوں کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور ان کی نگاہیں ایک نورانی بلندی پر مرکوز تھیں۔  بسیجیوں (رضاکاروں) کی فریاد "یاحسین" نے جو یتیمی کا احساس اپنے سینے میں لئے تھے اور اپنا سر و سینہ پیٹ رہے تھے ماحول کو عاشورائی بنادیا تھا اور چونکہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اب حسینیۂ جماران میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی دلنشین آواز نہیں سنائی دے گي اس لئے یہ غم انہیں مارے ڈال رہا تھا۔ لوگوں نے پوری رات مصلی بزرگ (عیدگاہ ) میں گزاری۔ 6 جون 1989 کی صبح ہوتے ہی دسیوں لاکھ سوگواروں نے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی گلپایگانی کی امامت میں اشکبار آنکھوں کے ساتھ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے پیکر مطہر پر نماز جنازہ پڑھی۔
12 بھمن 1357 ہجری شمسی مطابق یکم فروری 1979 کو حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی فاتحانہ وطن واپسی اور ان کے استقبال میں شاندار و عدیم المثال اجتماع اور پھر آپ کی آخری رسومات میں سوگواروں کا اس سے بھی عظیم اجتماع تاریخ کے حیران کن واقعات ہیں۔ خبر رساں ایجنسیوں نے یکم فروری سنہ 1979 کو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وطن واپسی کے موقع پر استقبال کے لئے آنے والے عاشقوں اور انقلابیوں کی تعداد 60 لاکھ بتائي تھی اور آپ کے جنازے میں شریک سوگواروں کی تعداد 90 لاکھ بتائي جبکہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی دس سالہ قیادت کے دوران انقلاب سے دشمنی، آٹھ سالہ جنگ اور مغربی و مشرقی بلاکوں کی مشتکرہ سازشوں کی وجہ سے ایرانی عوام نے بے پناہ سختیاں اور مشکلات برداشت کیں اور اپنے بے شمار عزیزوں کو اس راہ میں قربان کیا تھا چنانچہ یہ فطری امر تھا کہ اب ان کا جوش و خروش بتدریج کم ہوجاتا لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا ۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے الہی مکتب میں پرورش پانے والی نسل کو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فرمان پر پورا یقین و اعتقاد تھا کہ اس دنیا میں زحمتوں ،مصیبتوں ، مشکلات ، فداکاری اور جانثاری کی عظمت ان بلند و گرانقدر مقاصد و اہداف کے برابر  ہوتی ہے ۔
حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے سوگواروں کا جم غفیر "بہشت زہرا" (تہران کے  قبرستان) میں تدفین کے وقت اپنے مقتدا کی آخری جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھا۔ لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑ رہے تھے جس کی وجہ سے آپ کی تدفین ناممکن ہوگئی تھی اس صورتحال کے پیش نظر ریڈیو سے باربار اعلان کیا گيا کہ لوگ اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں تدفین کی رسومات بعد میں انجام دی جائیں گی اور بعد میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔
ذمہ داران کو بخوبی علم  تھا کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا  لاکھوں عاشقان امام جو دیگر شہروں سے تہران کے لئے روانہ ہوچکے ہیں تشییع جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شامل ہو جائیں گے لہذا اسی دن سہ پہر کے وقت سوگواروں فرط غم کے عالم میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے جسد مطہر کی تدفین کی گئی۔  حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت بھی ان کی حیات مبارک کی مانند ایک اور بیداری و تحریک کا سرچشمہ ثابت ہوئی اور ان کی یاد، تعلیمات و افکار اور ان کا مشن زندہ جاوید بن گیا کیونکہ وہ ایک حقیقت تھے اور حقیقت ابدی و لافانی ہوتی ہے ۔

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 21:41| توسط غلام حیدر عابدی| |

حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام

امام حسن عسکری علیہ السلام

امام حسن عسکری کی ولادت اور بچپن کے بعض حالات

آپ کی کنیت اور آپ کے القاب

آپ کاعہدحیات اور بادشاہان وقت

چارماہ کی عمر اور منصب امامت

چارسال کی عمر میں آپ کا سفر عراق

امام حسن عسکری اور کمسنی میں عروج فکر

امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بادشاہان وقت کاسلوک اور طرزعمل

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت اور امام حسن عسکری کا آغاز امامت

اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ

امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپرمہر لگانا

حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کو شکست دینا

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور خصوصیات مذہب

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور عید نہم ربیع الاول

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پند سودمند

معتمد عباسی کی خلافت اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی گرفتاری

اسلام پر امام حسن عسکری کااحسان عظیم واقعہ قحط

امام حسن عسکری اور عبیداللہ وزیر معتمد عباسی

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت


  امام حسن عسکری کی ولادت اور بچپن کے بعض حالات

علماء فریقین کی اکثریت کااتفاق ہے کہ آپ بتاریخ ۱۰/ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری یوم جمعہ بوقت صبح بطن جناب حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں ملاحظہ ہوشواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصارص ۱۱۰ ، جلاء العیون ص ۲۹۵ ، ارشادمفید ص ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۶۳ ۔

   آپ کی ولادت کے بعد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی صلعم کے رکھے ہوئے ”نام حسن بن علی“ سے موسوم کیا (ینابع المودة)۔

 

آپ کی کنیت اور آپ کے القاب

 آپ کی کنیت ”ابومحمد“ تھی اورآپ کے القاب بے شمارتھے جن میں عسکری، ہادی، زکی خالص، سراج اورابن الرضا زیادہ مشہورہیں (نورالابصار ص ۱۵۰ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۲۵) ۔

آپ کالقب عسکری اس لئے زیادہ مشہور ہوا کہ آپ جس محلہ میں بمقام ”سرمن رائے“ رہتے تھے اسے عسکرکہاجاتاتھا اوربظاہراس کی وجہ یہ تھی کہ جب خلیفہ معتصم باللہ نے اس مقام پرلشکرجمع کیاتھا اورخو دب ھی قیام پذیرتھاتواسے ”عسکر“ کہنے لگے تھے، اورخلیفہ متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کومدینہ سے بلواکریہیں مقیم رہنے پرمجبورکیاتھا نیزیہ بھی تھا کہ ایک مرتبہ خلیفہ وقت نے امام زمانہ کواسی مقام پرنوے ہزار لشکر کامعائنہ کرایاتھا اورآپ نے اپنی دوانگلیوں کے درمیان سے اسے اپنے خدائی لشکر کا مطالعہ کرادیاتھا انہیں وجوہ کی بناپراس مقام کانام عسکر ہوگیاتھا جہاں امام علی نقی اورامام حسن عسکری علیہماالسلام مدتوں مقیم رہ کرعسکری مشہورہوگئے (بحارالانوارجلد ۱۲ ص ۱۵۴ ،وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۵ ،مجمع البحرین ص ۳۲۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ ، تذکرة ا لمعصومین ص ۲۲۲) ۔

 

آپ کا عہد حیات اور بادشاہان وقت

آپ کی ولادت ۲۳۲ ہجر ی میں اس وقت ہوئی جبکہ واثق باللہ بن معتصم بادشاہ وقت تھا جو ۲۲۷ ہجری میں خلیفہ بناتھا (تاریخ ابوالفداء) پھر ۲۳۳ ہجری میں متوکل خلیفہ ہوا(تاریخ ابن الوردی) جوحضرت علی اوران کی اولادسے سخت بغض وعنادرکھتاتھا، اوران کی منقصت کیاکرتا تھا (حیواة الحیوان وتاریخ کامل) اسی نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین کی زیارت جرم قراردی اوران کے مزارکوختم کرنے کی سعی کی (تاریخ کامل) اوراسی نے امام علی نقی علیہ السلام کوجبرامدینہ سے رمن رائے میں طلب کرالیا، (صواعق محرقہ) اورآپ کوگرفتارکراکے آپ کے مکان کی تلاشی کرائی (وفیات الاعیان) پھر ۲۴۷ ہجری میں مستنصربن متوکل خلیفہ وقت ہوا۔(تاریخ ابوالفداء)پھر ۲۴۸ ہجری میں مستعین خلیفہ بنا(ابوالفداء) پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا(ابوالفداء) اسی زمانے میں امام علیہ السلام کو زہرسے شہیدکردیاگیا (نورالابصار) پھر ۲۵۵ ہجری میں مہدی باللہ خلیفہ بنا(تاریخ ابن الوردی) پھر ۲۵۶ ہجری میں معتمدعلی اللہ خلیفہ ہوا(تاریخ ابوالفداء) اسی زمانہ میں ۲۶۰ ہجری میں امام علیہ السلام زہرسے شہیدہوئے (تاریخ کامل) ان تمام خلفاء نے آپ کے ساتھ وہی برتاؤکیا جوآل محمدکے ساتھ برتاؤکئے جانے کادستورچلاآرہاتھا۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

چارماہ کی عمر اور منصب امامت

          حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اور فرمایا کہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ کردیا(ارشادمفید ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ بحوالہ اصول کافی)۔

          علامہ ابن حجرمکی کاکہناہے کہ امام حسن عسکری، امام علی نقی کی اولادمیں سب سے زیادہ اجل وارفع اعلی وافضل تھے۔

 

چارسال کی عمرمیں آپ کاسفر عراق

 متوکل عباسی جوآل محمدکاہمیشہ سے دشمن تھا اس نے امام حسن عسکری کے والدبزرگوارامام علی نقی علیہ السلام کوجبرا ۲۳۶ ہجری میں مدینہ سے ”سرمن رائے“ بلالیا آپ ہی کے ہمراہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کوبھی جاناپڑااس وقت آپ کی عمرچارسال چندماہ کی تھی(دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔

 

یوسف آل محمدکنوئیں میں

 حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نہ جانے کس طرح اپنے گھرکے کنوئیں میں گرگئے، آپ کے گرنے سے عورتوں میں کہرام عظیم برپاہوگیا سب چیخنے اورچلانے لگیں ، مگرامام علی نقی علیہ السلام جومحونمازتھے، مطلق متاثرنہ ہوئے اوراطمینان سے نمازکااختتام کیا، اس کے بعدآ پ نے فرمایا کہ گھبراؤنہیں حجت خداکوکوئی گزندنہ پہنچے گی، اسی دوران میںدیکھاکہ پانی بلندہورہاہے اورامام حسن عسکری پانی میں کھیل رہے ہیں(معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۹) ۔

 

امام حسن عسکری اور کمسنی میں عروج فکر

آل محمدجوتدبرقرآنی اورعروج فکرمیں خاص مقام رکھتے ہیں ان میں سے ایک بلند مقام بزرگ حضرت امام حسن عسکری ہیں، علماء فریقین نے لکھاہے کہ ایک دن آپ ایک ایسی جگہ کھڑے رہے جس جگہ کچھ بچے کھیل میں مصروف تھے اتفاقا ادھرسے عارف آل محمدجناب بہلول داناگزرے، انہوں نے یہ دیکھ کرکہ سب بچے کھیل رہے ہیں اورایک خوبصورت سرخ وسفیدبچہ کھڑارورہاہے ادھرمتوجہ ہوئے اورکہاکہ اے نونہال مجھے بڑاافسوس ہے کہ تم اس لیے رورہے رہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں جوان بچوں کے پاس ہیں سنو! میں ابھی ابھی تمہارے لیے کھلونے لے کرآتاہوں یہ کہناتھا کہ اس کمسنی کے باوجودبولے، انانہ سمجھ ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیداکئے گئے ہم علم وعبادت کے لیے پیداکئے گئے ہیں انہوں نے پوچھاکہ تمہیں یہ کیونکرمعلوم ہواکہ غرض خلقت علم وعبادت ہے، آپ نے فرمایاکہ اس کی طرف قرآن مجید رہبری کرتاہے،کیاتم نے نہیں پڑھاکہ خدافرماتاہے ”افحسبتم انماخلقناکم عبثا“ الخ(پ ۱۸ رکوع ۶) ۔

 

کیاتم نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہم نے تم کوعبث (کھیل وکود) کے لیے پیداکیاہے؟ اورکیاتم ہماری طرف پلٹ کرنہ آؤگے یہ سن کربہلول حیران رہ گئے، اورکہنے پرمجبورہوگئے کہ اے فرزندتمہیں کیاہوگیاتھا کہ تم رورہے تھے گناہ کاتصورتوہونہیں سکتا کیونکہ تم بہت کم سن ہو، آپ نے فرمایاکہ کمسنی سے کیاہوتاہے میں نے اپنی والدہ کودیکھاہے کہ بڑی لکڑیوں کوجلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں استعمال کرتی ہیں میں ڈرتاہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اورکمسن لوگ استعمال نہ کئے جائیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصار ص ۱۵۰ ،تذکرة المعصومین ص ۲۳۰) ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بادشاہان وقت کاسلوک اور طرز عمل

جس طرح آپ کے آباؤ اجداد کے وجودکوان کے عہدکے بادشاہ اپنی سلطنت اورحکمرانی کی راہ میں روڑاسمجھتے رہے ان کایہ خیال رہاکہ دنیاکے قلوب ان کی طرف مائل ہیں کیونکہ یہ فرندرسول اوراعمال صالح کے تاجدارہیں لہذا ان کوانظارعامہ سے دوررکھاجائے ورنہ امکان قوی ہے کہ لوگ انہیں اپنا بادشاہ وقت تسلیم کرلیں گے اس کے علاوہ یہ بغض وحسدبھی تھا کہ ان کی عزت بادشاہ وقت کے مقابلہ میں زیادہ کی جاتی ہے اوریہ کہ امام مہدی انہیں کی نسل سے ہوں گے جوسلطنتوں کا انقلاب لائیں گے انہیں تصورات نے جس طرح آپ کے بزرگوں کو چین نہ لینے دیا اورہمیشہ مصائب کی آماجگاہ بنائے رکھااسی طرح آپ کے عہد کے بادشاہوں نے بھی آپ کے ساتھ کیا عہدواثق میں آپ کی ولادت ہوئی اورعہدمتوکل کے کچھ ایام میں بچپناگزرا،متوکل جوآل محمدکا جانی دشمن تھا اس نے صرف اس جرم میں کہ آل محمدکی تعریف کی ہے ابن سکیت شاعرکی زبان گدی سے کھنچوالی (ابوالفداء جلد ۲ ص ۱۴) ۔

 

اس نے سب سے پہلے توآپ پریہ ظلم کیاکہ چارسال کی عمرمیں ترک وطن کرنے پرمجبورکیا یعنی امام علی نقی علیہ السلام کوجبرا مدینہ سے سامرہ بلوالیا جن کے ہمراہ امام حسن عسکری علیہ السلام کولازماجاناتھا پھروہاں آپ کے گھرکی لوگوں کے کہنے سننے سے تلاشی کرائی اوراپ کے والدماجدکو جانوروں سے پھڑوا ڈالنے کی کوشش کی ، غرضکہ جوجوسعی آل محمدکوستانے کی ممکن تھی وہ سب اس نے اپنے عہدحیات میں کرڈالی اس کے بعداس کابیٹا مستنصرخلیفہ ہوا یہ بھی اپنے پاپ کے نقش قدم پرچل کرآل محمدکوستانے کی سنت اداکرتارہا اوراس کی مسلسل کوشش یہی رہی کہ ان لوگوں کوسکون نصیب نہ ہونے پائے اس کے بعدمستعین کاجب عہدآیاتواس نے آپ کے والدماجدکوقیدخانہ میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی سعی پیہم کی کہ کسی صورت سے امام حسن عسکری کوقتل کرادے اوراس کے لیے اس نے مختلف راستے تلاش کیے۔

 

ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس نے اپنے شوق کے مطابق ایک نہایت زبردست گھوڑاخریدا، لیکن اتفاق سے وہ کچھ اس درجہ سرکش نکلاکہ اس نے بڑے بڑے لوگوں کوسواری نہ دی اورجواس کے قریب گیا اس کوزمین پردے مارکرٹاپوں سے کچل ڈالا،ایک دن خلیفہ مستعین باللہ کے ایک دوست نے رائے دی کہ امام حسن عسکری کوبلاکرحکم دیاجائے کہ وہ اس پرسواری کریں، اگروہ اس پرکامیاب ہوگئے توگھوڑارام ہوجائے گا اوراگرکامیاب نہ ہوئے اورکچل ڈالے گئے تو تیرامقصدحل ہوجائے گا چنانچہ اس نے ایساہی کیا لیکن اللہ رے شان امامت جب آپ اس کے قریب پہنچے تووہ اس طرح بھیگی بلی بن گیاکہ جیسے کچھ جانتاہی نہیں بادشاہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا اوراس کے پاس اس کے  سواکوئی اورچارہ نہ تھا کہ گھوڑاحضرت ہی کے حوالے کردے (شواہدالنبوت ص ۲۱۰) ۔

 

  پھرمستعین کے بعدجب معتزباللہ خلیفہ ہواتواس نے بھی آل محمدکوستانے کی سنت جاری رکھی اوراس کی کوشش کرتارہا کہ عہدحاضرکے امام زمانہ اورفرزندرسول امام علی نقی علیہ السلام کودرجہ شہادت پرفائزکردے چنانچہ ایساہی ہوا اوراس نے ۲۵۴ ہجری میں آپ کے والدبزرگوارکوزہرسے شہیدکرادیا، یہ ایک ایسی مصیبت تھی کہ جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوبے انتہامایوس کردیا امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بعدامام حسن عسکری علیہ السلام خطرات میں محصور ہوگئے کیونکہ حکومت کارخ اب آپ ہی کی طرف رہ گیا آپ کوکھٹکالگاہی تھا کہ حکومت کی طرف سے عمل درآمدشروع ہوگیا معتزنے ایک شقی ازلی اورناصب ابدی ابن یارش کی حراست اورنظربندی میں امام حسن عسکری کودیدیا اس نے آپ کوستانے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا لیکن آخرمیں وہ آپ کامعتقدبن گیا،آپ کی عبادت گزاری اورروزہ داری نے اس پرایساگہرااثرکیا کہ اس نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرمعافی مانگ لی اورآپ کودولت سراتک پہنچادیا۔

 

علی بن محمد زیاد کابیان ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے ایک خط تحریرفرمایاجس میں لکھاتھا کہ تم خانہ نشین ہوجاؤ کیونکہ ایک بہت بڑافتنہ اٹھنے والاہے غرضکہ تھوڑے دنوں کے بعد ایک عظیم ہنگامہ برپاہوااورحجاج بن سفیان نے معتزکوقتل کردیا(کشف الغمہ ص ۱۲۷) ۔

 

امام حسن عسکری علیہ السلام

پھرجب مہدی باللہ کاعہدآیا تواس نے بھی بدستوراپناعمل جاری رکھا اورحضرت کوستانے میں ہرقسم کی کوشش کرتارہا ایک دن اس نے صالح بن وصیف نامی ناصبی کے حوالہ آپ کوکردیااورحکم دیا کہ ہرممکن طریقہ سے آپ کوستائے، صالح کے مکان کے قریب ایک بدترین حجرہ تھا جس میں آپ قیدکئے گئے صالح بدبخت نے جہاں اورطریقہ سے ستایا ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ آپ کوکھانا اورپانی سے بھی حیران اورتنگ رکھتاتھا آخرایساہوتارہاکہ آپ تیمم سے نمازادا فرماتے رہے ایک دن اس کی بیوی نے کہاکہ اے دشمن خدایہ فرزندرسول ہیں ان کے ساتھ رحم کابرتاؤ کر، اس نے کوئی توجہ نہ کی ایک دن کاذکرہے کہ بنی عباسیہ کے ایک گروہ نے صالح سے جاکردرخواست کی کہ حسن عسکری پرزیادہ ظلم کیاجاناچاہئے اس نے جواب دیاکہ میں نے ان کے اوپردوایسے شخصوں کومسلط کردیاہے جن کاظلم وتشدد میں جواب نہیں ہے، لیکن میں کیاکروں، کہ ان کے تقوی اوران کی عبادت گذاری سے وہ اس درجہ متاثرہوگئے ہیں کہ جس کی کوئی حدنہیں، میں نے ان سے جواب طلبی کی توانہوں نے قلبی مجبوری ظاہرکی یہ سن کروہ لوگ مایوس واپس گئے (تذکرة المعصومین ص ۲۲۳) ۔

 

غرضکہ مہدی کاظلم وتشددزوروں پرتھا اوریہی نہیں کہ وہ امام علیہ السلام پرسختی کرتاتھا بلکہ یہ کہ وہ ان کے ماننے والوں کوبرابرقتل کررہاتھا ایک دن آپ کے ایک صحابی احمدبن محمدنے ایک عریضہ کے ذریعہ سے اس کے ظلم کی شکایت کی، توآپ نے تحریرفرمایاکہ گھبراؤنہیں کہ مہدی کی عمراب صرف پانچ یوم باقی رہ گئی ہے چنانچہ چھٹے دن اسے کمال ذلت وخواری کے ساتھ قتل کردیاگیا(کشف الغمہ ص ۱۲۶) ۔اسی کے عہدمیں جب آپ قیدخانہ میں پہنچے توعیسی بن فتح سے فرمایاکہ تمہاری عمراس وقت ۶۵ سال ایک ماہ دویوم کی ہے اس نے نوٹ بک نکال کراس کی تصدیق کی پھرآپ نے فرمایا کہ خداتمہیں اولادنرینہ عطاکرے گا وہ خوش ہوکرکہنے لگا مولا!کیاآپ کوخدافرزندنہ دے گا آپ نے فرمایاکہ خداکی قسم عنقریب مجھے مالک ایسافرزندعطاکرے گا جوساری کائنات پرحکومت کرے گا اوردنیاکو عدل وانصاف سے بھردے گا (نورالابصارص ۱۰۱) پھرجب اس کے بعدمعتمدخلیفہ ہواتواس نے امام علیہ السلام پرظلم وتشدد واستبدادکا خاتمہ کردیا۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت اور امام حسن عسکری کا آغاز امامت

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزندامام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون سے کردی جوقیصرروم کی پوتی اورشمعون وصی عیسی کی نسل سے تھیں (جلاء العیون ص ۲۹۸) ۔

 

اس کے بعدآپ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری کودرجہ شہادت پرفائزہوئے۔

  آپ کی شہادت کے بعدحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کاآغازہوا آپ کے تمام معتقدین نے آپ کومبارک باددی اورآپ سے ہرقسم کااستفادہ شروع کردیا آپ کی خدمت میں آمدورفت اورسوالات وجوابات کاسلسلہ جاری ہوگیا آپ نے جوابات میں ایسے حیرت انگیزمعلومات کاانکشاف فرمایاکہ لوگ دنگ رہ گئے آپ نے علم غیب اورعلم بالموت تک کاثبوت پیش فرمایا اوراس کی بھی وضاحت کی کہ فلاں شخص کواتنے دنوں میں موت آجائے گی۔

 

  علامہ ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے والدسمیت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی راہ میں بیٹھ کریہ سوال کرناچاہاکہ باپ کوپانچ سو درہم اوربیٹے کو تین سوردرہم اگرامام دیدیں توتوسارے کام ہوجائیں، یہاں تک امام علیہ السلام اس راستے پرآپہنچے ،اتفاقا یہ دونوں امام کوپہچانتے نہ تھے امام خودان کے قریب گئے اوران سے کہاکہ تمہیں آٹھ سودرہم کی ضرورت ہے آؤتمہیں دیدوں دونوں ہمراہ ہولیے اوررقم معہودحاصل کرلی اسی طرح ایک اورشخص قیدخانہ میں تھا اس نے قیدکی پریشانی کی شکایت امام علیہ السلام کولکھ کربھیجی اورتنگ دستی کا ذکرشرم کی وجہ سے نہ کیا آپ نے تحریرفرمایاکہ تم آج ہی قید سے رہاہوجاؤگے اورتم نے جوشرم سے تنگدستی کاتذکرہ نہیں کیا اس کے متعلق معلوم کروکہ میں اپنے مقام پرپہنچتے ہی سودیناربھیج دوں گا۔

 

   چنانچہ ایساہی ہوا اسی طرح ایک شخص نے آپ سے اپنی تندستی کاکی شکایت کی آپ نے زمین کریدکرایک اشرفی کی تھیلی نکالی اوراس کے حوالہ کردی اس میں سودینارتھے۔

 

   اسی طرح ایک شخص نے آپ کوتحریرکیاکہ مشکوة کے معنی کیاہیں؟ نیزیہ کہ میری بیوی حاملہ ہے اس سے جوفرزندپیداہوگا اس کانام رکھ دیجیے آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ مشکوة سے مراد قلب محمدمصطفی صلعم ہے اورآخرمیں لکھ دیا ”اعظم اللہ اجرک واخلف علیک“ خداتمہیں جزائے خیردے اورنعم البدل عطاکرے چنانچہ ایساہی ہوا کہ اس کے یہاں مردہ بیٹاپیداہوا۔

 

          اس کے بعداس کی بیوی حاملہ ہوئی ، فرزندنرینہ متولدہوا، ملاحظہ ہو(شواہدالنبوت ص ۲۱۱) ۔

  علامہ ارلی لکھتے ہیں کہ حسن ابن ظریف نامی ایک شخص نے حضرت سے لکھ کردریافت کیاکہ قائم آل محمدپوشیدہ ہونے کے بعدکب ظہورکریں گے آپ نے تحریرفرمایا جب خداکی مصلحت ہوگی اس کے بعدلکھا کہ تم تپ ربع کاسوال کرنابھول گئے جسے تم مجھ سے پوچھناچاہتے تھے ، تودیکھوایساکروکہ جواس میں مبتلاہواس کے گلے میں ایة ”یانارکونی برداولاما علی ابراہیم“ لکھ کرلٹکادوشفایاب ہوجائے گاعلی بن زیدابن حسین کاکہناہے کہ میں ایک گھوڑاپرسوارہوکرحضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاکہ اس گھوڑے کی عمرصرف ایک رات باقی رہ گئی ہے چنانچہ وہ صبح ہونے سے پہلے مرگیا اسماعیل بن محمدکاکہناہے کہ میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا، اورمیں نے ان سے قسم کھاکرکہاکہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے آپ نے مسکراکر فرمایا کہ قسم مت کھاؤ تمہارے گھردوسودینار مدفون ہیں یہ سن کروہ حیران رہ گیا پھرحضرت نے غلام کوحکم دیاکہ انہیں سواشرفیاں دیدو عبدی روایت کرتاہے کہ میں اپنے فرزندکو بصرہ میں بیمار چھوڑکرسامرہ گیااوروہاں حضرت کوتحریرکیاکہ میرے فرزندکے لیے دعائے شفاء فرمائیں آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ ”خدااس پررحمت نازل فرمائے“ جس دن یہ خط اسے ملااسی دن اس کافرزندانتقال کرچکاتھا محمدبن افرغ کہتاہے کہ میں نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ کے ذریعہ سے سوال کیاکہ ”آئمہ کوبھی احتلام ہوتاہے“ جب خط روانہ کرچکاتو خیال ہواکہ احتلام تووسوسہ شیطانی سے ہواکرتاہے اورامام تک شیطان پہنچ نہیں سکتا بہرحال جواب آیاکہ امام نوم اوربیداری دونوں حالتوں میں وسوسہ شیطانی سے دورہوتے ہیں جیساکہ تمہارے دل میں بھی خیال پیداہواہے پھراحتلام کیونکرہوسکتاہے جعفربن محمدکاکہناہے کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرتھا، دل میں خیال آیا کہ میری عورت جوحاملہ ہے اگراس سے فرزندنرینہ پیداہوتوبہت اچھاہوآپ نے فرمایاکہ اے جعفرلڑکانہیں لڑکی ہوگی چنانچہ ایساہی ہوا(کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ

    جعفربن شریف جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعدحضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضرہوا ،اوران سے عرض کی کہ مولا! اہل جرجان آپ کی تشریف آوری کے خواستگارہیں آپ نے فرمایاکہ تم آج سے ایک سونوے دن کے بعدواپس جرجان پہنچوگے اورجس دن تم پہچوگے اسی دن شام کو میں بھی پہنچ جاؤں گا تم انہیں باخبرکردینا، چنانچہ ایساہی ہوا میں وطن پہنچ کرلوگوں کوآگاہ کرچکاتھا کہ امام علیہ السلام کی تشریف آوری ہوئی آپ نے سب سے ملاقات کی اورسب نے شرف زیارت حاصل کیا، پھرلوگوں نے اپنی مشکلات پیش کیں امام علیہ السلام نے سب کومطمئن کردیا اسی سلسلہ میں نصربن جابرنے اپنے فرزندکوپیش کیا، جونابیناتھا حضرت نے اس کے چہرہ پردست مبارک پھیرکراسے بینائی عطاکی پھرآپ اسی روزواپس تشریف لے گئے (کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔

 

  ایک شخص نے آپ کوایک خط بلاروشنائی کے قلم سے لکھا آپ نے اس کاجواب مرحمت فرمایااورساتھ ہی لکھنے والے کا اوراس کے باپ کانام بھی تحریرفرمادیا یہ کرامت دیکھ کروہ شخص حیران ہوگیااوراسلام لایا اورآپ کی امامت کامعتقدبن گیا(دمعہ ساکبہ ص ۱۷۲) ۔

 

امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپر مہر لگانا

          ثقة الاسلام علامہ کلینی اورامام اہلسنت علامہ جامی رقمطرازہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں ایک خوبصورت سایمنی آیا اوراس نے ایک سنگ پارہ یعنی پتھرکاٹکڑا پیش کرکے خواہش کی کہ آپ اس پراپنی امامت کی تصدیق میں مہرکردیں حضرت نے مہرنکالی اوراس پرلگادی آپ کااسم گرامی اس طرح کندہ ہوگیاجس طرح موم پرلگانے سے کندہ ہوتاہے ایک سوال کے جواب میں کہاگیاکہ آنے والامجمع ابن صلت بن عقبہ بن سمعان ابن غانم ابن ام غانم تھا یہ وہی سنگ پارہ لایاتھا جس پراس کے خاندان کی ایک عورت ام غانم نے تمام آئمہ طاہرین سے مہرلگوارکھی تھی اس کاطریقہ یہ تھا کہ جب کوئی امامت کادعوی کرتاتھا تووہ اس کولے کراس کے پاس چلی جاتی تھی اگراس مدعی نے پتھرپرمہرلگادی تواس نے سمجھ لیاکہ یہ امام زمانہ ہیں اوراگروہ اس عمل سے عاجزرہاتووہ اسے نظراندازکردیتی تھی چونکہ اس نے اسی سنگ پارہ پرکئی اماموں کی مہرلگوائی تھی ، اس لیے اس کالقب (صاحبةالحصاة) ہوگیاتھا ۔

 

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ جب مجمع بن صلت نے مہرلگوائی تواس سے پوچھاگیاکہ تم حضرت امام حسن عسکری کوپہلے سے پہچانتے تھے اس نے کہانہیں، واقعہ یہ ہواکہ میں ان کاانتظارکرہی رہاتھا کہ کہ آپ تشریف لائے میں لیکن پہچانتانہ تھا اس لیے خاموش ہوگیا اتنے میں ایک ناشناس نوجوان نے میری نظروں کے سامنے آکرکہاکہ یہی حسن بن علی ہیں ۔

 

راوی ابوہاشم کہتاہے کہ جب وہ جوان آپ کے دربارمیں آیاتومیرے دل میں یہ آیاکہ کاش مجھے معلوم ہوتاکہ یہ کون ہے، دل میں اس کاخیال آناتھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ مہرلگوانے کے لیے وہ سنگ پارہ لایاہے ، جس پرمیرے باپ داداکی مہریں لگی ہوئی ہیں چنانچہ اس نے پیش کیا اورآپ نے مہرلگادی وہ شخص آیة ”ذریة بعضہامن بعض“ پڑھتاہواچلاگیا (اصول کافی ،دمعہ ساکبہ ص ۱۶۴ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۱ ،طبع لکھنو ۱۹۰۵ ء اعلام الوری ۲۱۴) ۔

 

حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا

     مورخین کابیان ہے کہ عراق کے ایک عظیم فلسفی اسحاق کندی کویہ خبط سوارہواکہ قرآن مجیدمیں تناقض ثابت کرے اوریہ بتادے کہ قرآن مجیدکی ایک آیت دوسری آیت سے، اورایک مضمون دوسرے مضمون سے ٹکراتاہے اس نے اس مقصدکی تکمیل کے لیے ”تناقض القرآن“ لکھناشروع کی اوراس درجہ منہمک ہوگیا کہ لوگوں سے ملناجلنا اورکہیں آناجانا سب ترک کردیا حضرت امام حسن عسکر ی علیہ السلام کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس کے خبط کو دور کرنے کاارادہ فرمایا، آپ کاخیال تھا کہ اس پرکوئی ایسااعتراض کردیاجائے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سے اورمجبورااپنے ارادہ سے بازآئے ۔

 

    اتفاقا ایک دن آپ کی خدمت میں اس کاایک شاگرد حاضرہوا، حضرت نے اس سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسانہیں ہے جواسحاق کندی کو ”تناقض القرآن“ سے لکھنے سے بازرکھے اس نے عرض کی مولا! میں اس کاشاگردہوں، بھلااس کے سامنے لب کشائی کرسکتاہوں، آپ نے فرمایاکہ اچھایہ توکرسکتے ہو کہ جومیں کہوں وہ اس تک پہنچادو، اس نے کہاکرسکتاہوں، حضرت نے فرمایاکہ پہلے توتم اس سے موانست پیداکرو، اوراس پراعتبارجماؤ جب وہ تم سے مانوس ہوجائے اورتمہاری بات توجہ سے سننے لگے تواس سے کہناکہ مجھے ایک شبہ پیداہوگیاہے آپ اس کودورفرمادیں، جب وہ کہے کہ بیان کروتوکہناکہ ”ان اتاک ہذالمتکلم بہذاالقرآن ہل یجوزمرادہ بماتکلم منہ عن المعانی التی قدظننتہا انک ذہبتھا الیہا“

 

      اگراس کتاب یعنی قرآن کامالک تمہارے پاس اسے لائے توکیاہوسکتاہے کہ اس کلام سے جومطلب اس کاہو، وہ تمہارے سمجھے ہوئے معانی ومطالب کے خلاف ہو، جب وہ تمہارا یہ اعتراض سنے گا توچونکہ ذہین آدمی ہے فوراکہے گا کہ بے شک ایساہوسکتاہے جب وہ یہ کہے توتم اس سے کہناکہ پھرکتاب ”تناقض القرآن“ لکھنے سے کیافائدہ؟ کیونکہ تم اس کے جومعنی سمجھ کراس پراعتراض کررہے ہو ،ہوسکتاہے کہ وہ خدائی مقصودکے خلاف ہو، ایسی صورت میں تمہاری محنت ضائع اوربرباد ہوجائے گی کیونکہ تناقض توجب ہوسکتاہے کہ تمہارا سمجھاہوا مطلب صحیح اورمقصود خداوندی کے مطابق ہو اورایسا یقینی طورپرنہیں توتناقض کہاں رہا؟ ۔

 

     لغرض وہ شاگرد ،اسحاق کندی کے پاس گیا اوراس نے امام کے بتائے ہوئے اصول پر اس سے مذکورہ سوال کیا اسحاق کندی یہ اعتراض سن کر حیران رہ گیا اورکہنے لگا کہ پھرسوال کودہراؤ اس نے پھراعادہ کیا اسحاق تھوڑی دیرکے لیے محو تفکرہوگیا اورکہنے لگا کہ بے شک اس قسم کااحتمال باعتبار لغت اوربلحاظ فکروتدبرممکن ہے پھراپنے شاگرد کی طرف متوجہ ہواکربولا! میں تمہیں قسم دیتاہوں تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ کہ تمہیں یہ اعتراض کس نے بتایاہے اس نے جواب دیا کہ میرے شفیق استاد یہ میرے ہی ذہن کی پیداوارہے اسحاق نے کہاہرگزنہیں ، یہ تمہارے جیسے علم والے کے بس کی چیزنہیں ہے، تم سچ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتایا اوراس اعتراض کی طرف کس نے رہبری کی ہے شاگرد نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ مجھے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایاتھا اورمیں نے انھیں کے بتائے ہوئے اصول پرآپ سے سوال کیاہے اسحاق کندی بولا ”ان جئت بہ “ اب تم نے سچ کہاہے ایسے اعتراضات اورایسی اہم باتیں خاندان رسالت ہی سے برآمدہوسکتی ہیں ”ثم انہ دعا بالنا رواحرق جمیع ماکان الفہ“ پھراس نے آگ منگائی اورکتاب تناقض القرآن کاسارامسودہ نذرآتش کردیا (مناقب ابن شہرآشوب مازندرانی جلد ۵ ص ۱۲۷ ،بحارالانوار جلد ۱۲ ص ۱۷۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۸۳) ۔

 

امام حسن عسکری علیہ السلام

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورخصوصیات مذہب

          حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کاارشادہے کہ ہمارے مذہب میں ان لوگوں کاشمارہوگا جواصول وفروع اور دیگر لوزم کے ساتھ ساتھ ان دس چیزوں کے قائل ہوں بلکہ ان پرعامل ہوں گے۔:

          ۱ ۔ شب و روز میں ۵۱/ رکعت نماز پڑھنا۔

          ۲ ۔سجدگاہ کربلا پرسجدہ کرنا۔

          ۳ ۔ داہنے ہاتھ میں انگھوٹھی پہننا۔

          ۴ ۔اذان و اقامت کے جملے دودو مرتبہ کہنا۔

          ۵ ۔ اذان و اقامت میں حی علی خیرالعمل کہنا۔

          ۶ ۔ نماز میں بسم اللہ زور سے پڑھنا۔

          ۷ ۔ ہردوسری رکعت میں قنوت پڑھنا۔

          ۸ ۔ آفتاب کی زردی سے پہلے نماز عصر اورتاروں کے ڈوب جانے سے پہلے نماز صبح پڑھنا۔

          ۹ ۔سراورڈاڑھی میں وسمہ کاخضاب کرنا۔

          ۱۰ ۔ نماز میت میں پانچ تکبر کہنا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۲) ۔

 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور عید نہم ربیع الاول

     حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام چندعظیم اصحاب جن میں احمدبن اسحاق قمی بھی تھے، ایک دن محمدبن ابی علاء ہمدانی اوریحی بن محمدبن جریح بغدادی کے درمیان ۹/ ربیع الاول کے یوم عیدہونے پرگفتگوہورہی تھی، بات چیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں احمدبن اسحاق کے مکان پرگئے، دق الباب کیا،ایک عراقی لڑکی نکلی، آنے کاسبب پوچھا کہا، احمدسے ملناہے اس نے کہاوہ اعمال کررہے ہیں انہوں نے کہا کیساعمل ہے ؟ لڑکی نے کہاکہ احمدبن اسحاق نے حضرت امام علی نقی سے روایت کی ہے کہ ۹/ ربیع الاول یوم عیدہے اورہماری بڑی عیدہے اورہمارے دوستوں کی عیدہے الغرض وہ احمدسے ملے، انہوں نے کہا میں ابھی غسل عیدسے فارغ ہواہوں اورآج عیدنہم ہے پھرانہوں نے کہاکہ میں آج حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہواہوں، ان کے یہاں انگیٹھی سلگ رہی تھی اورتمام گھرکے لوگ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے خوشبولگائے ہوئے تھے میں نے عرض کی ابن رسول اللہ آج کیاکوئی تازہ یوم مسرت ہے فرمایاہاں آج ۹/ ربیع الاول ہے، ہم اہلبیت اورہمارے ماننے والوں کے لیے یوم عیدہے پھرامام علیہ السلام نے اس دن کے یوم عیدہونے اوررسول خدا اورامیرالمومنین کے طرزعمل کی نشان دہی فرمائی ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندسودمند

          حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندونصائح حکم اورمواعظ میں سے مشتی نمونہ ازخرواری یہ ہیں:

     ۱ ۔ دوبہترین عادتیں یہ ہیں کہ اللہ پرایمان رکھے اورلوگوں کوفائدے پہنچائے۔

     ۲ ۔ اچھوں کودوست رکھنے میں ثواب ہے۔

     ۳ ۔ تواضع اورفروتنی یہ ہے کہ جب کسی کے پاس سے گزرے توسلام کرے اورمجلس میں معمولی جگہ بیٹھے۔

      ۴ ۔بلاوجہ ہنسنا جہالت کی دلیل ہے۔

      ۵ ۔پڑوسیوں کی نیکی کوچھپانا، اوربرائیوں کواچھالناہرشخص کے لیے کمرتوڑدینے والی مصیبت اوربے چارگی ہے۔

      ۶ ۔ یہی عبادت نہیں ہے کہ نماز،روزے کواداکرتارہے، بلکہ یہ بھی اہم عبادت ہے کہ خداکے بارے میں سوچ وبچارکرے۔

      ۷ ۔ وہ شخص بدترین ہے جودومونہااوردوزباناہو، جب دوست سامنے آئے تواپنی زبان سے خوش کردے اورجب وہ چلاجائے تو اسے کھاجانے کی تدبیرسوچے ،جب اسے کچھ ملے تویہ حسدکرے اورجب اس پرکوئی مصیبت آئے توقریب نہ پھٹکے۔

    ۸ ۔ غصہ ہربرائی کی کنجی ہے۔ 

    ۹ ۔ حسدکرنے اورکینہ رکھنے والے کوکبھی سکون قلب نصیب نہیں ہوتا۔

   ۱۰ ۔ پرہیزگاروہ ہے کہ جوشب کے وقت توقف وتدبرسے کام لے اورہرامرمیں محتاط رہے۔

    ۱۱ ۔ بہترین عبادت گزاروہ ہے جوفرائض اداکرتارہے۔

    ۱۲ ۔بہترین متقی اورزاہدوہ ہے جوگناہ مطلقا چھوڑدے۔

    ۱۳ ۔ جودنیامیں بوئے گا وہی آخرت میں کاٹے گا۔ 

   ۱۴ ۔ موت تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھابوگے تواچھاکاٹوگے، برا بوگے توندامت ہوگی۔

   ۱۵ ۔ حرص اورلالچ سے کوئی فائدہ نہیں جوملناہے وہی ملے گا ۔

   ۱۶ ۔ ایک مومن دوسرے مون کے لیے برکت ہے۔

   ۱۷ ۔ بیوقوف کادل اس کے منہ میں ہوتاہے اورعقلمندکامنہ اس کے دل میں ہوتاہے ۔  ۱۸ ۔ دنیاکی تلاش میں کوئی فریضہ نہ گنوادینا۔

   ۱۹ ۔ طہارت میں شک کی وجہ سے زیادتی کرناغیرممدوح ہے۔

  ۲۰ ۔ کوئی کتناہی بڑاآدمی کیوں نہ ہو جب وہ حق کوچھوڑدے گاذلیل ترہوجائے گا۔

   ۲۱ ۔ معمولی آدمی کے ساتھ اگرحق ہوتووہی بڑاہے۔

   ۲۲ ۔ جاہل کی دوستی مصیبت ہے۔

   ۲۳ ۔ غمگین کے سامنے ہنسنا بے ادبی اوربدعملی ہے۔

   ۲۴ ۔ وہ چیزموت سے بدترہے جوتمہیں موت سے بہترنظرآئے۔

   ۲۵ ۔ وہ چیز زندگی سے بہترہے جس کی وجہ سے تم زندگی کوبراسمجھو۔

   ۲۶ ۔ جاہل کی دوستی اوراس کے ساتھ گزاراکرنا معجزہ کے مانندہے۔ 

   ۲۷ ۔ کسی کی پڑی ہوئی عادت کو چھڑانا اعجاز کی حیثیت رکھتاہے

  ۲۸ ۔ تواضع ایسی نعمت ہے جس پرحسدنہیں کیاجاسکتا۔ 

  29 ۔ اس اندازسے کسی کی تعظیم نہ کروجسے وہ براسمجھے۔

  ۳۰ ۔ اپنے بھائی کی پوشیدہ نصیحت کرنی اس کی زینت کاسبب ہوتا۔ 

  ۳۱ ۔ کسی کی علانیہ نصیحت کرنابرائی کاپیش خیمہ ہے۔

  ۳۲ ۔ ہربلااورمصیبت کے پس منظرمیں رحمت اورنعمت ہوتی ہے۔ 

  ۳۳ ۔ میں اپنے و الوں کووصیت کرتاہوں کہ اللہ سے ڈریں دین کے بارے میں پرہیزگاری کوشعاربنالیں خداکے متعلق پوری سعی کریں اوراس کے احکام کی پیروی میں کمی نہ کریں، سچ بولیں، امانتیں چاہے مون کی ہوں یاکافرکی ،اداکریں، اوراپنے سجدوں کوطول دیں اورسوالات کے شیریں جواب دیں تلاوت قرآن مجیدکیاکریں موت اورخداکے ذکرسے کبھی غافل نہ ہوں۔

  ۳۴ ۔ جوشخص دنیاسے دل کااندھااٹھے گا، آخرت میں بھی اندھارہے گا،دل کااندھاہونا ہماری مودت سے غافل رہناہے قرآن مجیدمیں ہے کہ قیامت کے دن ظالم کہیں گے ”رب لماحشرتنی اعمی وکنت بصیرا“ میرے پالنے والے ہم تودنیامیں بیناتھے ہمیں یہاں اندھاکیوں اٹھایاہے جواب ملے گا ہم نے جونشانیاں بھیجی تھیں تم نے انھیں نظراندازکیاتھا۔ ”لوگو! اللہ کی نعمت اللہ کی نشانیاں ہم آل محمدہیں۔

     ایک روایت میں ہے کہ آپ نے دوشنبہ کے شرونحوست سے بچنے کے لیے ارشادفرمایاہے کہ نمازصبح کی رکعت اولی میں سوہ ”ہل اتی“ پڑھنا چاہئے،نیزیہ فرمایاہے کہ نہارمنہ خربوزہ نہیں کھاناچاہئے کیونکہ اس سے فالج کااندیشہ ہے (بحارالانوارجلد ۱۴) ۔

 

امام حسن عسکری علیہ السلام

معتمدعباسی کی خلافت اورامام حسن عسکری علیہ السلام کی گرفتاری

     ۲۵۶ ہجری میں معتدعباسی خلافت مقبوضہ کے تخت پرمتمکن ہوا، اس نے حکومت کی عنان سنبھالتے ہی اپنے آبائی طرزعمل کواختیارکرنا اورجدی کردارکوپیش کرناشروع کردیا اوردل سے اس کی سعی شروع کردی کہ آل محمدکے وجودسے زمین خالی ہوجائے، یہ اگرچہ حکومت کی باگ ڈوراپنے ہاتھوں میں لیتے ہی ملکی بغاوت کاشکارہوگیاتھا لیکن پھربھی اپنے وظیفے اوراپنے مشن سے غافل نہیں رہا” اس نے حکم دیاکہ عہدحاضرمیں خاندان رسالت کی یادگار،امام حسن عسکری کوقیدکردیاجائے اورانہیں قیدمیں کسی قسم کاسکون نہ دیاجائے حکم حاکم مرگ مفاجات آخرامام علیہ السلام بلاجرم وخطاآزادوفضاسے قیدخانہ میں پہنچادئیے گئے اورآپ پرعلی بن اوتاش نامی ایک ناصبی مسلط کردیاگیا جوآل محمداورال ابی طالب کاسخت ترین دشمن تھا اوراس سے کہہ دیاگیاکہ جوجی چاہے کرو، تم سے کوئی پوچھنے والانہیں ہے ابن اوتاش نے حسب ہدایت آپ پرطرح طرح کی سختیاں شروع کردیں اس نے نہ خداکاخوف کیانہ پیغمبرکی اولادہونے کا لحاظ کیا۔

 

    لیکن اللہ رے آپ کا زہدوتقوی کہ دوچارہی یوم میں دشمن کادل موم ہوگیا اوروہ حضرت کے پیروں پرپڑگیا، آپ کی عبادت گذاری اورتقوی وطہارت دیکھ کر وہ اتنامتاثرہواکہ حضرت کی طرف نظراٹھاکردیکھ نہ سکتاتھا، آپ کی عظمت وجلالت کی وجہ سے سرجھکاکرآتااورچلاجاتا، یہاں تک کہ وہ وقت آگیاکہ دشمن بصیرت آگیں بن کرآپ کامعترف اورماننے والاہوگیا(اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔

 

    ابوہاشم داؤدبن قاسم کابیان ہے کہ میں اورمیرے ہمراہ حسن بن محمد القتفی ومحمدبن ابراہیم عمری اوردیگربہت سے حضرات اس قیدخانہ میں آل محمد کی محبت کے جرم کی سزابھگت رہے تھے کہ ناگاہ ہمیں معلوم ہواکہ ہمارے امام زمانہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام بھی تشریف لارہے ہیں ہم نے ان کااستقبال کیاوہ تشریف لاکرقیدخانہ میں ہمارے پاس بیٹھ گئے، اوربیٹھتے ہی ایک اندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ اگریہ شخص نہ ہوتاتو میں تمہیں یہ بتادیتاکہ اندرونی معاملہ کیاہے اورتم کب رہاہوگے لوگوں نے یہ سن کراس اندھے سے کہا کہ تم ذراہمارے پاس سے چندمنٹ کے لیے ہٹ جاؤ، چنانچہ وہ ہٹ گیا اس کے چلے جانے کے بعدآپ نے فرمایاکہ یہ نابیناقیدی نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے حکومت کاجاسوس ہے اس کی جیب میں ایسے کاغذات موجودہیں جواس کی جاسوسی کاثبوت دیتے ہیں یہ سن کرلوگوں نے اس کی تلاشی لی اورواقعہ بالکل صحیح نکلاابوہاشم کہتے ہیں کہ ہم قیدکے ایام گذاررہے تھے کہ ایک دن غلام کھانالایا حضرت نے شام کا لیے کھانانہ لوں گا چنانچہ ایساہی ہواکہ آپ عصرکے وقت قیدخانہ سے برآمدہوگئے۔ (اعلام الوری ص ۲۱۴) ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

اسلام پرامام حسن عسکری کااحسان عظیم واقعہ قحط

   امام علیہ السلام قیدخانہ ہی میں تھے کہ سامرہ میں جوتین سال سے قحط پڑاہواتھا اس نے شدت اختیارکرلی اورلوگون کاحال یہ ہوگیاکہ مرنے کے قریب پہنچ گئے بھوک اورپیاس کی شدت نے زندگی سے عاجزکردیا یہ حال دیکھ خلیفہ معتمدعباسی نے لوگوں کوحکم دیا کہ تین دن تک باہرنکل کر نمازاستسقاء پڑھیں چنانچہ سب نے ایساہی کیا ،مگرپانی نہ برسا، چوتھے روزبغدادکے نصاری کی جماعت صحرا میں آئی اوران میں سے ایک راہب نے آسمان کی طرف اپناہاتھ بلندکیا، اس کاہاتھ بلندہوناتھا کہ بادل چھاگئے اورپانی برسناشروع ہوگیا اسی طرح اس راہب نے دوسرے دن بھی عمل کیا اوربدستوراس دن بھی باران رحمت کانزول ہوا، یہ دیکھ کرسب کونہایت تعجب ہوا حتی کہ بعض جاہلوں کے دلوں میں شک پیداہوگیا، بلکہ ان میں سے اسی وقت مرتدہوگئے، یہ واقعہ خلیفہ پربہت شاق گذرا۔

 

          اس نے امام حسن عسکری کوطلب کرکے کہا کہ ائے ابومحمداپنے جدکے کلمہ گویوں کی خبرلو، اوران کوہلاکت یعنی گمراہی سے بچاؤ، حضرت امام حسن عسکری نے فرمایاکہ اچھاراہبوں کوحکم دیاجائے کہ کل پھروہ میدان میں آکردعائے باران کریں ،انشاء اللہ تعالی میں لوگوں کے شکوک زائل کردوں گا، پھرجب دوسرے دن وہ لوگ میدان میں طلب باران کے لیے جمع ہوئے تواس راہب نے معمول کے مطابق آسمان کی طرف ہاتھ بلندکیا، ناگہاں آسمان پرابرنمودارہوئے اورمینہ برسنے لگا یہ دیکھ کرامام حسن عسکری نے ایک شخص سے کہا کہ راہب کاہاتھ پکڑکر جوچیزراہب کے ہاتھ میں ملے لے لو، اس شخص نے راہب کے ہاتھ میں ایک ہڈی دبی ہوئی پائی اوراس سے لے کرحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، انہوں نے راہب سے فرمایاکہ اب توہاتھ اٹھاکر بارش کی دعاکراس نے ہاتھ اٹھایاتوبجائے بارش ہونے کے مطلع صاف ہوگیا اوردھوپ نکل آئی، لوگ کمال تعجب ہوئے۔

 

 خلیفہ معتمدنے حضرت امام حسن عسکری سے پوچھا، کہ ائے ابومحمدیہ کیاچیزہے؟ آپ نے فرمایاکہ یہ ایک نبی کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے راہب اپنے مدعامیں کامیاب ہوتارہا، کیونکہ نبی کی ہڈی کایہ اثرہے کہ جب وہ زیرآسمان کھولی جائے گی، توباران رحمت ضرورنازل ہوگایہ سن کرلوگوں نے اس ہڈی کاامتحان کیاتواس کی وہی تاثیردیکھی جوحضرت امام حسن عسکری نے بیان کی تھی، اس واقعہ سے لوگوں کے دلوں کے وہ شکوک زائل ہوگئے جوپہلے پیداہوگئے تھے پھرامام حسن عسکری علیہ السلام اس ہڈی کولے کراپنی قیام گاہ پرتشریف لائے(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،کشف الغمہ ص ۱۲۹) ۔/

 

          پھرآپ نے اس ہڈی کوکپڑے میں لپیٹ کردفن کردیا (اخبارالدول ص ۱۱۷) ۔

          شیخ شہاب الدین قلبونی نے کتاب غرائب وعجائب میں اس واقعہ کوصوفیوں کی کرامات کے سلسلہ میں لکھاہے بعض کتابوں میں ہے کہ ہڈی کی گرفت کے بعدآپ نے نمازاداکی اوردعافرمائی خداوندعالم نے اتنی بارش کی کہ جل تھل ہوگیا اورقحط جاتارہا۔

          یہ بھی مرقوم ہے کہ امام علیہ السلام نے قیدسے نکلتے وقت اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ فرمایاتھا جومنظورہوگیاتھا، اوروہ لوگ بھی راہب کی ہوااکھاڑنے کلے ہمراہ تھے (نورالابصار ص ۱۵۱) ۔

          ایک روایت میں ہے کہ جب آپ نے دعائے باران کی اورابرآیاتوآپ نے فرمایاکہ فلاں ملک کے لیے ہے اوروہ وہیں چلاگیا، اسی طرح کئی بارہوا پھر وہاں برسا۔

 

امام حسن عسکری اور عبیداللہ وزیر معتمد عباسی

          اسی زمانہ میں ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام متوکل کے وزیرفتح ابن خاقان کے بیٹے عبیداللہ ابن خاقان جوکہ معتمدکاوزیرتھا ملنے کے لیے تشریف لے گیے اس نے آپ کی بے انتہا تعظیم کی اورآپ سے اس طرح محوگفتگورہاکہ معتمدکابھائی موفق دربارمیں آیا تواس نے کوئی پرواہ نہ کی یہ حضرت کی جلالت اورخداکی دی ہوئی عزت کانتیجہ تھا۔

 

          ہم اس واقعہ کوعبیداللہ کے بیٹے احمدخاقان کی زبانی بیان کرتے ہیں کتب معتبرہ میں ہے کہ جس زمانہ میں احمدخاقان قم کاوالی تھا اس کے دربارمیں ایک دن علویوں کاتذکرہ چھڑگیا، وہ اگرچہ دشمن آل محمدہونے میں مثالی حیثیت رکھتاتھا لیکن یہ کہنے پرمجبورہوگیا کہ میری نظرمیں امام حسن عسکری سے بہترکوئی نہیں ہے ان کی جووقعت ان کے ماننے والوں اوراراکین دولت کی نظرمیں تھی وہ ان کے عہدمیں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوئی ،سنو! ایک مرتبہ میں اپنے والدعبیداللہ ابن خاقان کے پاس کھڑاتھاکہ ناگاہ دربان نے اطلاع دی کہ امام حسن عسکری تشریف لائے ہوئے ہیں وہ اجازت داخل چاہتے ہیں یہ سن کرمیرے والدنے پکارکرکہاکہ حضرت ابن الرضاکوآنے دو، والدنے چونکہ کنیت کے ساتھ نام لیاتھا اس لیے مجھے سخت تعجب ہوا، کیونکہ اس طرح خلیفہ یاولیعہدکے علاوہ کسی کانام نہیں لیاجاتاتھا اس کے بعد ہی میں نے دیکھا کہ ایک صاحب جوسبزرنگ ، خوش قامت، خوب صورت، نازک اندام جوان تھے، داخل ہوگئے جن کے چہرے سے رعب وجلال ہویداتھا میرے والدکی نظرجونہی ان کے اوپرپڑی وہ اٹھ کھڑے ہوئے اوران کے استقبال کے لیے آگے بڑھے اورانھیں سینے سے لگاکر ان کے چہرہ اورسینے کابوسہ دیااوراپنے مصلے پرانہیں بٹھایا اورکمال ادب سے ان کی طرف مخاطب رہے، اورتھوڑی تھوڑی دیرکے بعدکہتے تھے میری جان آپ پرقربان ائے فرزندرسول۔

 

          اسی اثناء میں دربان نے آکراطلاع دی کہ خلیفہ کابھائی موفق آیاہے میرے والدنے کوئی توجہ نہ دی ،حالانکہ اس کاعموما یہ اندازرہتاتھا کہ جب تک واپس نہ چلاجائے دربارکے لوگ دورویہ سر جھکائے کھڑے رہتے تھے یہاں تک کہ موفق کے غلامان خاص کواس نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا، انہیں دیکھنے کے بعد میرے والدنے کہایاابن رسول اللہ اگراجازت ہوتو موفق سے کچھ باتیں کرلوں حضرت نے وہاں سے اٹھ کرروانہ ہوجانے کاارادہ کیا میرے والدنے انہیں سینے سے لگایا اوردربانوں کوحکم دیا کہ انہیںدومکمل صفوں کے درمیان سے لے جاؤ کہ موفق کی نظرآپ پرنہ پڑے چنانچہ اسی اندازسے واپس تشریف لے گئے۔

 

           آپ کے جانے کے بعدمیں نے خادموں اورغلاموں سے کہاکہ وائے ہوتم نے کنیت کے ساتھ کس کانام لے کراسے میرے والدکے سامنے پیش کیا تھا جس کی اس نے اس درجہ تعظیم کی جس کی مجھے توقع نہ تھی ان لوگوں نے پھرکہا کہ یہ شخص سادات علویہ میں سے تھا اس کانام حسن بن علی اورکنیت ابن الرضا ہے، یہ سن کرمیرے غم وغصہ کی کوئی انتہانہ رہی اورمیں دن بھراسی غصہ میں بھنتارہا کہ علوی سادات کی میرے والدنے اتنی عزت وتوقیرکیوں کی یہاں تک کہ رات آگئی۔

 

          میرے والدنمازمیں مشغول تھے جب وہ فریضہ عشاء سے فارغ ہوئے تومیں ان کی خدمت میں حاضرہوا انہوں نے پوچھااے احمد اس وقت آنے کاسبب کیاہے ، میں نے عرض کی کہ اجازت دیجیے تو میں کچھ پوچھوں، انہوں نے فرمایاجوجی چاہے پوچھو میں نے کہایہ شخص کون تھا ؟ جوصبح آپ کے پاس آیاتھا جس کی آپ نے زبردست تعظیم کی اورہربات میں اپنے کو اوراپنے ماں باپ کو اس پرسے فداکرتے تھے انہوں نے فرمایاکہ ائے فرزندیہ رافضیوں کے امام ہیں ان کانام حسن بن علی اوران کی مشہورکنیت ابن الرضا ہے یہ فرماکر وہ تھوڑی دیرچپ رہے پھر بولے اے فرزندیہ وہ کامل انسان ہے کہ اگرعباسیوں سے سلطنت چلی جائے تواس وقت دنیا میں اس سے زیادہ اس حکومت کامستحق کوئی نہیں ہے یہ شخص عفت زہد،کثرت عبادت، حسن اخلاق، صلاح، تقوی وغیرہ میں تمام بنی ہاشم سے افضل واعلی ہے اورائے فرزند اگرتوان کے باپ کودیکھتاتوحیران رہ جاتا وہ اتنے صاحب کرم اورفاضل تھے کہ ان کی مثال بھی نہیں تھی یہ سب باتیں سن کر میں خاموش توہوگیا لیکن والدسے حددرجہ ناخوش رہنے لگا اورساتھ ہی ساتھ ابن الرضا کے حالات کاتفحص کرنااپناشیوہ بنالیا۔

 

          اس سلسلہ میں میں نے بنی ہاشم ،امراء لشکر،منشیان دفترقضاة اورفقہاء اورعوام الناس سے حضرت کاحالات کااستفسارکیا سب کے نزدیک حضرت ابن الرضا کوجلیل القدراورعظیم پایا اورسب نے بالاتفاق یہی بیان کیا کہ اس مرتبہ اوران خوبیوں کاکوئی شخص کسی خاندان میں نہیں ہے جب میں نے ہرایک دوست اوردشمن کو حضرت کے بیان اخلاق اور اظہار مکارم اخلاق میں متفق پایاتومیں بھی ان کادل سے ماننے والاہوگیا اوراب ان کی قدرومنزلت میرے نزدیک بے انتہاہے یہ سن کرتمام اہل دربار خاموش ہوگئے البتہ ایک شخص بول اٹھا کہ ائے احمد تمہاری نظر میں ان کے برادرجعفرکی کیاحثیت ہے احمدنے کہاکہ ان کے مقابلہ میں اس کاکیا ذکر کرتے ہو وہ توعلانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کرتاتھا، دائم الخمرتھا خفیف العقل تھا، انواع ملاہی ومناہی کامرتکب ہوتاتھا۔

 

           ابن الرضاکے بعد جب خلیفہ معتمدسے اس نے ان کی جانشینی کاسوال کیا تواس نے اس کے کردارکی وجہ سے اسے دربارسے نکلوادیاتھا (مناقب ابن آشوب جلد ۵ ص ۱۲۴ ، ارشادمفید ص ۵۰۵) ۔

          بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ گفتگوامام حسن عسکری کی شہادت کے ۱۸/ سال بعد ماہ شعبان ۲۷۸ ہجری کی ہے (دمعہ ساکبہ ص ۱۹۲ جلد ۳ طبع نجف اشرف)۔

امام حسن عسکری علیہ السلام

 

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت

          امام یازدہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام قیدوبندکی زندکی گزارنے کے دوران میں ایک دن اپنے خادم ابوالادیان سے ارشادفرماتے ہوئے کہ تم جب اپنے سفرمدائن سے ۱۵/ یوم کے بعد پلٹوگے تو میرے گھرسے شیون وبکاکی آواز آتی ہوگی (جلاء العیون ص ۲۹۹) ۔

          نیزآپ کایہ فرمانابھی معقول ہے کہ ۲۶۰ ہجری میں میرے ماننے والوں کے درمیان انقلاب عظیم آئے گا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۷) ۔

          الغرض امام حسن عسکری علیہ السلام کوبتاریخ یکم ربیع الاول ۲۶۰ ہجری معتمدعباسی نے زہردلوادیا اورآپ ۸/ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کوجمعہ کے دن بوقت نمازصبح خلعت حیات ظاہری اتارکر بطرف ملک جاودانی رحلت فرماگئے ”اناللہ وانا الیہ راجعون“ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، فصولف المہمہ ،ارجح المطالب ص ۲۶۴ ، جلاء العیون ص ۲۹۶ ،انوارالحسینیہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔

          علماء فریقین کااتفاق ہے کہ آپ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اولادنہیں چھوڑی (مطالب السول ص ۲۹۲ ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،نورالابصار ارجح المطالب ۴۶۲ ،کشف الغمہ ص ۱۲۶ ، اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 14:45| توسط غلام حیدر عابدی| |

معصوم دوازدھم حضرت امام علی نقی علیہ السلام

 

مرقد مبارک امام علی النقی

نام ونسب

 اسم مبارک علی علیہ السّلام , کنیت ابو الحسن علیہ السّلام اور لقب نقی علیہ السّلام ہے چونکہ آپ سے پہلے حضرت علی مرتضٰی علیہ السّلام اور امام رضا علیہ السّلام کی کنیت ابو الحسن ہو چکی تھی- اس لئے آپ کو ابوالحسن ثالث« کہا جاتا ہے والدہ معظمہ آپ کی سمانہ خاتون تھیں-

 

ولادت اور نشوونما

 5رجب 214ئھ مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی- صرف چھ برس اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ ہی زندگی بسر کی-اس کے بعد اس کمسنی ہی کے عالم میں آپ اپنے والد بزرگوار سے جدا ہو گئے- امام محمد تقی علیہ السّلام کو عراق کا سفر درپیش ہوا اور وہیں 29ذیعقد 220ئھ میں حضرت علیہ السّلام کی شہادت ہو گئی- جس کے بعد امامت کی ذمہ داریاں امام علی نقی علیہ السّلام کے کاندھے پر آ گئیں- اس صورت میں سوائے قدرت کی آغوش تربیت کے اور کون سا گہوارہ تھا جسے آپ کے علمی اور عملی کمال کی بلندیوں کا مرکز سمجھا جا سکے-

 

انقلابات سلطنت

 حضرت امام علی نقی علیہ السّلام کے دور امامت میں معتصم کا انتقال ہوا اور واثق باللہ کی حکومت شروع ہوئی236ئھ میں واثق دنیا سے رخصت ہوا اور مشہور ظالم و سفاک دشمن اہل بیت علیہ السّلام متوکل تخت حکومت پر بیٹھا- 250ئھ میں متوکل ہلاک ہوا اور منتصر باللہ خلیفہ تسلیم کیا گیا- جو صرف چھ مہینہ سلطنت کرنے کے بعد مر گیا , اور مستعین بالله کی سلطنت قائم ہوئی . 353ئھ میں مستعین کو حکوت سے دست بردار ہو کر جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور معتز بالله بادشاہ ہوا . یہی امام علی نقی علیہ السّلام کے زمانے کااخری بادشاہ ہوا .

 

الام ومصائب

 معتصم نے خواہ اپنی ملکی پریشانیوں کی وجہ سے جواسے رومیوں کی جنگ اور بغداد کے دارالسلطنت میں عباسیوں کے فساد وغیرہ کی وجہ سے درپیش تھیں اور خواہ امام علی نقی علیہ السّلام کی کمسنی کاخیال کرتے ہوئے بہر حال حضرت علیہ السّلام سے کوئی تعرض نہیں کیا اور اپ سکون واطمینان کے ساتھ مدینہ منورہ میں اپنے فرائض پورے کر نے میں مصروف رہے .

 معتصم کے بعد واثق نے بھی اپ کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا . مگر متوکل کاتخت سلطنت پر بیٹھنا تھا کہ امام علی نقی علیہ السّلام پر تکالیف کا سیلاب امڈ ایا . یہ واثق کابھائی او معتصم کابیٹا تھا , اور الِ رسول کی دشمنی میں اپنے تمام اباواجداد سے بڑھا ہوا تھا .

 

 اس سولہ برس میں جب سے امام علی نقی علیہ السّلام منصب امامت پر فائز ہوئے تھے اپ کی شہرت تمام مملکت میں پھیل چکی تھی اور تعلیمات اہل بیت علیہ السّلام کے پروانے اس شمع ُ ہدایت پر برابر ٹوٹ رہے تھے . ابھی متوکل کی سلطنت کو چار برس ہوئے تھے کہ مدینے کے حکام عبدالله بن حاکم نے امام علیہ السّلام سے مخالفت کا اغاز کیا . پہلے تو خود حضرت کو مختلف طرح کی تکلیفیں پہنچائیں پھر متوکل کو اپ کے متعلق اسی طرح کی باتیں لکھیں جیسی سابق سلاطین کے پاس اپ کے بزرگوں کی نسبت ان کے دشمنوں کی طرف سے پہنچائی جاتی تھیں . مثلاً یہ کہ حضرت علیہ السّلام اپنے گردو پیش اسباب ُ سلطنت جمع کررہے ہیں . اپ کے ماننے والے اتنی تعداد میں بڑھ گئے ہیں کہ اپ جب چاہیں حکومت کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوسکتے ہیں-

 

 حضرت کو اس تحریرکی بروقت اطلاع ہوگئی اور اپ نے اتمام حجت کے طور پراسی کے ساتھ متوکل کے پاس اپنی جانب سے ایک خط تحریر فرما دیا جس میں حال مدینہ کی اپنے ساتھ ذاتی مخالفت کا تذکرہ اور اس کی غلط بیانیوں کا اظہار فرمایا تھا- متوکل نے ازاراہ سیاست امام علی نقی علیہ السّلام کے خط کو وقعت دیتے ہوئے مدینہ کے اس حاکم کو معزول کر دیا مگر ایک فوجی رسالے کو یحیٰی بن ہرثمہ کی قیادت میں بھیج کر حضرت علیہ السّلام سے بظاہر دوستانہ انداز میں باصراریہ خواہش کی کہ آپ مدینہ سے درالسلطنت سامر تشریف لا کر کچھ دن قیام فرمائیں اور پھر واپس مدینہ تشریف لے جائیں-

 

 امام علیہ السّلام اس التجا کی حقیقت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے یہ نیاز مندانہ دعوت تشریف آوری حقیقت میں جلا وطنی کا حکم ہے مگر انکار کا کوئی حاصل نہ تھا- جب کہ انکار کے بعد اسی طلبی کے انداز کا دوسری شکل اختیار کر لینا یقینی تھا- اور اس کے بعد روانگی ناگزیر تھی- بے شک مدینہ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہونا آپ کے قلب کے لئے ویسا ہی تکلیف دہ ایک صدمہ تھا جسے اس کے پہلے حضرت امام حسین علیہ السّلام, امام موسٰی کاظم علیہ السّلام, امام رضا علیہ السّلام اور امام محمد تقی علیہ السّلام آپ کے مقدس اور بلند مرتبہ اجداد برداشت کر چکے تھے- وہ اب آپ کے لئے ایک میراث بن چکا تھا- پھر بھی دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مدینہ سے روانگی کے وقت آپ کے تاثرات اتنے شدید تھے جس سے احباب و اصحاب میں ایک کہرام برپا تھا-

 

 متوکل کا عریضہ بارگاہ امام علیہ السّلام میں بڑے اخلاص اور اشتیاق قدم بوسی کا مظہر تھا- فوجی دستہ جو بھیجا گیا تھا وہ بظاہر سواری کے تزک و احتشام اور امام علیہ السّلام کی حفاظت کا ایک سامان تھا مگر جب حضرت علیہ السّلام سامرے میں پہنچ گئے اور متوکل کو اس کی اطلاع دی گئی تو پہلا ہی اس کا افسوسناک رویہ یہ تھا کہ بجائے امام علیہ السّلام کے استقبال یا کم از کم اپنے یہاں بلا کر ملاقات کرنے کے اس نے حکم دیا کہ حضرت کو »خاف الصعالیک« میں اتارا جائے,اس لفظ کے معنی ہی ہیں »بھیک مانگنے والے گداگروں کی سرائے« اس سے جگہ کی نوعیت کا پورے طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ شہر سے دور ویرانے میں ایک کھنڈر تھا- جہاں امام علیہ السّلام کو فروکش ہونے پر مجبور کیا گیا- اگرچہ یہ مقدس حضرات خود فقرائ کے ساتھ ہم نشینی کو اپنے لئے ننگ و عار نہیں سمجھتے تھے اور تکلیفات ظاہری سے کنارہ کش رہتے تھے مگر متوکل کی نیت تو اس طرز عمل سے بہرحال تحقیر کے سوااور کوئی نہیں تھی- تین دن تک حضرت کا قیام یہاں رہا- اس کے بعد متوکل نے آپ کو اپنے حاجب رزاقی کی حراست میں نظر بند کر دیا اور عوام کے لئے آپ سے ملنے جلنے کو ممنوع قرار دیا-

 

 وہی بے گناہی اور حقانیت کی کشش جو امام موسٰی کاظم علیہ السّلام کی قید کے زمانہ میں سخت سے سخت محافظین کو کچھ دن کے بعد آپ کی رعایت پر مجبور کر دیتی تھی اسی کا اثر تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد رزاقی کے دل پر امام علی نقی علیہ السّلام کی عظمت کا سکہ قائم ہو گیا اور وہ آپ کو تکلیف دینے کے بجائے آرام و راحت کے سامان بہم پہنچانے لگا مگر یہ بات زیادہ عرصہ تک متوکل سے چھپ نہیں سکتی تھی- اسے علم ہو گیا اور اس نے رزاقی کی قید سے نکل کر حضرت علیہ السّلام کو ایک دوسرے شخص سعید کی حراست میں دے دیا- یہ شخص بے رحم اور امام علیہ السّلام کے ساتھ سختی برتنے والا تھا- اسی لئے اس کے تبادلے کی ضرورت نہیں پڑی اور حضرت پورے بارہ برس اس کی نگرانی میں مقید رہے- ان تکالیف کے ساتھ جو اس قید میں تھے حضرت علیہ السّلام شب و روز عبادت الٰہی میں بسر کرتے تھے- دن بھر روزہ رکھنا اور رات بھر نمازیں پڑھنا معمول تھا- آپکا جسم کتنے ہی قید و بند میں رکھا گیا ہو مگر آپ کا ذکر چار دیواری میں محصور نہیں کیا جا سکتا تھا- نتیجہ یہ تھا کہ آپ تو تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مقید تھے مگر آپ کا چرچہ سامرے بلکہ شاید عراق کے ہر گھر میں تھا اور اس بلند سیرت و کردار کے انسان کو قید رکھنے پر خلق خدا میں متوکل کے مظالم سے نفرت برابر پھیلتی جا رہی تھی-

 

  اب وہ وقت ایا کہ فتح بن خاقان باوجود الِ رسول سے محبت رکھنے کے صرف اپنی قابلیت اپنے تدبر اور اپنی دماغی وعملی صلاحیوتوں کی بنا پر متوکل کاوزیر ہوگیا , تو اس کے کہنے سننے سے متوکل نے امام علی نقی علیہ السّلام کی قیدکو نظر بندی سے تبدیل کردیا اور اپ کو ایک مکان دے کر مکان تعمیر کرنے اور اپنے ذاتی مکان میں سکونت کی اجازت دے دی مگر اس شرط سے کہ اپ سامرے سے باہر نہ جائیں اور سعید اپ کی نقل وحرکت اور مراسلات وتعلقات کی نگرانی کرتا رہے گا .

 

  اس دور میں بھی امام علیہ السّلام کااستغنائے نفس دیکھنے کے قابل تھا . باوجود دارلسلطنت میں مستقل طور پر قیام کے نہ کبھی متوکل کے سامنے کوئی درخواست پیش کی نہ کبھی کسی قسم کے ترحم یا تکریم کی خواہش کی وہی عبادت وریاضت کی زندگی جو قید کے عالم میں تھی . ا س نظر بندی کے دور میںبھی رہی . جو کچھ تبدیلی ہوئی تھی وہ ظالم کے رویّہ میں تھی . مظلوم کی شان جیسے پہلے تھی ویسی ہی اب بھی قائم رہی . اس زمانے میں بھی ایسا نہیںہوا کہ امام کو بالکل ارام وسکون کی زندگی بسر کرنے دی جاتی . مختلف طرح کی تکالیف سے اپ کے مکان کی تلاشی لی گئی کہ وہاں اسلحہ ہیں یا ایسے خطوط ہیں جن سے حکومت کی مخالفت کاثبوت ملتا ہے حالانکہ ایسی کوئی چیز ملی نہیں مگر یہ تلاشی ہی ایک بلند اور بے گناہ انسان کے لیے کتنی باعث تکلیف چیز ہے اس سے بڑھ کر یہ واقعہ کہ دربار شاہی میں عین اس وقت اپ کی طلبی ہوتی ہے جب کہ شراب کے دور چل رہے ہیں . متوکل اور تمام حاضرین دربار طرب ونشاط میں غرق ہیں . اس پر طرہ یہ کہ سرکش, بے غیرت اور جاہل بادشاہ حضرت علیہ السّلام کے سامنے جامِ شراب بڑھا کر پینے کی درخواست کرتا ہے .

 

 شریعت اسلام کے محافظ معصوم علیہ السّلام کو اس سے جو تکلیف پہنچ سکتی ہے وہ تیر وخنجر سے یقیناً زیادہ ہے مگر حضرت علیہ السّلام نے نہایت متانت اور صبروسکون کے ساتھ فرمایا کہ »مجھے ا س سے معاف کیجئے , میرا میرے اباواجداد کاخون اور گوشت اس سے کبھی مخلوط نہیں ہوا ہے.,,

 اگر متوکل کے احساسات میں کچھ بھی زندگی باقی ہوتی تو وہ اس معصومانہ مگر صر شکوہ جواب کا اثر کرتا مگر اس نے کہا کہ اچھا یہ نہیں تو کچھ گانا ہی ہم کو سنائیے .

 

ضریح مبارک امام علی القی

 حضرت علیہ السّلام نے فرمایا میں اس فن سے بھی واقف نہیں ہوں .,,

 اخر اس نے کہا کہ اپ کو کچھ اشعار جس طریقے سے بھی اپ چاہیں بہرحال پڑھنا ضرور پڑھیں گے .

 کوئی جذبات کی رو میں بہنے والا انسان ہوتا تو اس خفیف الحرکات بادشاہ کے اس حقارت انگیز یاتمسخر امیز برتاؤ سے متاثر ہو کر شاید اپنے توازن دماغی کو کھو دیتا مگر وہ کوہ ُ حلم ووقار , امام علیہ السّلام کی ہستی تھی جو اپنے کردار کو فرائض کی مطابقت سے تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ دارتھی ,منہیات کے دائرہ سے نکل کر جب فرمائش اشعار سنانے تک پہنچی تو امام علیہ السّلام نے موعظہ وتبلیغ کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنے دل سے نکلی ہوئی پرُ صداقت اواز سے یہ اشعار پڑھنا شروع کردئے جنھوںنے محفل طرب میں مجلس وعظ کی شکل پیدا کردی .

 

یا تو اعلٰی قلل الاجبال تحرسھم
ارہے پہاڑ کی چوٹی پہ پہرے بٹھلا کر

 

واستنز لوا بعد عز من معاقلھم

بلند قلعوں کی عزت جو پست ہو کے رہی

 

نادا ھم صارخ من بعد ماد فنوا

صدا یہ ان کو دی ہاتف نے بعد دفن لحد

 

این الوجوہ التی کانت مجعبة

کہاں وہ چہرے ہیں جو تھے ہمیشہ زیر نقاب

 

فافصح القبر عنھم حین سائلھم

زبان حال سے بولے جواب میں مدفن

 

قد طال ما اکلوا فیھا و ھم شربوا

غذائیں کھائیں شرابیں جو پی تھیں حدے سوا

 

غلب الرجال فما اغنتھم القلل

بہادروں کی حراست میں بچ سکے نہ مگر

 

الٰی مقابر ھم یا بکسما نزلوا

تو کنج قبر میں منزل بھی کیا بری پائی

 

این الاسیرة والتیجان والحلل

کہاں ہیں تخت, وہ تاج اور وہ لباس جسد

 

من دونھا تضرب الاستار و الکلل

غبار جن پہ کبھی آنے دیتے تھے نہ حجاب

 

تللک الوجوہ علیھا ادود تنتقل

وہ رخ زمین کے کیڑوں کا بن گئے مسکن

 

فاصبحوا بعد طول الاکل قد اکلوا

نتیجہ اس کا ہے خود آج بن گئے وہ غذا

 

 اشعار کچھ ایسے حقیقی تاثرات کے ساتھ امام علیہ السّلام کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ متوکل کے عیش ونشاط کی بساط الٹ گئی . شراب کے پیالے ہاتھوں سے چھوٹ گئے اور تمام مجمع زارو قطار رونے لگا . یہاں تک کہ خود متوکل ڈاڑھیں مار مار کر بے اختیار رو رہا تھا . جوں ہی ڈارا ناموقوف ہوا اس نے امام علیہ السّلام کو رخصت کر دیا اور اپ اپنے مکان پر تشریف لے گئے .

 

  ایک اورنہایت شدید روحانی تکلیف جو امام علیہ السّلام کو اس دور میں پہنچی وہ متوکل کے تشدّد احکام تھے جو نجف اور کربلا کے زائرین کے خلاف ا س نے جاری کیے . اس نے یہ حکم دان تمام قلم رو حکومت میں جاری کردیا کہ کوئی شخص جناب امیر علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کے روضوں کی زیارت کو نہ جائے , جو بھی اس حکم کی مخالفت کرے گا اس کا خون حلال سمجھا جائے گا-

 

 اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے حکم دیا کہ نجف اور کربلا کی عمارتیں بالکل گرا کر زمین کے برابر کردی جائیں . تمام مقبرے کھود ڈالے جائیں اور قبر امام حسین علیہ السّلام کے گرد وپیش کی تمام زمین پر کھیت بودیئے جائیں . یہ ناممکن تھا کہ زیارت کے امتناعی احکام پر اہل بیت رسول کے جان نثار اسانی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے . نتیجہ یہ ہوا کہ اس سلسلہ میںہزاروں بے گناہوں کی لاشیں خاک وخون میں تڑپتی ہوئی نظر ائیں کیا اس میں شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقتول کا صدمہ امام علیہ السّلام کے دل پر اتنا ہی ہوا تھا جتنا کسی اپنے ایک عزیز کے بے گناہ قتل کیے جانے کاحضرت علیہ السّلام کو ہوسکتا تھا .

 

 پھر اپ تشدّد کے ایک ایسے ماحول میں گھیر رکھے گئے تھے کہ اپ وقت کی مناسبت کے لحاظ سے ان لوگوں تک کچھ مخصوص ہدایات بھی نہیں پہنچاسکتے تھے جو ان کے لیے صحیح فرائض شرعیہ کے ذیل میں اس وقت ضروری ہوں یہ اندوہناک صورتِ حال ایک دوبرس نہیں بلکہ متوکل کی زندگی کے اخری وقت تک برابر قائم رہی .

 اور سنیئے کہ متوکل کے دربار میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام کی نقلیں کی جاتی تھی اور ان پر خود متوکل اور تمام اہل دربار ٹھٹے لگاتے تھے .

 

 یہ ایسا اہانت امیز منظر تھا کہ ایک مرتبہ خود متوکل کے بیٹے سے رہا نہ گیا . اس نے متوکل سے کہا کہ خیر اپ اپنی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں کچھ الفاظ استعمال کریں مگر جب اپ کو ان کا عزیز قرار دیتے ہیں تو ان کم بختوں کی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے خلاف ایسی باتوں کو کیونکر گوارا کرتے ہیں اس پر بجائے کچھ اثر لینے کے متوکل نے اپنے بیٹے کافحش امیز تمسخر کیا اور دو شعر نظم کرکے گانے والوں کو دئیے جس میں خود اس کے فرزند کے لیے ماں کی گالی موجود تھی . گویّے ان شعروں کو گاتے تھے اور متوکل قہقے لگاتا تھا .

]

  اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسو س نہیں ہے ابن السکیت بغدادی علم نحوولغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا . ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام سے ابن السکیت محبت اہل بیت علیہ السّلام رکھتے تھے اس سوال کو سن کر بیتاب ہوگئے اور انھوں نے متوکل کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے دھڑک کہ دیا کہہ حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام کا کیا ذکر , مجھے تو علی علیہ السّلام کے غلام قمبررض کے ساتھ ان دونوں سے کہیںزیادہ محبت ہے . اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہوگیا , حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے . یہی ہو اور اس طرح یہ ال ُ رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے .

 

 ان واقعات کابراہ راست جسمانی طور پر حضرت امام علی نقی سے تونہ تھا مگر بخدا ان کی ہر ہر بات ایک تلوار کی دھار تھی جو گلے پر نہیں دل پر چلا کرتی تھی , متوکل کاظالمانہ رویّہ ایسا تھا جس سے کوئی بھی دور یا نزدیک کا شخص ا س سے خوش یامطمئن نہیں تھا . حدیہ ہے کہ اس کی اولاد تک اس کی جانی دشمن ہوگئی تھی , چنانچہ اسی کے بیٹے منتصر نے ا س کے بڑے مخصوص غلام باغر رومی کو ملا کر خود متوکل ہی کی تلوار سے عین اس کی خواب گاہ میں اس کو قتل کرادیا . جس کے بعد خلائق کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور منتصرکی خلافت کا علان ہوگیا .

مرقد مبارک امام علی النقی

 منتصر نے تخت ُ حکومت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے متشد انہ احکاکم کو یکلخت منسوخ کردیا. نجف اور کربلا زیارت کے لیے عام اجازت دے دی اور ان مقدس روضوں کی کسی حد تک تعمیر کرادی . امام علی نقی علیہ السّلام کے ساتھ بھی اس نے کسی خاص تشدد کا مظاہرہ نہیں کی مگر منتصر کی عمر طولانی نہیں ہوئی . وہ چھ مہینہ کے بعد دنیا سے اٹھ گیا منتصر کے بعد مستعین کی طرف سے امام علیہ السّلام کے خلاف کسی خاص بدسلوکی کا برتاوؤ نظر نہیںاتا .

 امام علیہ السّلام نے چونکہ مکان بنا کر مستقل قیام اختیار فرمالیا تھا اس لیے یا تو خود اپ ہی نے مناسب نہ سمجھا یا پھر ان بادشاہوں کی طرف سے اپ کے مدینہ واپس جانے کو پسند نہیںکیا گیا ہو . بہر حال جو بھی وجہ ہو قیام اپ کا سامرہ ہی میں رہا . اتنے عرصے تک حکومت کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کی وجہ سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کے طلب گارذرا اطمینان کے ساتھ کثیر تعداد میںاپ سے استفادہ کے لیے جمع ہونے لگے جس کی وجہ سے مستعین کے بعد معتز کو پھر اپ سے صر خاش پیدا ہوئی اور اس نے اپ کی زندگی ہی کاخاتمہ کردیا .

 

اخلاق واوصاف

 حضرت کی سیرت اوراخلاق وکمالات وہی تھے جو اس سلسلئہ عصمت کے ہر فرد کے اپنے اپنے دور میں امتیازی طور پر مشاہدہ میں اتے رہے تھے . قید خانے اور نظر بندی کاعالم ہو یا ازادی کا زمانہ ہر وقت اور ہر حال میں یاد الٰہی , عبادت , خلق ُ خدا سے استغنائ ثبات قدم , صبر واستقلال مصائب کے ہجوم میںماتھے پر شکن نہ ہونا دشمنوں کے ساتھ بھی حلم ومرّوت سے کام لینا ,محتاجوں اور ضرورت مندوں کی امداد کرنا یہی اورصاف ہیںجو امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کی سیرت زندگی میں بھی نمایاں نظر اتے ہیں .

 

 قید کے زمانہ میں جہاں بھی اپ رہے اپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی ہوئی تیار تھی . دیکھنے والوں نے جب ا س پر حیرت ودہشت کااظہار کیا تو اپ نے فرمایا میںاپنے دل میں موت کاخیال قائم رکھنے کے لیے یہ قبر اپنی نگاہوں کے سامنے تیار رکھتا ہوں . حقیقت میں یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت اور اس کے حقیقی تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا. یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ جان کا لے لینا مگر جو شخص موت کے لیے اتنا تیار ہو کہ ہر وقت کھدی ہوئی قبر اپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈر کر سرتسلیم خم کرنے پر کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر اس کے ساتھ دنیوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے اپ کا دامن اس طرح بری رہا کہ باوجود دار سلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے کبھی اپ کے خلاف کوئی الزام صحیح ثابت نہیں ہوسکا اور کبھی سلاطین وقت کوکوئی دلیل اپ کے خلاف تشدد کے جواز کی نہ مل سکی باوجود یہ کہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہر روز ایک نئی سازش کافتنہ کھڑا ہوتا تھا .

 

 متوکل سے خود اس کے بیٹے منتصر کی مخالفت اور اس کے انتہائی عزیز غلام باغر رومی کی اس سے دشمنی , منتصر کے بعد امرائے حکومت کاانتشار اور اخر متوکل کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کا فیصلہ مستعین کے دور ُ حکومت میں یحییٰ بن عمر بن یحییٰ حسین بن زید علوی کا کوفہ میں خروج اور حسن بن زید المقلب بداعی الحق کا علاقہ , طبرستان پر قبضہ کرلینا اور مستقل سلطنت قائم کر لینا , پھر دار السلطنت میں ترکی غلاموں کی بغاوت مستعین کاسامرے کو چھوڑ کر بغدادکی طرف بھاگنا اور قلعہ بند ہوجانا , اخر کو حکومت سے دستبرادی پر مجبور ہونا او کچھ عرصہ کے بعد معتز بالله کے ہاتھ سے تلوار کے گھاٹ اترنا پھر معتزبالله کے دور میں رومیوں کا مخالفت پر تیار رہنا, معتزبالله کو خود اپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اور موید کی زندگی کا خاتمہ اور موفق کا بصرہ میں قید کیا جانا-

 ان تمام ہنگامی حالات, ان تمام شورشوں, ان تمام بے چینیوں اور جھگڑوں میں سے کسی میں بھی امام علی نقی علیہ السّلام کی شرکت کا شبہ تک نہ پیدا ہونا کیا اس طرز عمل کے خلاف نہیں ہے جو ایسے موقعوں پر جذبات سے کام لینے والے انسانوں کا ہوا کرتا ہے- ایک ایسے اقتدار کے مقابلے میں جسے نہ صرف وہ حق و انصاف کی رو سے ناجائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کی بدولت انہیں جلاوطنی, قید اور اہانتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے مگر وہ جذبات سے بلند اور عظمت نفس کا کامل مظہر دینوی ہنگاموں اور وقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اور کوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتا ہے اور مخالف پرپس پشت سے حملہ کرنے کو اپنے بلند نقطئہ نگاہ اور معیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے ہمیشہ کنارہ کش رہتا ہے-

وفات

 معتز باللّٰہ کے دور میں تیسری رجب 254ئھ کو سامرے میں آپ نے رحلت فرمائی- اس وقت آپ کے پاس صرف آپ کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السّلام موجود تھے- آپ ہی نے اپنے والد بزرگوار کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے فرائض انجام دیئے اور اسی مکان میں جس میں حضرت علیہ السّلام کا قیام تھا- ایوان خاص میں آپ کو دفن کر دیا وہیں اب آپ کا روضہ بنا ہوا ہے اور عقیدت مند زیارت سے شرف یاب ہوتے ہیں-

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 14:43| توسط غلام حیدر عابدی| |

حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت
  بسم اﷲ الرحمن الرحیم
حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت
محقق: ڈاکٹر میر محمد علی

ابتدائیہ:
امام علی ابن موسیٰ الرضا (ع) کی شخصیت اورعہدامامت کے تجزیاتی مطالعہ کو میں قرآن مجید کے سورہ حج کی ٤١ ویں آیت سے شروع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُالزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا
بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَالِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ O


ترجمہ:
''وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں جب زمین پر صاحب اقتدار بنایا گیا تو انہوں نے نماز قائم کی،
زکوٰۃ ادا کی ،نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا اور ہر چیز کا انجام اﷲ ہی کے ہاتھ میں ہے۔''
اس آیت کی تفسیر میں امام حسین (ع) اور امام موسیٰ کاظم (ع) سے منقول ہے کہ ''یہ آیت مخصوص ہے ہم اہل بیت (ع) کے لئے'' اور تفسیر نور الثقلین کے بموجب حضرت امام محمد باقر (ع) نے کہا کہ یہ پوری آیت آلمحمد (ص) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
( سید صفدر حسین نجفی١ )
ان وضاحتوں کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی عمومیت میں یہ آیت تمام ائمہ اثناء عشری کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس آیت کے مندرجات کے پس منظر میں جب ہم امام رضا (ع) کی معنوی ، علمی اور سیاسی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو امام رضا (ع) ایک امتیازی حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں وہ اس طرح کہ ائمہ حقہ امامیہ میں حضرت امیر المومنین (ع) کی ظاہری خلافت کے بعد امام رضا (ع) ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے اپنے دور امامت میں ولی عہدی کے منصب پر فائز ہوکر مندرجہ بالا آیت میں بیان کردہ شرائط کی تکمیل کے ساتھ انتظام مملکت میں اعانت کی عملی مثال قائم کی اور بتایا کہ دین سیاست سے اور سیاست دین سے جدا نہیں بشرطیکہ یہ عمل احکام خداوندی کے تحت بجالایا جائے۔
اس مقالے میں تین بنیادی حوالوں سے امام رضا (ع) کی شخصیت پر بحث کی گئی ہے۔
١۔ امام (ع) کی معنوی اور روحانی شخصیت۔
٢۔ امام کی سیاسی بصیرت اور ولی عہدی کے مضمرات۔
٣۔ امام کے علمی فیوض۔

حالات زندگی:
امام علی الرضا (ع) کی تاریخ و لادت ١١ ذیقعدہ ١٤٨ھ(م ٢٩ دسمبر ٧٦٥ئ) روز جمعہ یاپنجشنبہ پر اکثر مورخین متفق ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کی ولادت کا سال آپ کے جد بزرگوار امام جعفر صادق (ع) کے سال شہادت کا ہم عصر ہے(بحار الانوار ۔ روضۃ الواعظین) لیکن بعض مورخین کے بموجب جن میں شیخ صدوق بھی شامل ہیں تاریخ ولادت ١١ ربیع الاول ١٥٣ھ روز پنجشنبہ ہے ۔( عیون اخبار رضا، مروج الذہب)
لقب رضا کی وضاحت۔ ہمارے ائمہ علیہ السلام کے نام، لقب اور کنیت میں ایک خاص پیغام ہوتا ہے ( مثلاً سجاد (ع)، باقر(ع)، صادق (ع) وغیرہ ) ابن جریر طبری نے سال ٢١ھ کے واقعات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس سال مامون رشید نے امام علی بن موسیٰ بن جعفر(ع) کو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور ان کو ''الرضا من آلِ محمد (ع) '' کے نام سے مخصوص کیا۔ البتہ ابن خلدون نے ''الرضا '' کی جگہ ''الرضی '' تحریر کیا ہے۔ لیکن محمد جواد معینی(٢) (مترجم) کتاب '' امام علی بن موسیٰ (ع) الرضا (ع)'' نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ دلیل دی ہے کہ اس لقب کا ولی عہدی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مامون رشید کے وزیر خاص فضل بن سہل نے امام کے نام اپنے تمام پیغامات میں الفاظ '' بعلی بن موسیٰ الرضا (ع) '' سے مخاطب کیا ہے جو اس لقب کی قدامت پر دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ابوالحسن ، ابو علی اور ابو محمد آپ (ع) کی کنیت ہیں۔ امام (ع) کے رضا (ع) کے علاوہ اور بھی القاب ہیں جنہیں سراج اﷲ ، نور الھدیٰ ، سلطان انس وجن، غریب الغربا اور شمس الشموس وغیرہ ہیں جو آپ کی زیارتوں میں شامل ہیں۔
امام علی الرضا (ع) کی والدہ کا نام تکتم، نجمہ، خیزران، نجیہ اور طاہرہ تھا، آپ کا شمار عجم کی اشرافیہ سے تھا، آپ کی ازواج میں حضرت سبیکہ امام محمد تقی جواد(ع) کی والدہ تھیں۔ آپ کی زوجین کی نسبت سے امِ حبیبہ دختر مامون رشید کا نام بھی لیا جاتا ہے لیکن اس کی سند میں مورخین میں اختلاف ہے۔
امام کی اولاد کے سلسلہ میں مورخین میں دو امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اولاً یہ کہ ام حبیبہ کے بطن سے امام کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ دیگر یہ کہ سبیکہ نامی خاتون امام تقی جواد کی والدہ ہیں۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ ابن شہر آشوب، محمد بن جریر طبری، شیخ مفید اور طبرسی کے بموجب سوائے امام محمد تقی کے امام کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔ لیکن بعض روایات کے لحاظ سے امام (ع) کے دو فرزند محمد اور موسیٰ (ع) ، یا محمد و جعفر(ع) اور بعض کے مطابق پانچ فرزند اور ایک دختر تھی۔ امام کی اولاد کے سلسلہ میں جناب آغا مہدی لکھنوی ، (٣) نے اپنی کتاب ''الرضا '' میں ١٨ حوالوں سے یہ وضاحت کی ہے کہ امام (ع) کی ایک سے زیادہ اولاد تھی ان حوالوں میں صاحب کشف الغمہ، عبدالعزیز بن اخضر،ابن خشاب، سبط ابن جوزی اور شیخ ابراہیم کفعمی شامل ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ امام جعفر صادق (ع) کے بعد اسماعیل کے بارے جو غلط فہمی پیدا کی گئی اس کی تکرار کے سدباب کے لئے امام نے خود اپنی زندگی میں اولاد کو منتشر کردیا ہو اور خطرہ برطرف ہونے پر اپنے اولاد امام ہونے کا اظہار کردیا ہو۔
امام کی شہادت ٢٠٣ھ میں واقع ہوئی۔ ٢٥ رجب ١٨٣ھ ( م یکم ستمبر ٧٩٩ئ) کو امام موسیٰ کاظم کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ اس طرح امام رضا تقریباً ٣٥ سال اپنے والد بزرگوار کی سرپرستی میں گزارے لیکن اس دوران کئی موقعوں پر امام موسیٰ کاظم (ع) ہارون رشید کی قید کی سختیاں برداشت کرتے رہے اور یوں آپ شفقت پدرانہ سے زیادہ عرصہ تک محروم رہے، علامہ نجم الحسن کراروی (٤) نے والد کی شہادت کے وقت امام کی عمر ٣٠ سال بتائی ہے۔

اعلان امامت :
شیعہ عقیدہ کے بموجب امامت ایک وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اﷲ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام (ع) آنے والے کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس عمل کو نص کہتے ہیں یعنی منشائے الہٰی کا اظہار، امام موسیٰ کاظم (ع) نے اپنی زندگی میں ہی اہلبیت کی ممتاز شخصیتوں کے سامنے اپنے فرزند علی کی جانشینی کا اعلان فرمایا تھا ( حسن امداد۔ ترجمہ بحارالانوار۔٥)۔ ١٨٣ھ میں اپنے والد کی شہادت پر امام رضا (ع) نے اپنی امامت کا اعلان کیا۔ آپ ؑ کے اصحاب کو اس دور کے حالات اور بالخصوص امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے واقعات کے بعد یہ ڈر تھا کہ کہیں ہارون آپ ؑ کو گزند نہ پہونچائے۔ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام کا قول ہے کہ'' اگر ابو جہل میرا ایک بال بھی بیکا کرسکے تو گواہ رہنا میں پیغمبر نہیں ہوں۔ '' اس طرح ''اگر ہارون مجھے نقصان پہونچا سکے تو میں امام (ع) نہیں ہوں۔''( سید محمد صادق عارف ۔٦)
امام علی رضا (ع) نے اپنے ٥٥ سالہ دور زندگی میں چھ خلفا بنی عباس یعنی ، منصور، مہدی، ہادی، ہارون، امین اور مامون کا دور حکومت دیکھا، آپ ؑکی امامت کے ابتدائی دس سال کے دوران ہارون رشید کی خلافت تھی اس دور ان بغداد میں ہارون کے ظلم وستم کا بازار گرم تھا، ہارون کا ١٩٣ھ ( م ٨٠٩ئ) میں انتقال ہوا اس کے بعد ١٠ سال ہارون کے بیٹوں امین اور مامون کا دور خلافت تھا۔
امام کا ابتدائی دور۔ ہارون کے زوال کے آثار:
ہارون رشید کی خلافت کے آخری ایام انتہائی کشمکش اور اندرونی سازشوں کی دفاع میں گزرے۔ عوام اس کے ظلم و ستم سے بیزار اور باالخصوص دوستداران اہلبیت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد حکومت سے بدظن تھے۔ اس کوشش میں کہ عوام کو خوش رکھا جائے اور ان کے اعتماد حاصل کرنے کی خاطر ہارون کبھی مولائے کائنات(ع) کی فضیلت اور برتری کی باتیں کرتا اوربعد پیغمبر خلافت پر ان کے حق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا، معاویہ پر لعنت کو اس نے رسمی شکل دیدی تھی اور فدک کو علویوں کو واپس کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن ان اقدامات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد اس کا رویہ بدل گیا تھا۔ عیسیٰ جلودی کے ذریعہ سادات مدینہ کی اور اہلبیت کے مال و اسباب کی لوٹ مار کے واقعات اس کے شاہد ہیں ( صادق عارف ) ایک اہم عنصر جو ہارون کی پریشانی کا باعث تھا وہ اہل خراسان کا رویہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب بنی امیہ کے مظالم اپنی انتہاء کو پہونچ گئے تو ابو مسلم خراسانی نے ''دعوت رضائے آلِ محمد ؑ '' کے نام سے ایک تحریک شروع کی جس نے بالآخر بنی ہاشم کے طرفداروں کی جدوجہد کے نتیجہ میں بنی امیہ کی حکومت کو درہم و برہم کردیا۔ مگر جب عنانِ حکومت بنی عباس کے ہاتھ میں آنے کے بعد بھی اہل خراسان کو مایوسی رہی اور ''حق بحقدار'' نہیں ملا تو انہوں نے حکومت بغداد کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا۔ ان حالات کے نتیجہ میں ہارون نے محسوس کیا کہ بغداد میں بیٹھ کر خراسان کا انتظام نہیں چلا یا جاسکتا( علامہ ابن حسن جارچوی۔٧)۔
بالآخر ہارون رشید نے سلطنت بنی عباس کے انتظام اپنے تینوں بیٹوں امین، مامون اور قاسم میں تقسیم کردیا۔ امین کو جس کی ماں زبیدہ جو عربی نسل تھی منصور دوانیقی کے قبیلہ سے تھی اور مامون عیسیٰ بن جعفر سیاسی اہمیت رکھتا تھا اس نے عراق اور شام کا علاقہ سپرد کردیا جس کا دار الخلافہ بغداد تھا۔ اس طرح سے وہ عباسیوں پر قابو پانا چاہتا تھا۔ مامون کو جس کی ماں عجمی کنیز تھی ہمدان سے آگے ایران کے تمام علاقوں کا انتظام سپرد کردیا تاکہ عجمیوں کو زیر قابو رکھ سکے اس کا صدر مقام مرو( خراسان) تھا۔ باقی اطراف کے علاقے قاسم کے تسلط میں دیئے گئے۔
اس تقسیم کے نتیجہ میں بھائیوں کے درمیان یہ بھی معاہدہ ہوا تھا کہ امین کے بعد خلافت مامون کو ملیگی ۔ لیکن بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت کی اس انتظامی تقسیم نے امین اور مامون کے درمیان پہلے سے موجود نسلی تعصبات کو مزید ہوا دی۔ ہارون رشید کے انتقال ( ١٩٣ھ م ٨٠٩ئ) کے بعد دونوں بھائیوں میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ امین نے تقسیم کے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے موسیٰ کی بیعت کا حکم جاری کیا۔ حالات میں مزید سنگینی اس وقت پیدا ہوگئی جب محمد ابن ابراہیم طباطبا نے جو علویوں کی جانی شخصیت تھی بھائیوں میں اس محاذ آرائی کے دوران کوفہ سے یمن تک قبضہ جمالیا اور بغداد میں جہاں بنی عباس کا زور تھا علویوں کی شورش کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ چار سال کی معرکہ آرائی کے بعد امین کو شکست ہوئی اور وہ ١٩٨ھ میں قتل کردیا گیا اور مامون سلطنت بنی عباس کا خلیفہ بن گیا۔ ان تمام واقعات کے دوران امام رضا (ع) مدینہ میں مقیم رہے اور ہدایت ورشد کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے اس طرز عمل پر حکومت کی جانب سے کوئی تعرض نہیں تھا کیونکہ اس دوران حکومت اپنے اندرونی خلفشار سے نبردآزما تھی۔

امام رضا (ع) کی شخصیت:
شیعہ ائمہ کی شخصیت کے مطالعہ کے سلسلہ میں ان کی معنوی ،علمی اور سیاسی زندگانی کا جائزہ ضروری ہے۔ معنوی یا روحانی زندگی سے مراد وہ خصوصیات ہیں جو خدا کی خاص عنایات کے طور پر ان کے اور خدا کے درمیان ایک رشتہ استوار کرتی ہیں یہ ان کے عبادات ، تقویٰ اور اخلاق کی عکاسی کرتا ہے ۔ امام کی معنوی خصوصیات کے ضمن میں خود امام رضا (ع) فرماتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ امام (ع) تمام افراد سے دانا ترین، پرہیز گار، بردباری اور دلیری ، بخشش اور پارسائی میں سب سے افضل ہو۔ ان صفات کی موجودگی اس لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر کے بعد وہ احکام رسالت کا اجرا کنندہ ہے اور دین کے مبہم نکات اور دقیق مسائل جو عام انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں ان کی وضاحت امام کی ذمہ داری ہے۔ ( صادق عارف)

شخصیت معنوی:
امام (ع) کی شخصیت معنوی کے ضمن میں نجم الحسن کراروی لکھتے ہیں کہ امام (ع) گفتگو میں بیحد نرم مزاج تھے۔ جب بات کرنے والا اپنی بات ختم کرلیتا تب اپنی طرف سے کلام کا آغاز فرماتے۔ کسی کے کلام کو قطع نہیں کرتے۔ راتوں کو کم سوتے۔ اکثر روزہ رکھتے تھے مزدور کی مزدوری پہلے طے فرماتے پھر اس سے کام لیتے ۔ مشہور شاعر ابو نواس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس کے آباء واجداد کے آستانہ کا جبرئیل خدمتگار تھا اس کی مدح محال تھی۔ عبداﷲ بن مطرف بن ہامان سے مامون رشید نے امام رضا (ع) کی بابت دریافت کیا تو اس نے برجستہ کہا کہ اس کے بارے میں کیا کہوں جس کی طینت رسالت میں پیوستہ اور اس کی سرشت میں وحی ہے۔ ( جواد معینی /احمد ترابی) امام رضا (ع) اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں خلق پیغمبر کی ایسی تصویر تھے کہ بے اختیار رسول اکرم (ص) کا خلق یاد آجاتا تھا۔
امام (ع) کی شخصیت کے اخلاقی اور روحانی اوصاف کے ضمن میں حسب ذیل حوالوں کا ذکرضروری ہے۔
١۔ امام کے اخلاق کے پر توان کے بے شمار اقوال اور احادیث میں عیاں ہے۔ مولانا روشن علی نجفی نے'' گفتار
دلنشین چہار دہ معصوم علیہ السلام'' کے اردو ترجمہ میںچہاردہ معصومین (ع) میں سے ہر ایک کے حوالہ سے ٤٠اقوال
اوراحادیث نقل کیا ہے۔ امام رضا (ع) کی احادیث میں ایمان ،قران ، توحید ، مومن کی خصوصیات اور فلسفہ نماز کا ذکر ہے۔
٢۔ امام (ع) نے ذاتِ تعالیٰ کے اوصاف کی نسبت سے حروف تہجی کے ہر حرف کے پنہاں معنی پر بصیرت ، افروز
تبصرہ فرمایا ہے ۔ (سید غلام نقی )
٣۔ امام کے روحانی لتصرفات اور معجزات سے متعلق معلومات میں مرزا محمد علی خراسانی نے انگریزی میں زائرین
مشہد کے حوالہ سے امام (ع) کے ٣٤ معجزات تحریر کئے ہیں۔ عباس حیدر سید نے اپنی تالیف ''الحمد لللّٰہ'' میں
امام رضا (ع) کے ١٠ معجزات شامل کئے ہیں ۔
ائمہ علیہ السلام کی شخصیتوں کو سمجھنے کے لئے تاریخی بخل کے کوہ گراں کی رکاوٹوں کو تحقیق اور تجسس سے عبور کرنا ضروری ہے اس جستجو میں ہمیں فضل اﷲ بن روز بہان اصفہانی نظر آتے ہیں جو اپنی بعض تالیفات کی وجہ سے فریقین میں متنازع شخصیت ہیں ، لیکن چہاردہ معصومین (ع) پر صلوات کے موضوع پر اپنی کتاب ''وسیلۃ الخادم الی المخدوم'' میں آپ نے امام رضا (ع) کو احسان اور مودت کا پیکر، توحید کی نشانیوں کو رفعت عطا کرنے والا اور کمال علم و معرفت کے القاب سے یاد کیا ہے۔ ( نثار احمد۔ مترجم۔٨)

امام رضا (ع) اور عہد مامون رشید:
امام رضا (ع) کی زندگی کے آخری ١٠ سال جو کہ عہد مامون کے ہم زمان تھے تاریخی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس اہمیت کو سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ ماضی میں جانا ہوگا۔ واقعہ کربلا کے بعد خاندان رسول اور عام مسلمانوں کے درمیان جو رابطہ منقطع ہو گیا تھا ائمہ صادقین (ع) نے اپنے دور مدینہ میں اسلامی درسگاہ قائم کر کے اس کو بحال کردیا تھامیں یہاں ایک وقت میں ہزاروں طالبِ علم جمع ہوتے تھے۔ لیکن بہت جلد حالات بدل گئے۔دوسری صدی ہجری کے وسط تک ہارون رشید نے بنی عباس کی سلطنت کو عروج پر پہونچا دیا اور امام موسیٰ کاظم (ع) کی ایک طویل عرضہ کی قید تنہائی میں تشیع کی دنیا میں ایک خاموشی چھانے لگی اور ملوکیت نے واقعہ کربلا کو عوام کے ذہنوں سے مٹانے کی اپنی کوششوں کو تیز کردیا۔ صرف مدینہ اور حجاز کے کچھ حصوں میں فقہا اور دانشوروں کی حد تک اہلبیت کا ذکر محدود ہو گیا۔ ان حالات میں ١٨٣ھ میں امام (ع) ہفتم کی شہادت کے بعد امام رضا (ع) نے اپنی امامت کا اعلان کردیا تھا۔ امین کے قتل کے بعد امام رضا (ع) کے حوالہ سے مامون رشید کے لئے تین راستے تھے۔(١) اپنے آباء کی پیروی میں امام کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو امام کے والد کے ساتھ روا رکھا گیا یعنی قتل کردینا ، لیکن اس میں عوام کے غم وغصہ کا امکان تھا۔ ( ٢) امام (ع) کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا مگر اس میں وہ اپنی سلطنت کے لئے خطرہ سمجھتا تھا یا (٣) پھر امام کو اپنے سیاسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنالیتا، مورخین نے مامون رشید کو خلفائے عباسی میں بطور ایک طاقتور ترین، باہوش، دانشمند اور میانہ رو فرد کے طور پر پیش کیا ہے۔ امین کے قتل کے بعد مامون نے حالات کے تقاضوں کے تحت آخری متبادل صورت پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون نے یہ فیصلہ کیا کہ امام رضا (ع) کو خلافت کی پیشکش کی جائے۔ یہ ایک سیاسی چال تھی، جو شخص جاہ و اقتدار کے لئے اپنے بھائی کو قتل کردے یکایک اتنا انصاف پسند کیسے ہو گیا کہ آلِمحمد (ص) کو خلافت کا حقدار سمجھنے لگا۔ محسن مظفر ( ٩) نے مامون کے اس رویہ اور شیعیت کی طرف جھکاؤ کو ایک بناوٹی اور غیر فطری عمل قرار دیا ہے۔ اس فیصلہ میں مامون رشید کی نیت یہ تھی کہ امام (ع) کو اپنے رنگ میں رنگ لے اور دامن تقویٰ اور فضیلت کو داغدار کردے۔ اگر امام خلافت قبول کرلیں تو وہ اپنے لئے ولی عہد کی شرط پیش کرتا اور اس طرح اپنا استحقاق ثابت کرتا۔ امام رضا (ع) کو خلافت تفویض کرنے کے منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون چاہتا تھا کہ امام کو مرو بلایا جائے جو اس زمانہ میں خراسان کا مرکزی شہر تھا۔ شیخ مفید، شیخ صدوق، مسعودی اور کلینی جیسے مستند حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مامون نے امام رضا (ع) کے نام خط بھیجا اور مرو آنے کی دعوت دی۔ امام (ع) نے عذر ظاہر کیا لیکن مامون کے مسلسل خطوط کے نتیجہ میں امام (ع) نے محسوس کیا کہ مامون اس امر سے دستبردار نہ ہوگا اور آپ نے مدینہ سے مرو سفر کا ارادہ کرلیا۔

سفر امام رضا (ع)، مدینہ تا مرو:
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ ائمہ کے دو سفر ہیں جن کے درمیان تقریباً ١٤ سال کا زمانی فاصلہ ہے یعنی ٤٠ھ میں مدینہ سے امام حسین (ع) کا کربلا کا سفر اور ٢٠٠ ھ میں امام رضا (ع) کا مرو کا سفر۔ ان کی چند خصوصیات ہیں۔
١۔ امام حسین (ع) نے کربلا جانے کا فیصلہ اپنی صوابدید پر کیا۔ ( آزادانہ)
٢۔ امام رضا (ع) کا مدینہ سے مرو کا سفر مامون رشید کی درخواست پر ہوا۔
٣۔ امام حسین (ع) نے اپنے سفر کی راہ اور قیام کے مقامات خود طے کئے تھے۔
٤۔ امام رضا (ع) کے سفر کی راہ مامون کی ہدایات کے تحت منظم کی گئی تھی۔
٥۔ امام حسین (ع) اپنے ساتھ اپنے اہلبیت اور معتمداصحاب کو لے گئے تھے۔
٦۔ امام رضا (ع) نے خاندان کی کسی فرد کو ساتھ نہیں رکھا تھا۔
٧۔ امام حسین (ع) کے سفر کا ہدف حق و باطل میں خط فاصل کھینچنا تھا۔
٨۔ امام رضا (ع) کے سفر کا مقصد کربلا کے معرکہ کے ثمرات کی حفاظت اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ تھی۔
امام رضا (ع) کے مدینہ سے مرو کے سفر کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ قابل توجہ ان شہروں کا محل وقوع اور ان کی تاریخ ، سیاسی اور جغرافیائی اہمیت تھی جہاں سے امام گزرنے والے تھے۔ جواد معینی اور محمد ترابی کے مطابق امام (ع) کے سفر کے رستہ کے تعینی میں اس امر کو پیش نظر رکھا گیا کہ کاروان ایسے شہروں سے دور رہے جہاں دوستداروں اہلبیت کا غلبہ ہو۔ اس زمانہ میں مدینہ سے مرد تک دو مروج راستے تھے۔ ایک براہ بصرہ، اھواز، دشت لوط، فارس، نیشا پور سے گزرتا ہوا مرو پہونچا تھا جبکہ دوسرا کوفہ، بغداد، قم اور خراسان کی راہ تھا جس میں کوفہ، بغداد اور قم سیاسی لحاظ سے حساس سمجھے جاتے تھے۔ کوفہ شیعیان علی کا اجتماعی مرکز شمار ہوتا تھا اور بنی امیہ اور بنی عباس کے خلاف تحریک کا مضبوط مرکز رہا تھا، بغداد مامون کے سیاسی مخالفین اور متعصب عباسیوں کا مرکز تھا جو امین اور مامون کے درمیان کشمکش میں مخالف مامون رویہ اختیار کر گئے تھے۔ شہر قم کا شمار ان چند شہروں میں تھا جہاں دلوں میں خاندان علی (ع) ابن ابی طالب کی محبت موجزن تھی، ان سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر مورخین کا اتفاق ہے کہ امام رضا (ع) کے سفر کے لئے بصرہ، بناج، اھواز، اراکی، دشتِ لوط ، نیشاپور، طوس اور سناباد کا راستہ منتخب کیا گیا حالانکہ اس راستے میں زیادہ صعوبتیں تھیں۔

تفصیلاتِ سفر:
جلیل عرفان منش (١٠) نے اپنی کتاب '' جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا (ع) از مدینہ تا مرو'' میں اس سفر کی تفصیلات تحریر کی ہے جس کے بموجب مدینہ سے مرو کے سفر میں مامون نے رجاء ابن ابی ضحاک اور یاسر خادم کو بطور نگراں مقرر کیا تھا۔ امام (ع) کے خاص خادم ابا صلعت ہروی بھی ساتھ تھے۔ امام (ع) کی قبر رسول(ص) سے وداع کا منظر امام حسین (ع) کی رخصت سے بالکل مشابہ تھا۔ امام (ع) نے فرمایا کہ غربت میں میری رحلت ہوگی اور ہارون کے باز و دفن ہونگا۔ امام نے اپنے فرزند امام محمد تقی(ع) کو اپنا قائم مقام مقرر کرتے ہوئے اصحاب اور اعزہ کو ان کی ہدایات پر عمل کی تلقین کی۔ بعض روایات کے مطابق مدینہ سے امام نے مکہ کا ارادہ کیا لیکن جلیل عرفان نے مکہ کے سفر کو خارج از امکان قرار دیا کہ اولاً وہ خراسان کی مخالف سمت میں واقع تھا مزید برآں اس زمانہ میں مکہ میں محمد دیباج اور ابن افطس جو امام زین العابدین(ع) کی اولاد ہیں حاکم وقت کے خلاف قیام کیا ہوا تھا۔ اس وقت کے محدود ذرائع ابلاغ میں یہ سفر اہلبیت کی حقانیت کو نشر کرنے میں بیحد مثبت اثرات کا حامل تھا۔ سفر کے دوران امام (ع) کے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا جس میں سے چند یہ ہیں۔
٭ اھواز میں طبیب کو علاج کے لئے ایک نامعلوم درخت کے پتہ کی نشاندہی کرنا۔
٭ نیشاپور میں ٣٤ ہزارر اویوں کے سامنے حدیث سلسلۃ الذھب یعنی کلمۃ لا الہ الا اﷲ حصنی من دخل
حصنی امن بشر طہاوشرو طہا و انا من شرو طہا، کا اعلان اس میں ولایت کی شرط کے ذریعہ
''امام والے اسلام '' کے مقابلے میں ''ملوکیت کے اسلام '' کی نفی کردی۔
٭ نیشاپور میں چشمہ کابرآمد ہونا جو آج تک جاری ہے۔
٭ کوہ سنگی میں برتن بنانے کے پتھروں کا نرم ہوجانا جو آج تک موجود ہے۔
٭ بناج میں محمد بن عیسیٰ حبیب بناجی کو اس کے خواب کی تعبیر میں مثل آنحضرت صرف ١٨ کھجور دینا۔
( بحار الانوار ، صواعق محترقہ، عیون اخبار رضا )
تقریباً ایک سال کے سفر کے اختتام پر امام رضا (ع) ٢٠١ھ کے پہلے نصف ( م یکم مئی ٨١٧ئ) مرو میں وار د ہوئے۔ مرو پہونچنے پر مامون نے اور اہل خراسان نے امام کا شایان شان استقبال کیا۔ زمانہ گذشتہ میں بے شمار سیاسی اور مذہبی تحریکوں کے مرکز کی وجہ سے یہاں کے لوگ آزاد خیال اور کھلے دل والے تھے (ابن حسن جارچوی)۔ یکم رمضان المبارک ٢٠١ھ بروز پنجشنبہ امام کی ولی عہدی کا جلسہ منایا گیا اور لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔اس موقع پر مامون نے ''حلف نامہ ولی عہدی'' خود تیار کیا تھا جو بطور ضمیمہ مقالہ میں موجود ہے۔ امام (ع)کی ولی عہدی کے اعتراف میں جمعہ کے خطبہ میں آپ (ع) کے نام کا اضافہ کیا گیا اور حکومت کے سکوں پر آپ کا نام نقش ہوا۔ انہی سکوں کو عقیدتمندوں نے بعد کے دور میں بطور تبرک اور ضمانت سفر کے دوران اپنے پاس رکھنا شروع کیا جس سے رسم امام ضامن (ع) کی بناء پڑی۔ ( آغا مہدی)

شخصیت سیاسی:
حضرت امام رضا (ع) کا مامون رشید کی ولی عہدی قبول کرنا امور مملکت میں ائمہ کی شراکت کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ امام (ع) کے اس فیصلہ کے محرکات سمجھنے کے لئے جب ہم ائمہ حقہ کے ٣٥٠ سالہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بدلتا ہوا نقشہ نظر آتا ہے جس میں ہر امام نے اپنے دور کی حالات کے تقاضوں کے تحت ایک خاص حکمت عملی اختیار کیا۔ مثلاً علی ؑ نے ٣٤ سال خاموشی کے بعد اپنے زمانہ میں معاشرہ کی اصلاح، مخالفین سے جنگ اور مشکل فیصلوں کو امت کی اخلاقی، علمی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے ضروری سمجھا (نہج البلاغہ) امام حسن (ع) نے معاویہ کے ساتھ صلح کو ناگزیر جانا، اس کے برعکس حسین (ع) ابن علی ؑ نے شرائط صلح کی خلاف ورزی پر ایک نئے عنوان سے ہجرت اور جہاد کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان خط کھینچا، لیکن بعدِ کربلا امام سجاد ؑ نے ہدایت کے پیغام کودعاؤں کے پیرا ہن میں ملبوس کردیا جبکہ امام صادقین ؑ نے اموی اور عباسی خلافتوں کے درمیان انتقال اقتدار کی کشمکش کے وقفہ کو علوم و معارف اسلامی اور فقہ محمدی کی ترویج و اشاعت کے لئے بھر پور استعمال کیا، امام موسیٰ کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے بعد ائمہ نے بغداد اور سامرہ کے قید خانوں کی گوشہ نشینی سے پیغام حق پہونچا یا جبکہ امام رضا (ع) نے ولی عہدی قبول کر کے ایک منفرد اقدام کیا۔ اگر حالات کے تناظر میں ائمہ کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے تو یہ نہ تو ان کی صلاحیت یا فہم میں فرق کی نشاندہی ہے اور نہ فکر کا اختلاف ہے کیونکہ اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہ تمام ہستیاں اپنے مقصد و ہدف میں متحد تھے، ہر ایک کا مقصد صرف خدا کی ذات، اس کے دین کی ترویج اور کتاب اور سنت کے ذریعہ بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے سلسلہ کی حفاظت کرنا تھا جس کے لئے سید الشھداء ؑ نے عظیم قربانی دی تھی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر علی شریعتی اپنی کتاب ''تشیع'' میں لکھتے ہیں کہ امام صادق (ع) کے بعد تقریباً ٥٠ سال کے عرصہ میں استعماری قوتوں کے پروپیگنڈہ کے تحت عوام واقعہ کربلا کی اہمیت سے بے بہرہ ہورہے تھے اور تشیع کی تحریک اور اہلبیت کے علمی اور فکری جہادوں کی یاد محو ہو رہی تھی، اس لئے امام رضا (ع) کے لئے ضروری تھاکہ ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ ائمہ کی گذشتہ ٥ نسلوں کے تاریخی فاصلوں کو قریب لاسکے۔ امام صادق (ع) کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہوچکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حد تک باقی رہ گیا تھاجبکہ امام رضا (ع) اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے۔جس کے لئے امام (ع) کو ایک مرکزی مقام کی ضرورت تھی۔ (سیدمحمد موسیٰ رضوی) اس صورت حال کو جب ہم امام (ع) کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں تو امام (ع) جانتے تھے کہ ولی عہدی کی پیشکش میں مامون قطعی مخلص نہیں تھا بلکہ وہ امام کو اپنے اور بنی عباس کے مخالفین بغداد کے علویوں اور خراسان کی تحریکوں کے مقابل بطور بند باندھنا چاہتا تھا۔ لیکن امام (ع) نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ فیصلہ کیا کہ اس موقع کو جو دشمن نے اپنی احتیاج کے تحت فراہم کیا ہے خود اس کے خلاف استعمال کریں اور شیعیت کی تحریک کو زندہ کریں یہ بھی امکان تھا کہ اگر وہ مامون کی پیشکش قبول نہ کرتے تو وہ یا تو قید کردیئے جاتے یا قتل کر دیئے جاتے جو اس زمانہ کا معمول تھا۔ امام رضا (ع) مامون کے خلاف کسی فوج کشی کی تیاری نہیں کر رہے تھے بلکہ جس علمی مبارزہ کے ذریعہ وہ پیغام حق پہونچانا چاہتے تھے اس کےلئے ایک موافق ماحول کی ضرورت تھی۔ امام رضا (ع) بھی خود اپنے علم امامت سے جانتے تھے کہ وہ اس نوعیت کی خلافت کے لئے ناموزوں ہونگے، جو مامون پیش کر رہا تھا اور ان کے لئے دائرہ امامت سے بالکل باہر آجانا مناسب نہیں ہوگا اس لئے امام (ع)نے مامون رشید کی خلافت کی پیشکش کی سختی سے مخالفت کی۔ اس ضمن میں امام (ع) اور مامون رشید کے درمیان طویل گفتگو ہوئی بالآخر مامون کے شدید اصرار پر آپ (ع) نے فرمایا کہ'' خدا نے انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے۔''( اشارہ قتل کا امکان ہے) لہٰذا امام (ع) نے مشروط ولی عہدی قبول کی کہ وہ حکومتی کاروبار سے علیحدہ رہیں گے۔ لفظی یا عملی امرونہی کو انجام نہیں دیں گے۔( احکامات صادر کرنا) اور صرف دور سے رہنمائی کے فرائض انجام دیں گے۔ (جلیل عرفان)
اس منزل پر مکتب اہلبیت اور ان کے مزاج سے واقف افراد یہ سمجھنا چاہیں گے۔ کہ حکومتی عہدہ قبول کرنا ائمہ گزشتہ کا شیوہ نہیں رہا تھا تو امام (ع)نے ایسا کیوں کیا؟
ذیشان حیدر جوادی (١٢) نے نقوش عصمت میں ولی عہدی کے موضوع کا مامون اور امام رضا (ع) کے نکتہ نظر سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں مامون کے نزدیک ولی عہدی کی پیشکش کا مقصد امام کو زیر نظر رکھنا، ان کا عوام سے رابطہ منقطع یا دشوار بنانا ، ان کی نظام حکومت میں شمولیت کے ذریعہ اپنی خلافت کی عظمت میں اضافہ کرنا اور اس کے لئے ایک شرعی تائید حاصل کرنا تھا، اور سب سے اہم علویوں کی انقلابی تحریکوں کو دبانا تھا۔
اس کے بر خلاف امام علی رضا (ع) نے ولی عہدی کو اس وقت کے سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے پیش نظر احکام اور تبلیغات اسلامی کی ترویج و اشاعت کا موثر ذریعہ قرار دیا اور'' مکرہ' مکراﷲ'' کے قرآنی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ سے مرو کے سفر کے دوران اور عہد ولی عہدی میں حکومتی پروٹوکول کی موجودگی میں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں میں شرکت، نماز عید، بارش کی دعاؤں ، زینب گذابیہ اور دیگر واقعات امام (ع) کی اس حکمت عملی کا حصہ تھے۔
اس لحاظ سے ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ گو ولی عہدی قبول کرنا تاریخ ائمہ کے دھارے میں ایک منفرد واقعہ ہے جو ناواقفین میں شکوک پیدا کرسکتا ہے لیکن درحقیقت یہ امام (ع) کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ کو کس طرح ایک اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوران ولی عہدی کے واقعات امام کے مناظروں اور علمی فیوض سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ امام رضا (ع) نے اپنے فیصلے سے یہ بات ثابت کردیا کہ خداوند عالم کی صحیح خلافت اور نمائندگی کے حقدار صرف ائمہ ہیں اور زمین پر خدا کی حجت اور اس کے نمائندہ ہیں اور یہ عہدہ نا قابل انتقال ہے۔

شخصیت علمی:
امام رضا (ع) کے عہد کو ہم علمی عزوات (Academic crusades) کا عہد کہہ سکتے ہیں۔ آپ جب ظاہری امامت پر فائز ہوئے تو اسلام پر علوم باطلہ کی یلغار تھی اور ہر جانب سے اسلام کی حقانیت اور صداقت کو علمی حیثیت سے زیر کرنے کی کوشش جاری تھی۔
امام جعفر صادق (ع) کے بعد امام رضا (ع) کو ترویج علم و دانش کا سب سے زیادہ مواقع ملا۔ امام موسیٰ کاظم (ع) اپنے اہل خاندان اور فرزندوں کو فرماتے تھے کہ'' تمہارے بھائی علی رضا (ع) عالم آل محمد ہیں'' احادیث میں ہر ٣ سال بعد ایک مجدد اسلام کے نمود و شہود کا نشانہ ملتا ہے علامہ ابن اثیر جندی اپنی کتاب جامع الاصول میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضا (ع) تیسری صدی ہجری میں مجدد تھے اور حضرت یعقوب کلینی چوتھی صدی ہجری میں مجدد تھے۔ شاہ عبدالعزیزی محدث دہلوی نے ''تحفہ اثنا عشری'' میں ابن اثیر کا قول نقل کیا ہے۔
امام علی رضا (ع) اہلبیت کے ان اماموں میں سے ہیں جنہوں نے عمومی طور پر اپنی دانش اور علم اور اپنے شاگردوں کی تعلیم وتربیت اور مختلف موقعوں پر کئے جانے والے سوالات اور جوابات ، مباحثات اور علمی مناظروں کے ذریعہ اسلامی فکر کو مالا مال کیا۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ ان ائمہ نے کسی دانشمند سے سبق لیا ہو بلکہ ان کی دانش کا سرچشمہ ان کے جد بزرگوار حضرت آنحضرت تھے جن سے انہوں نے ور اثتاً علم حاصل کیا۔
عیسیٰ یقطینی کا بیان ہے کہ میں نے امام کے تحریری مسائل کے جوابات کو اکٹھا کیا تو ان کی تعداد تقریباً ١٨٠٠٠ تھی۔
مامون رشید کا یہ دستور تھاکہ مختلف مذاہب کے علما کو دربار میں امام (ع) کے رو برو بحث کی دعوت دیتا۔ محد ثیں و مفسرین اور علما جو آپ (ع) کی برابری کا دعویٰ رکھتے تھے وہ بھی ان علمی مباحث میں آپ کے سامنے ادب سے بیٹھتے تھے۔ زہری ، ابن قتیبہ، سفیانِ ثوری، عبدالرحمن اور عکرمہ نے آپ سے فیض حاصل کیا ان مناظروں کے پیچھے مامون کے سیاسی مقاصد بھی تھے۔ علمی مباحث سے طبعادلچسپی کے باوجود مامون یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذریعہ امام کی شخصیت ،علویوں اور انقلابیوں کی توجہ کا مرکز بن جائے بلکہ اس موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی وقت امام (ع) جواب دینے سے عاجز ہو جائیں جو ناممکن تھا بلکہ مامون کی خواہش کے برعکس یہ مناظرات امام (ع) کے علمی شکوہ وشائستگی اور شیعہ عقیدہ کی برتری منوانے کا ذریعہ بن گئے۔(جواد معینی)
امام (ع) کے مناظروں میں ایک قابل ذکر مجلس میں جاثلیق، مسیحی پادریوں کا رئیس، راس الجالوت یہودی دانشمند، ہندو دانشور، پارسی، مجوسی، بدھ اور دیگر مذاہب کے علما بہ یک ساتھ موجود تھے۔ امام (ع) نے ہر عالم سے اس کی اپنی مقدس کتاب کے حوالوں سے اس کی مروجہ زبان میں بحث کی۔ ایک اور مناظرہ خراسانی عالم سلیمان مروزی کے ساتھ ہوا جس میں مسئلہ بداء موضوع بحث تھا۔ علی بن جھم سے مناظرہ میں عصمت پیغمبران پر بحث ہوئی جس میں امام (ع) نے حضرت یوسف، ذالنون اور داؤد علیہ السلام کے واقعات سے اپنی دلائل کو مستحکم کیا۔ المختصر ان مناظروں کے ذریعہ امام (ع) کو جید علما اور فقہا کی موجودگی میں اپنے علم و فضیلت کے اظہار کا موقع ملا جو ان کی حکمت عملی کا ایک جزو تھا۔

تالیفات:
اکثر ائمہ علیہ السلام کی زندگی کے زیادہ تر حصے حکومت وقت کی سختیوں اور پابندیوں سے دوچار رہے۔ امام رضا (ع) کی مدت امامت کے ٢٠ سال میں سے صرف تقریبا ٣ سال ایسے تھے کہ نسبتاً آپ نے ایک بہتر ماحول میں وقت گزارا لیکن یہاں بھی ہمیشہ ایک مسلسل نگرانی (Surveliance) کی فضا موجود تھی، ان کے عقیدتمندوں کا حکومتی عملہ ہمیشہ پیچھا کرتا۔ اس گھٹن کے ماحول کے باوجود مختلف موضوعات پر ائمہ حقہ کے علمی فیوض تک رسائی کی اور ان کو قلمبند کیا جو اب ان ائمہ کی تالیفات کی شکل میں موجود ہے۔ امام رضا (ع) سے منسوب تالیفات کا ایک سرسری ذکر حسب ذیل ہے۔
١۔ کتاب فقہ رضوی: یہ کتاب دانشمندوں کے درمیان موضوع بحث بنی ہے۔ کچھ علما جن میں مجلسی اول ودوم بحرالعلوم ، صاحب حدائق اور شیخ نوری شامل ہیں اس کو معتبر شمار کرتے ہیں۔ یہ امام (ع) سے منسوب احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ شیخ صدوق کے والد کی تالیف ہے جن کا نام علی بن موسیٰ (ع)تھا اور نام کے ساتھ رضا کا اضافہ کاتب کی غلطی شمار کیا گیا۔ بعض اس کو شیخ صدوق کی تالیف قرار دیتے ہیں جنہوں نے روایات کو اسناد کے بغیر جمع کیا۔ آغا مہدی صاحب کے بموجب اس کا فارسی ترجمہ'' فقہ رضوی'' اصل نسخوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا جو ممتاز علما کے پاس پائے گئے۔
٢۔ کتاب محض الاسلام : نماز اور دیگر واجبات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے متعلق عام رائے یہ ہے کہ یہ فتوؤں کا مجموعہ ہے۔ لیکن جو اد فضل اﷲ کو اس کی سند میں شک ہے۔
٣۔ صحیفۃ الرضا: فقہ کے موضوع پر ہے لیکن اسکا انتساب امام کی طرف ثابت نہیں ہوسکا البتہ مستدرک الوسائل میں اس کو قابل اعتماد قرار دیا گیاہے۔ اسی نام سے ایک اور رسالہ حدیث ''سلسلۃ الذھب ''پر مشتمل ہے جس کا اردو ترجمہ حکیم اکرام رضا نے نول کشور پریس لکھنو سے شائع کروایا ہے۔ ( آغا مھدی)
٤۔ امام رضا اور طب: امام رضا کے علمی فیوض میں سب سے اہم رسالہ ذھبیہ یعنی (Golden Treatise) طب کے موضوع پر ہے۔ علم طب سے امام کے خصوصی تعلق کی بظاہر ایک وجہ اس کی ابتدائی ترویج و فروغ میں ملت ایران کا امتیازی کردار ہے۔ ظہور اسلام سے قبل ایران کے صوبہ خوزستان کے جندی شاہ پور کے شفاخانہ کا شمار دنیا میں علم طب کی پہلی یونیورسٹی کے طور پر ہوتا ہے۔ ایران کے مسلمان قابل الذکر علما میں محمد بن ذکریا اور بو علی سینا کا نام لیا جاتا ہے۔ دانشور جو اد فاضل (١٣) نے اپنی تالیف '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات'' میں طب سے متعلق معصومین (ع) کے ارشادات کو طب النبی (ص) ،طب الصادق اور طب الرضا کے عنوانات کے تحت جمع کیا ہے طب النبی کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کے ١٤ ویں جلد'' السماالعالم'' میں نقل کیا ہے۔ طب الصادق کی تفصیلات کشف الاحضار ، خصال اور بحار میں موجود ہیں۔ طب الرضا کی اساس وہ تفصیلی خط ہے جو امام رضا (ع) نے نیشاپور میں ٢٠١ھ میں مامون کو ارسال کیا تھا۔ اس ضمن میں مامون اور امام کے علاوہ مشہور اطبا یوحنا ابن ماسویہ، جبرئیل بن یختی یشوع، حکیم بن سلمہ کے درمیان '' انسانی جسم اور حفظان صحت کے اصول'' کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اس رسالہ میں وہ تمام معلومات موجود ہیں جن پر آج علم طب کی بنیاد ہے مثلاً فزیا لوجی، پتھالوجی، اناٹومی، جسم انسانی کا ڈھانچہ ، اعصاب اور ان کے وظائف وغیرہ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اسلامی طب کی بنیاد اعتدال ہے جو قران کریم کی آیت ''کلو والشر بو ولا تسرفوا'' ( سورہ اعراف) ''کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو'' کی عملی تفسیر ہے۔ اس کے کئی تراجم ہیں اور بے شمار شرحیں لکھی گئی ہیں جو عربی اور فارسی میں ہیں ( صادق عارف) لیکن اردو دان طبقہ کے لئے یہ امر باعث فخر و اطمینان ہے کہ علامہ رشید ترابی ١٤ نے بھی اپنی تالیف '' طب معصومین '' کے ذریعہ اس ضمن میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب میں مختلف امراض کے لئے چہاردہ معصومین (ع) کے تجویز کردہ علاج کو یکجا جمع کیا ہے۔ ایک جامع مقدمہ میں علامہ موصوف نے اپنے خاص انداز میں صحت انسان سے متعلق قرآن کی آیات اور ائمہ کے ارشادات اور تجربات کو قلمبند کیا ہے۔ اس کتاب کے انتساب میں ان کی فکر رسا کے اندا ز دیکھئے'' اے صبح اول یہ درر ارشادات تیرے ہی گلے کے موتی ہیں مگر زمانے کے ہاتھوں بکھر گئے تھے میں نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور آج تیرے دروازہ پر ان کو تیر ے ہی ہاتھوں بیچنے کے لئے آیا ہوں اس کی قیمت یہ ہے کہ تو مجھے دیکھ کر ایک مرتبہ مسکرا دے۔''

امام رضا کے اصحاب اور شاگرد:
اما م رضا (ع) کے اصحاب اور شاگرد کی ایک طویل فہرست ہے۔ بطور نمونہ چند کا حوالہ مقصود ہے۔
١۔ نصر بن قابوس ٢٠ سال تک امام صادق (ع) کے وکیل رہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ امام موسیٰ کاظم (ع) اور
امام رضا (ع) کی امامت کے نصوص کے شاہد ہیں۔ (وصایت)
٢۔ زکریا بن آدم بن عبداﷲ قمی، امام کے مخصوص اصحاب میں سے تھے۔ ان پر اعتماد کا یہ حال تھا کہ امام نے آپ
کو اپنی طرف سے سوالات کے جوابات پر مامور کیا تھا۔
٣۔ محمد بن اسماعیل مرد ثقہ اور خاص اصحاب میں سے تھے۔ ان کے مرتبہ کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ
علامہ بحرالعلوم طباطبائی کی ولادت کی رات ان کے والد جناب سید مرتضیٰ کے خواب میں امام رضا (ع) کی طرف
سے بھیجی ہوئی شمع روشن کی۔
٤۔ اس کے علاوہ حسن بن محبوب السراد الکوفی، حسن بن علی بن زیاد کوفی اور صفوان بن یحییٰ و غیرہ ہیں ۔
٥۔ امام کے اصحاب میں عامتہ الناس میں دعبل بن علی الخزاعی کو بیحد شہرت نصیب ہوئی یہ شاعر تھے۔ ایام
عزاداری میں امام شعرا اور ذاکرین کو اپنی موجودگی میں ممبر پر بیٹھنے کے لئے اصرار کرتے۔ بعض روایات کے مطابق ایک مرتبہ دعبل نے اپنے ایک مرثیہ میں جناب سیدہ کو مخاطب کرتے ہوئے اہلبیت کی بکھری ہوئی قبروں کا ذکر کیا تو امام نے اپنی طرف سے اس مرثیہ میں ایک شعر کا اضافہ کردیا جس میں طوس میں ایک قبر کا ذکر تھا۔ دعبل کے استفسار پر امام نے کہا کہ یہ میری قبر ہوگی جو طوس میں بنے گے اور جو شخص میری زیارت کریگا وہ روز قیامت میرے ساتھ محشور ہوگا۔

شہادت:
مامون رشید نے امام (ع) کو صرف اس غرض سے ولی عہد بنایا تھا کہ امام (ع) کے ذریعہ علویوں کی مخالفت پر قابو پائیگا اور امام (ع) اس کے سیاسی امور میں مدد کریں گے۔ جب اس نے امام کی امور سلطنت میں بے رخی دیکھی اور ساتھ ساتھ آپ (ع) کے علم، فضل اور روحانیت کا چرچہ دیکھا تو وہ عوام کی متوقع بیداری سے خائف ہوگیا اور اس کو خلافت عباسی کے لئے خطرہ سمجھا، بغداد کے عباسیوں پر قابو پانے سے پہلے اس نے اپنے وزیر خاص فضل بن سہل کو قتل کروایا اور پھر ٢٠٣ھ میں امام (ع) کو زہر دیکر شہیدکردیا ''ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک۔'' مورخین کی اکثریت ماموں کو اس جرم کا ذمہ دار سمجھتی ہے جبکہ بعض امام (ع) کی ناسازی طبع کو رحلت کا سبب قرار دیتے ہیں اور شبلی نعمانی''المامون'' میں مامون کو اس جرم سے بالکل بری قرار دیتے ہیں۔
امام (ع) کے روز شہادت میں ١٧ صفر، آخر ماہ صفر اور رمضان کے آخری ہفتہ کی تواریخ قابل ذکر ہیں۔ مقام قبر کے لئے خراسان کے انتخاب پر ابن حسن جارچوی لکھتے ہیں کہ عید کے دن امام نماز تو نہ پڑھاسکے لیکن اہل خراسان کو امام کے بلند مقام کا اندازہ ہوگیا اور ان کے دلوں میں امام (ع) کے لئے مودت اس قدر پیوست ہو گئی کہ آج صدیاں گزر نے کے بعد بھی ان کی وفاداریاں عیاں ہیں شاید ان کا یہی طرز عمل تھا کہ امام (ع) نے اس سر زمین کو اپنا دائمی مسکن بنالیا۔

تتمہ:
تتمہ کلام میں اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت امیر المومنین (ع) سے لیکر امام حسن عسکری (ع) تک ہمارے کسی امام کی طبعی موت واقع نہیں ہوئی۔ واقعہ کربلا نے تیغ و سناں کے زخموں کا سلسلہ تو ختم کردیا لیکن ائمہ کی زہر خورانی کا ایک مسلسل عمل قائم رہا اور نت نئے طریقوں سے یہ مقصد حاصل کیا گیا ائمہ کی مدت حیات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں امام رضا (ع) کے بعد کے ائمہ یعنی امام تقی جواد(ع)،امام هادی(ع) اور امام حسن عسکری (ع) جو ملقب بہ ابن الرضا (ع) بھی ہیں دشمنوں کے ہاتھوں کو تاہی عمر کا شکار ہوئے۔ جب یہ صورت پیدا ہوئی تو خدائے تعالیٰ کو بھی ان انوار عصمت کی حفاظت کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑی پہلے مرحلے میں جسے ہم غیبت صغریٰ کا آزمائشی دور بھی کہہ سکتے ہیں اس نے اپنے ولی کو ایک معینہ مدت ٦٩ سال تک پردہ میں چھپادیا۔ اس دوران علما کے ایک گروہ کو تیار کیا گیا جو نواب اربعہ کے نام سے موسوم ہوئے جن کی خدمات سے بتدریج اجتہاد کے نظام کا ارتقاء عمل میں آیا۔ یہ خداوند تعالیٰ کا ہمارے مراجع اجتہاد کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کی علامت ہے کہ بالآخر اس نے اپنے ولی کو مصلحتاً ایک غیر معینہ مدت تک پردہ غیب''غیبت کبریٰ'' میں چھپادیا ہے، خدا ہماری مدد کرے اور توفیق دے کہ ہم'' انتظار امام (ع) '' کی امانت کو'' انتصار امام (ع)'' سے بدلنے کے قابل ہوسکیں۔

اظہار تشکر:
اس مقالہ کی تدوین کے سلسلہ میں شکر گزار ہوں اسلامک ریسرچ اینڈ کلچر سینٹر کراچی کا جن کی شیخ مفید لائبریری سے حوالہ کا مواد مل سکا یہ ایک چھی لائبریری ہے اور اس کے لائبریرین موسیٰ رضا صاحب بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔ آل عبا ٹرسٹ کی لائبریری سے بھی چند اچھی کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔ میں بالخصوص اپنے ایرانی دوست آقائے مرتضیٰ طلوع ہاشمی ( مقیم مشہد) کا بیحد ممنون ہوں کہ انہوں نے امام رضا (ع) سے متعلق موضوعات پر آستانہ قدس مشہد کے ریسرچ سنٹر میں شائع ہونے والی کتابیں مہیا کیں جن کو میرے بھانجے محمود رضا نے بہ حفاظت پہونچایا۔ آغا موسیٰ رضا صاحب کی وساطت سے ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب سے بھی مواد حاصل کیا گیا۔ میں خطیب آل عبا مولانا ناصر عباس زیدی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس مقالہ سے متعلق مفید مشورہ سے نوازا۔ منتظمین گروہ جعفری پاکستان اور آلِ عبا ٹرسٹ قابل مبارکباد ہے کہ تسلسل سے اس فکری اور مطالعاتی پروگرام کے ٥ سال مکمل کئے۔ میں خدا ئے تعالیٰ اور چہاردہ معصومین (ع) کا شکر گزار ہوں کہ ائمہ حقہ کے فیوض جاری کے صدقہ میں مجھے اس دینی خدمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا مواقع ملا خدا میری اس خدمت کو قبول فرمائے۔ آمین ۔

عہد نامہ ولی عہدی
ابو الحسن اربلی نے کشف الغمہ میں عہد نامہ ولی عہدی جو مامون رشید اور امام رضا (ع) کے درمیان طے پایا مکمل متن درج کیا ہے ۔ جواد معینی اور احمد ترابی نے '' امام علی بن موسیٰ الرضا (ع) منادی توحید و امامت '' میں اس کی تفصیلات دی ہے۔ قارئین کے استفادہ کے لئے کچھ اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مامون رشید نے بقلم خود اس عہدنامہ کو تحریر کیا تھا۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم:یہ تحریر عبداﷲ بن ہارون کی جانب سے اس کے ولی عہد علی بن موسیٰ (ع)کے درمیان ہے۔ خدا نے اسلام کو ایک برگزیدہ دین کی حیثیت سے اس کی تبلیغ کے لئے پیغمبران کو مبعوث کیا تاکہ مخلوق خدا کی رہنمائی کی جائے اور بالآخر پیغمبر اکرم کو تمام انبیاء پر گواہ قرار دیا۔ جب نبوت اختتام کو پہونچی تو بندگان خدا کی مسؤلیت خلفاء اور جانشینان رسول کو منتقل ہوئی۔ عوام پر لازم ہے کہ ان جانشینوں کی اطاعت کریں تاکہ مسلمانوں کے درمیان رشتہ وحدت مضبوط ہو۔ ان جانشینوں کے لئے لازم ہے کہ احکام خداوندی پر کاربند رہیں '' اس کے بعد مرقوم ہے کہ ''مامون نے محسوس کیا کہ اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس امر میں وہ ایک ولی عہد کی تلاش میں تھا تاکہ خدا کے سامنے سرخرو ہو کر وہ اپنے فرائض کو احسن طریقہ پر انجام دے سکے۔ اس جستجو میں انتہائی تلاش کے بعد عباسیوں اور علویوں کے درمیان حضرت علی بن موسیٰ (ع)کو فضل ، شرافت، علم، زہد اور تقویٰ کے لحاظ سے موزوں ترین اور شائستہ ترین پایا۔''
مامون نے اپنے اہل خانہ، سرداران لشکر اور کارگزاروں سے اس ضمن میں امام کی بیعت لیّ (دو شنبہ ١٧ رمضان ٢٠١ھ)
مامون کی درخواست پر امام (ع) نے بھی اس عہد نامہ پر اپنی جانب سے چند خیالات مثبت کئے۔
''بسم اﷲ الرحمن الرحیم :خدائے تعالیٰ جو چاہتا ہے اس میں چوں و چرا کی گنجائش نہیں۔ وہ ہر ایک کی نیت اور ارادوں سے واقف ہے، فرمانروائے مومنین کو توفیق ہوئی کہ ہمارے حق کو جسے دوسروں نے نہیں پہچانا اس کا رسمی اظہار کیا اور عباسیوں اور علویوں کے درمیان جو رشتہ ٹوٹ گیا تھا اس کو پیوست کیا۔ خلیفہ نے اپنی ولی عہدی مجھے سپرد کی ہے اور اپنے بعد فرمانروائی کے لئے معین کیا ہے بشرطیکہ میں اس کے بعد زندہ رہوں'' امام نے اپنے ارشاد میں لوگوں کو کار خیر پر کاربند رہنے کی تاکید کی اور خدا کو گواہ رکھتے ہوئے یقین دلایا کہ '' اگر مجھ پر مسلمانوں پر حکومت کی ذمہ داری عائدکی گئی تو میں تمام افراد اور بالخصوص بنی عباس کے ساتھ خدا اور رسولؐ کے فرماں کے بموجب کام کرونگا کسی بے گناہ کا خون نہ بہے گا اور کسی کی ناموس اور ملکیت دوسرے کے لئے مباح نہ ہوگی، سوائے اس کے کہ قانون الہٰی کے تحت خدا سے اس کام میں مدد چاہو نگا اور اس کو اس ضمن میں گواہ رکھو نگا۔''
اس عہد نامہ کے سباق وسباق میں حسب ذیل امور پنہاں ہیں:
١۔ مامون کا تاکید اً اپنے آپ کو امیر المومنین لکھنا ۔
٢۔ امام رضا کی بیعت کے ساتھ اپنی بیعت طلب کرنا یعنی اپنی خلافت کی تصدیق چاہنا۔
٣۔ مامون بعد پیغمبر خلافت کو عہدہ کمال سمجھتا تھا جبکہ اہلبیت کی نظر میں امامت کمال دین کے مقام پر ہے۔
٤۔ مامون خلافت کو اپنے لئے خدا کا عطا کردہ منصب سمجھتا تھا۔
٥۔ مامون اپنے تمام افعال اور حکمرانی کی پالیسیوں کو مبنی بر شریعت قراردیتا ہے۔
٦۔ مامون ولی عہدی کے عہدہ کی تفویض کو اپنی طرف سے علویوں پر احسان و ایثار بتاتا ہے۔
٧۔ امام کے نوشتہ سے ظاہر ہوتا کہ حق حکومت امام (ع) کے لئے ہے اور دوسرے غاصب ہیں۔
٨۔ امام (ع) نے مامون کے بعد اپنی خلافت کو ''بشرط زندگی '' مشروط کر کے یہ بتا دیا کہ اس امر کا وقوع محال ہے۔
امام نے تحریر میں اس امر کا بھی اشارہ کیا ہے کہ ماضی میں اسلام کی حفاظت اور بہتر مصالح کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرز عمل کو حضرت امیر المومنین (ع) ، امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) نے معاویہ کی حکومت کے دور میں روا رکھا تھا بعینہ یہی عمل امام (ع) سے سرزد ہوا۔
اس عہد نامہ پر اس وقت کی سربراہ اور وہ شخصیات نے جیسے یحیٰی بن اکثم، حماد بن نعمان، فضل بن سہل نے دستخط بہ حیثیت گواہ کئے ہیں۔

حوالے
١۔ سید صفدر حسین نجفی (مترجم) القرآن الکریم ترجمہ و حواشی از تفسیر نمونہ۔ مصباح القران ٹرسٹ ۔ لاہور ١٩٩٥ئ
٢۔ محمد جواد معینی و احمد ترابی '' امام علی موسیٰ الرضا (ع) ، منادی توحید و امامت'' (فارسی)
بنیاد پژو ھشہای اسلامی ۔ آستانہ قدس۔ مشہ٢ ١٣٨(ایرانی) م ٢٠٠٠ئ
٣۔ سید آغا مہدی لکھنوی ''الرضا'' جمعیت خدام عزا النجف، کراچی ١٩٦٦ئ
٤۔ نجم الحسن کراروی '' چودہ ستارے '' امامیہ کتب خانہ لاہور ١٣٩٣ئ
٥۔ سید حسن امداد (مترجم) '' بحار الانوار جلد پنجم حالات ابوالحسن علی ابن موسی الرضا (ع) '' علامہ مجلسی،
محفوظ بک ایجنسی کراچی ۔
٦۔ سید محمد صادق عارف ( مترجم) '' تحلیل از زندگانی امام رضا (ع) ( فارسی)'' محمد جواد فضل اﷲ۔
بنیاد پژد ھشہای اسلامی ١٣٧٧ھ ایرانی ، مشہد، ١٩٩٥ئ
٧۔ علامہ ابن حسن جارچوی '' عہد مامون و امام رضا (ع) '' انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر اینڈ ریسرچ، کراچی
٨۔ نثار احمد زین پوری، مترجم '' وسیلۃ الخادم الی المخدوم در شرح صلوٰت چہاردہ معصوم (ع) '' (فارسی)
فضل اﷲ بن روز بہان خنجی اصفہانی، انصاریاں پبلیکشنز، قم ۔ ١٤١٧ھ
٩۔ سید محسن مظفر نقوی '' الرضا سیرت امام علی بن موسیٰ (ع)'' خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی، ١٩٨١ئ
١٠۔ جلیل عرفان منش '' جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا (ع) از مدینہ تا مرو'' (فارسی)
١١۔ سید محمد موسیٰ رضوی ( مترجم )'' تشیع۔ محمدی اسلام کے آئینہ میں '' ڈاکٹر علی شریعتی ، ادارہ ن و القلم کراچی ٢٠٠٢ئ
١٢۔ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، '' نقوش عصمت ، چہاردہ معصومین (ع) کی مکمل سوانح حیات''
محفوظ بک ایجنسی ، کراچی ۔ ٢٠٠٠ئ
١٣۔ جواد فاضل، مترجم '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات '' الحسن بکڈپو، کراچی، ١٩٩٩ئ
١٤۔ علامہ رشید ترابی '' طب معصومین (ع)'' محفوظ بک ایجنسی ، کراچی۔
١٥۔ روشن علی نجفی ( مترجم ) '' گفتار دلنشین چہاردہ معصوم علیہ السلام'' انتشارات انصاریاں، قم ۔
١٦۔ عباس حیدر سید''الحمدلللّٰہ '' شاہ ولایت پبلیکشنز، کراچی۔
١٧۔ سید غلام تقی '' شاہِ خراسان حضر ت امام علی الرضا '' پاک محرم ایجوکیشن ٹرسٹ، کراچی۔
18- Mirza Mahmmed Ali Khoarasani (translater) "Mashad- the
land of Miracles",Tehran,1999.

یہ مقالہ گروہ جعفری پاکستان کی فکری نشست برمکان علامہ رشید ترابی اعلی المقامہ٢٧ رمضان المبارک ١٤٢٣ھ پیش کیا گیا تھا۔ اور دو بارہ آلِ عباریسرچ سینٹر کی فکری نشست بتاریخ ١٤جنوری ٢٠٠٣ء میں پیش کیا گیا۔ علوم محمد و آلِ محمد کی ترویج کے لئے مقالہ شائع کیا جارہا ہے۔
منجانب :
آلِ عبا ٹرسٹ ( رجسٹرڈ) بلاک ١٣ فیڈرل بی ایریا کراچی ، پاکستان
 

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 14:42| توسط غلام حیدر عابدی| |

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام

آپ کی ولادت با سعادت علمی فیوض رسانی کا موقع
اسم گرامی، کنیت، القاب کتب اصول اربعمایة
بادشاہان وقت صادق آل محمد کے اصحاب کی تعداد اوران کی تصانیف

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کا ایک مناظرہ

حضرت صادق آل محمد اور علم طب
ابوشاکر دیصانی کاجواب حضرت صادق آل محمد کا علم القرآن

امام جعفر صادق علیہ السلام اور حکیم  ابن عیاش کلبی

علم النجوم
۱۱۳ ھ میں امام جعفر صادق کاحج علم منطق الطیر
امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ حضرت امام صادق علیہ السلام اور علم الاجسام

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض

نصائح و ارشادات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اور دوراندیشی
آپ کے اخلاق اور عادات و اوصاف امام جعفر صادق علیہ السلام کا دربار منصور میں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات
کتاب اہلیلچیہ امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ
حضرت صادق آل محمد کے فلک وقار شاگرد ۱۴۷ ھ میں منصور کا حج اور امام جعفر صادق کے قتل کاعزم بالجزم
امام الکیمیا جناب جابرابن حیان طرسوسی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت
صادق آل محمد کے علمی فیوض و برکات آپ کی اولاد

 

امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ کی ولادت با سعادت

          آپ بتاریخ ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۲۰۷ ءیوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (ارشاد مفید فارسی ص ۴۱۳، اعلام الوری ص ۱۵۹، جامع عباسی ص ۶۰ وغیرہ)۔

          آپ کی ولادت کی تاریخ کو خداوند عالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چند مخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا(جنات الخلوج ص ۲۷) ۔

          علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں (جلاء العیون ص ۲۶۵) ۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔

 

اسم گرامی، کنیت، القاب

          آپ کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ، ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق، صابر و فاضل، طاہر وغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطراز ہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفربن محمدکولقب صادق سے موسوم وملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔

          علامہ ابن خلکان کاکہناہے کہ صدق مقال کی وجہ سے آپ کے نام نامی کاجزو”صادق“ قرارپایاہے  (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۰۵) ۔

          جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام   نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے (ارجح المطالب ص ۳۶۱ ،بحوالہ تذکرة الخواص الامة)۔

          امام اہل سنت علامہ وحیدالزمان حیدرآبادی تحریرفرماتے ہیں، جعفر، چھوٹی نہریابڑی واسع (کشادہ ) امام جعفر صادق، مشہورامام ہیںبارہ اماموں میں سے اوربڑے ثقہ اورفقیہ اورحافظ تھے امام مالک اورامام ابوحنیفہ کے شیخ (حدیث)ہیں اورامام بخاری کونہیں معلوم کیاشبہ ہوگیاکہ وہ اپنی صحیح میں ان سے روایتیں نہیں کرتے اوریحی بن سعیدقطان نے بڑی بے ادبی کی ہے جوکہتے ہیں کہ میں ”فی منہ شئی ومجالداحب الی منہ“ میرے دل میں امام جعفر صادق کی طرف سے خلش ہے، میں ان سے بہترمجالدکوسمجھتاہوں، حالانکہ مجالدکوامام صاحب کے سامنے کیارتبہ ہے؟ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اہل سنت بدنام ہوتے ہین کہ ان کوآئمہ اہل بیت سے کچھ محبت اوراعتقادنہیں ہے۔

          اللہ تعالی امام بخاری پررحم کرے کہ مروان اورعمران بن خطان اورکئی خوارج سے توانہوں نے روایت کی اورامام جعفر صادق سے جوابن رسول اللہ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں (انواراللغتہ پارہ ۵ ص ۴۷ طبع حیدرآباددکن)۔

          علامہ ابن حجر مکی اور علامہ شبلنجی رقمطراز ہیں کہ اعیان آئمہ میں سے ایک جماعت مثل یحی بن سعیدبن جریح، امام مالک، امام سفیان ثوری بن عینیہ، امام ابوحنیفہ، ایوب سجستانی نے آپ سے حدیث اخذکی ہے، ابوحاتم کاقول ہے کہ امام جعفر صادق  ایسے ثقہ میں لایسئل عنہ مثلہ کہ آپ ایسے شخصوں کی نسبت کچھ تحقیق اور استفساروتفحص کی ضرورت ہی نہیں ،آپ ریاست کی طلب سے بے نیازتھے اورہمیشہ عبادت گزاری میں بسرکرتے رہے، عمرابن مقدام کاکہناہے کہ جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کودیکھتاہوں تومجھے معاخیال ہوتاہے کہ یہ جوہررسالت کی اصل و بنیادہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰، نورالابصار، ص ۱۳۱، حلیة الابرار تاریخ آئمہ ص ۴۳۳) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

بادشاہان وقت

          آپ کی ولادت ۸۳ ھ میں ہوئی ہے اس وقت عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھرولید، سلیمان، عمربن عبدالعزیز، یزیدبن عبدالملک، ہشام بن عبدالملک، ولیدبن یزیدبن عبدالملک، یزیدالناقص، ابراہیم ابن ولید، اور مروان الحمار، علی الترتیب خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمارکے بعد سلطنت بنی امیہ کاچراغ گل ہوگیا اوربن عباس نے حکومت پرقبضہ کرلیا، بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابوالعباس، سفاح اوردوسرا منصور دوانقی ہواہے ۔ملاحظہ ہو(اعلام الوری) تاریخ ابن الوردی، تاریخ ائمہ ص ۴۳۶) ۔

          اسی منصورنے ابنی حکومت کے دوسال گزرنے کے بعدامام جعفر صادق علیہ السلام کوزہرسے شہیدکردیا(انوارالحسینہ جلد ۱ ص ۵۰) ۔

 

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کا ایک مناظرہ

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بے شمارعلمی مناظرے فرمائے ہیں آپ نے دہریوں، قدریوں، کافروں اور یہودیوں و نصاری کو ہمیشہ شکست فاش دی ہے کسی ایک مناظرہ میں بھی آپ پرکوئی غلبہ حاصل نہیں کرسکا، عہدعبدالملک بن مروان کاذکرہے کہ ایک قدریہ مذہب کامناظراس کے دربارمیں آکرعلماء سے مناظرہ کاخو ہشمندہوا، بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کوطلب کیااوران سے کہاکہ اس قدریہ مناظرسے مناظرہ کروعلماء نے اس سے کافی زورآزمائی کی مگروہ میدان مناظرہ کاکھلاڑی ان سے نہ ہارسکا، اورتمام علماء عاجزآگئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبدالملک بن مروان نے فوراایک خط حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیااوراس میں تاکید کی کہ آپ ضرور تشریف لائیں حضرت امام محمد باقرکی خدمت میں جب اس کاخط پہنچاتوآپ نے اپنے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایاکہ بیٹامیں ضعیف ہوچکاہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدربزرگوارکے حسب الحکم مدینہ سے روانہ ہوکرشام پہنچ گئے۔

          عبدالملک بن مروان نے جب امام محمدباقرعلیہ السلام کے بجائے امام جعفر صادق علیہ السلام کودیکھاتوکہنے لگاکہ آپ ابھی کم سن ہیں اوروہ بڑاپرانامناظر ہے، ہوسکتاہے کہ آپ بھی اورعلماء کی طرح شکست کھاجائیں، اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقدکی جائے حضرت نے ارشادفرمایا، بادشاہ توگھبرا نہیں، اگرخدانے چاہاتومیں صرف چندمنٹ میں مناظرہ ختم کردوں گاآپ کے ارشادکی تائیددرباریوں نے بھی کی اورموقعہ مناظرہ پرفریقین آگیے۔

          چونکہ قدریوں کااعتقادہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خداکوبندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں، اورنہ خداکچھ کرسکتاہے یعنی خداکے حکم اورقضاوقدروارادہ کوبندوں کے کسی امرمیں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی پہلی کرنے کی خواہش پرفرمایاکہ میں تم سے صرف ایک بات کہنی چاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ تم ”سورہ حمد“پڑھو،اس نے پڑھناشروع کیا جب وہ ”ایاک نعبدوایاک نستعین“ پرپہنچاجس کاترجمہ یہ ہے کہ میں صرف تیری عبادت کرتاہوں اوربس تھجی سے مدد چاہتاہوں توآپ نے فرمایا،ٹہرجاؤاورمجھے اس کاجواب دوکہ جب خدا کوتمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کاحق نہیں توپھرتم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کروہ خاموش ہوگیا اورکوئی جواب نہ دے سکا، بالآخر مجلس مناظرہ برخواست ہوگئی اوربادشاہ نے بے حدخوش ہوا(تفسیر برہان جلد ۱ ص ۳۳) ۔

 

ابوشاکردیصانی کاجواب

          ابوشاکردیصانی جو لامذہب تھا حضرت سے کہنے لگاکہ کیاآپ خدا کا تعارف کراسکتے ہیں اوراس کی طرف میری رہبری فرماسکتے ہیں آپ نے ایک طاؤس کا انڈا ہاتھ میں لے کرفرمایادیکھواس کی بالائی ساخت پرغورکرو، اوراندرکی بہتی ہوئی زردی اورسفیدی کابنظرغائردیکھواوراس پرتوجہ دوکہ اس میں رنگ برنگ کے طائرکیوں کرپیداہوجاتے ہیں کیاتمہاری عقل سلیم اس کوتسلیم نہیں کرتی کہ اس انڈے کااچھوتے انداز میںبنانے والا اوراس سے پیدا کرنے والاکوئی ہے، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااوردہریت سے بازآیا۔

          اسی دیصانی کاواقعہ ہے کہ اس نے ایک دفعہ آپ کے صحابی ہشام بن حکم کے ذریعہ سے سوال کیاکہ کیایہ ممکن ہے؟ کہ خداساری دنیا کو ایک انڈے میں سمودے اورنہ انڈابڑھے اورنہ دنیا گھٹے آپ نے فرمایابے شک وہ ہرچیز پر قادرہے اس نے کہاکوئی مثال؟ فرمایا مثال کے لیے مردمک چشم آنکھ کی چھوٹی پتلی کافی ہے اس میں ساری دنیاسماجاتی ہے، نہ پتلی بڑھتی ہے نہ دنیاگھٹتی ہے (اصول کافی ص ۴۳۳،جامع الاخبار)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام اور حکیم ابن عیاش کلبی

          ہشام بن عبدالملک بن مروان کے عہدحیات کاایک واقعہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکرعرض کیاکہ حکیم بن عیاش کلبی آپ لوگوں کی ہجوکرتاہے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہا گرتجھ کواس کاکچھ کلام یادہوتوبیان کر اس نے دوشعرسنائے جس کاحاصل یہ ہے کہ ہم نے زیدکوشاخ درخت خرمہ پرسولی دیدی، حالانکہ ہم نے نہیں دیکھا، کوئی مہدی دارپرچڑھایاگیاہو اورتم نے اپنی بیوقوفی سے علی کوعثمان کے ساتھ قیاس کرلیاحالانکہ علی سے عثمان بہتراورپاکیزہ تھا یہ سن کرامام جعفر صادق علیہ السلام نے دعاکی بارالہا اگریہ حکیم کلبی جھوٹاہے تواس پراپنی مخلوق میں کسی درندے کومسلط فرماچنانچہ ان کی دعاقبول ہوئی اورحکیم کلبی کوراہ میں شیرنے ہلاک کردیا(اصابہ ابن حجرعسقلانی جلد ۲ ص ۸۰) ۔

          ملاجامی تحریرکرتے ہیں کہ جب حکیم کلبی کے ہلاک ہونے کی خبرامام جعفر صادق علیہ السلام کوپہنچی توانہوں نے سجدہ میں جاکرکہاکہاس خدائے برترکاشکرہے کہ جس نے ہم سے جووعدہ فرمایااسے پوراکیا(شواہدالنبوت ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،نورالابصار ص ۱۴۷) ۔

 

۱۱۳ ھ میں امام جعفر صادق کاحج

          علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ نے ۱۱۳ ھئمیں حج کیااوروہاں خداسے دعاکی،خدانے بلافصل انگوراوردوبہترین ردائیں بھیجیں آپ نے انگورخودبھی کھایااور لوگوں کوبھی کھلایا اورردائیں ایک سائل کودیدیں۔

          اس وقعہ کی مختصرتفصیل یہ ہے کہ بعث بن سعدسنہ مذکورہ میں حج کے لیے گئے وہ نمازعصرپڑھ کرایک دن کوہ ابوقبیس پرگئے وہاں پہنچ کردیکھاکہ ایک نہایت مقدس شخص مشغول نمازہے، پھرنمازکے بعدوہ سجدہ میں گیا اور یارب یارب کہہ کرخاموش ہوگیا،پھریاحی یاحی کہااورچپ ہوگیا،پھریارحیم یارحیم کہااورخاموش ہوگیا پھریاارحم الراحمین کہہ کرچپ ہوگیا پھربولاخدایامجھے انگورچاہئے اورمیری ردابوسیدہ ہوگئی ہے دوردائیں درکارہیں ۔

          راوی حدیث بعث کہتاہے کہ یہ الفاظ ابھی تمام نہ ہوئے تھے کہایک تازہ انگوروں سے بھری ہوئی زنبیل آموجوہوئی دراس پردوبہترین چادریں رکھی ہوئی تھیں اس عابدنے جب انگورکھاناچاہاتومیں نے عرض کی حضورمیں امین کہہ رہاتھا مجھے بھی کھلائیے ،انہوں نے حکم دیامیں نے کھاناشروع کیا،خداکی قسم ایسے انگور ساری عمرخواب میں بھی نہ نظرآئے تھے پھرآپ نے ایک چادرمجھے دی میں نے کہامجھے ضرورت نہیں ہے اس کے بعدآپ نے ایک چادرپہن لی اورایک اوڑھ لی پھرپہاڑسے اترکرمقام سعی کی طرف گئے میں ان کے ہمراہ تھاراستے میں ایک سائل نے کہا،مولامجھے چادردیجئے خداآپ کوجنت لباس سے آراستہ کرے گاآپ نے فورادونوں چادریں اس کے حوالے کردیں میں نے اس سائل سے پوچھایہ کون ہیں؟ اس نے کہاامام زمانہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام یہ سن کرمیں ان کے پیچھے دوڑاکہ ان سے مل کرکچھ استفادہ کروں لیکن پھروہ مجھے نہ مل سکے (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،کشف الغمہ ص ۶۶ ، مطالب السؤل ص ۲۷۷) ۔

 

امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ

          یہ تاریخی مسلمات سے ہے کہ جناب امام ابوحنیفہ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردتھے لیکن علامہ تقی الدین ابن تیمیہ نے ہمعصر ہونے کی وجہ سے اس میں منکرانہ شبہ ظاہرکیاہے ان کے شبہ کوشمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے ردکرتے ہوئے تحریرفرمایاہے ”ابوحنیفہ ایک مدت تک استفادہ کی غرض سے امام محمدباقر کی خدمت میں حاضررہے اورفقہ وحدیث کے متعلق بہت بڑاذخیرہ حضرت ممدوح کافیض صحبت تھا امام صاحب نے ان کے فرزندرشیدحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی فیض صحبت سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا،جس کاذکرعموما تاریخوں میں پایاجاتاہے ابن تیمیہ نے اس سے انکارکیاہے اوراس کی وجہ یہ خیال کی ہے کہ امام ابوحنیفہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے معاصراورہمعصرتھے اس لیے ان کی شاگردی کیونکر اختیارکرتے لیکن یہ ابن تیمیہ کی گستاخی اورخیرہ چشمی ہے امام ابوحنیفہ لاکھ مجتہد اورفقیہہ ہوں لیکن فضل وکمال میں ان کوحضرت جعفر صادق سے کیانسبت ، حدیث وفقہ بلکہ تمام مذہبی علوم اہل بیت کے گھرسے نکلے ہیں ”وصاحب البیت ادری بمافیہا“ گھروالے ہی گھرکی تمام چیزوں سے واقف ہوتے ہیں (سیرة النعمان ص ۴۵ ، طبع آگرہ)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض نصائح و ارشادات

علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں :

          ۱ ۔  سعید وہ ہے جوتنہائی میں اپنے کولوگوں سے بے نیازاورخداکی طرف جھکاہواپائے ۔

          ۲ ۔  جوشخص کسی برادرمومن کادل خوش کرتاہے خداوندعالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیداکرتاہے جواس کی طرف سے عبادت کرتاہے اورقبرمیں مونس تنہائی، قیامت میں ثابت قدمی کا باعث، منزل شفاعت میں شفیع اور جنت میں پہنچانے مین رہبرہوگا۔

          ۳ ۔  نیکی کا تکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو،اوراسے کم سمجھو،اورچھپاکے کرو۔

          ۴ ۔  عمل خیر نیک نیتی سے کرنے کوسعادت کہتے ہیں۔

          ۵ ۔  توبہ میں تاخیرنفس کادھوکہ ہے۔

         ۶ ۔  چارچیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کوکثرت سمجھناچاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض

          ۷ ۔  کسی کے ساتھ بیس دن رہناعزیزداری کے مترادف ہے ۔   ۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔

          ۹ ۔  جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤتوصدرمجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہرنیک خواہش کومان لو۔  

          ۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اورلڑکانعمت ہے خداہر نیکی پرثواب دیتاہے اورہرنعمت پرسوال کرے گا۔

          ۱۱ ۔ جوتمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اورجوذلیل سمجھے اس سے خودداری رتو۔ ۱۲ ۔ بخشش سے روکناخداسے بدظنی ہے۔

۱۳ ۔ دنیامیں لوگ باپ داداکے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اورآخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔

۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیراورقیدی ہیں نعمت کی وسعت پرانہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کااندیشہ ہے۔

۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں: ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جومخالف ہو،جواس کاہمدردنہ ہواس کے ساتھ ہمدردی کرے۔

 ۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔

 ۱۷ ۔جوخداکی دی ہوئی نعمت پرقناعت کرے گا،مستغنی رہے گا۔

 ۱۸ ۔ جودوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیررہے گا۔

 ۱۹ ۔  جوراضی برضائے خدانہیں وہ خدا پراتہام تقدیرلگارہاہے۔

۲۰ ۔ جواپنی لغزش کونظراندازکرے گاوہ دوسروں کی لغزش کوبھی نظرمیں نہ لائے گا ۔

 ۲۱ ۔ جوکسی پرناحق تلوارکھینچے گاتونتیجہ میں خودمقتول ہوگا

 ۲۲ ۔ جوکسی کوبے پردہ کرنے کی سعی کرے گاخودبرہنہ ہوگا

 ۲۳ ۔ جوکسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“

۲۴ ۔ جوشخص بے وقوفوں سے راہ ورسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جوعلماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا،بدنام ہوگا۔

۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفیدہویامضر،۔

 ۲۶ ۔ چغل خوری سے بچوکیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔

۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا(نورالابصارص ۱۳۴) ۔

۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے توبہت زیادہ شکر کروتاکہ اضافہ ہو۔

 ۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہوتواستغفارزیادہ کیاکروکہ ابواب رزق کھل جائیں۔

۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تو لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو(مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ کے اخلاق اور عادات و اوصاف

          علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک غلام کوکسی کام سے بازاربھیجاجب اس کی واپسی میں بہت دیرہوئی توآپ اس کوتلاش کرنے کے لیے نکل پڑے،دیکھاایک جگہ لیٹاہواسورہاہے آپ اسے جگانے کے بجائے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورپنکھاجھلنے لگے جب وہ بیدار ہواتوآپ نے فرمایایہ طریقہ اچھانہیں ہے رات سونے کے لیے اوردن کام کاج کرنے کے لیے ہے آئندہ ایسانہ کرنا(مناقب جلد ۵ ص ۵۲) ۔

          علامہ معاصر مولاناعلی نقی مجتہدالعصررقمطرازہیں،آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندعالم نے نوع انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکرپیداکیا ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہرشعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے خاص خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طورپرواقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ پرغرباکی خبرگیری، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک عفوجرائم، صبروتحمل وغیرہ ہیں۔

          ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں واردہوااورمسجدرسول میں سوگیا، آنکھ کھلی تواسے شبہ ہواکہ اس کی ایک ہزارکی تھیلی موجودنہیں ہے اس نے ادھرادھردیکھا، کسی کونہ پایاایک گوشہ مسجدمیں امام جعفر صادق علیہ السلام نمازپڑھ رہے تھے وہ آپ کوبالکل نہ پہنچانتاتھا آپ کے پاس آکرکہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے حضرت نے پوچھااس میں کیاتھا اس نے کہا ایک ہزاردینار،حضرت نے فرمایا،میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ، وہ آپ کے ساتھ ہوگیابیت الشرف میں تشریف لاکر ایک ہزاردیناراس کے حوالے کردئیے ،وہ مسجدمیں واپس آگیااوراپنااسباب اٹھانے لگا،توخود اس کی دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظرآئی ،یہ دیکھ کربہت شرمندہ ہوااوردوڑتا ہواامام کی خدمت میں آیااورعذرخواہی کرتے ہوئے وہ ہزاردیناواپس کرناچاہا، حضرت نے فرمایا ہم جوکچھ دیدیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

          موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ معلوم ہوتاہے کہ اناج مشکل سے ملے گاتوجس کوجتناممکن ہووہ اناج خریدکررکھ لیتاہے مگرامام جعفر صادق علیہ السلام کے کردارکاایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے آپ کے وکیل معقب نے کہاکہ ہمیں اس گرانی اورقحط کی تکلیف کاکوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کااتناذخیرہ ہے جوبہت عرصہ تک کے لے کافی ہوگا حضرت نے فرمایایہ تمام غلہ فروخت کرڈالواس کے بعدجوحال سب کاہوگا،وہی ہمارابھی ہوگاجب غلہ فروخت کردیاگیاتوفرمایااب خالص گہیوں کی روٹی نہ پکاکرے، بلکہ آدھے گہیوں اورآدھے جوکی پکائی جائے، جہاں تک ممکن ہوہمیں غریبوں کاساتھ دیناچاہئیے۔

          آپ کاقاعدہ تھاکہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے مزدوروں کی بڑی قدرفرماتے تھے خودبھی تجارت فرماتے تھے اوراکثراپنے باغوں میںبہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اورپسینہ سے تمام جسم ترہوگیاتھا، کسی نے کہا،یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں حضرت نے فرمایا،طلب معاش میں دھوپ اورگرمی کی تکلیف سہناعیب کی بات نہیں، غلاموں اورکنیزوں پروہی مہربانی رہتی تھی جواس گھرانے کی امتیازی صفت تھی ۔

          اس کا ایک حیرت انگیز نمونہ یہ ہے کہ جسے سفیان ثوری نے بیان کیاہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوادیکھا کہ چہرہ مبارک کارنگ متغیرہے، میں نے سبب دریافت کیا، توفرمایامیں نے منع کیاتھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پرنہ چڑھے، اس وقت جومیں گھرآیاتودیکھاکہ ایک کنیزجوایک بچہ کی پرورش پرمتعین تھی اسے گودمیں لیے ہوئے زینہ سے اوپرجارہی تھی مجھے دیکھاتوایساخوف طاری ہواکہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، اوراس صدمہ سے جاں بحق تسلیم ہوگیامجھے بچہ کے مرنے کااتنا صدمہ نہیں جتنااس کارنج ہے کہ اس کنیزپراتنارعب وہراس کیوں طاری ہوا،پھر حضرت نے اس کنیزکوپکارکرفرمایا، ڈرونہیں میں نے تم کوراہ خدامیں آزادکردیا، اس کے بعدحضرت بچہ کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوئے (صادق آل محمد ص ۱۲، مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۴) ۔

          کتاب مجانی الادب جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ حضرت کے یہاں کچھ مہمان آئے تھے حضرت نے کھانے کے موقع پراپنی کنیزکوکھانالانے کاحکم دیا، وہ سالن کابڑاپیالہ لے کرجب دسترخوان کے قریب پہنچی تواتفاقاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگرگیا، اس کے گرنے سے امام علیہ السلام اور دیگرمہمانوں کے کپڑے خواب ہوگئے، کنیز کانپنے لگی اورآپ نے غصہ کے بجائے اسے راہ خدامیں یہ کہہ کرآزادکردیا کہ توجو میرے خوف سے کانپتی ہے شایدیہی آزادکرنا کفارہ ہوجائے ۔

          پھراسی کتاب کےص ۶۹ میں ہے کہ ایک غلام آپ کاہاتھ دھلارہاتھا کہ دفعتہ لوٹاچھوٹ کرطشت میں گرااورپانی اڑکرحضرت کے منہ پرپڑا، غلام گھبرااٹھاحضرت نے فرمایا ڈرنہیں، جامیں نے تجھے راہ خدامیں آزاد کردیا۔

          کتاب تحفہ الزائرعلامہ مجلسی میں ہے کہ آپ کے عادات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے جانا داخل تھا، آپ عہد سفاح اورزمانہ منصورمیں بھی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے کربلا کی آبادی سے تقریبا چارسو قدم شمال کی جانب، نہرعلقمہ کے کنارے باغوں میں”شریعہ صادق آل محمداسی زمانہ سے بناہواہے (تصویر عزا ص ۶۰ طبع دہلی ۱۹۱۹ ءء)۔

 

کتاب اہلیلچیہ

          علامہ مجلسی نے کتاب بحارالانوار کی جلد ۲ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی کتاب اہلیلچیہ کو مکمل طور پر نقل فرمایاہے اس کتاب کے تصنیف کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ایک ہندوستانی فلسفی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوااوراس نے الہیات اورمابعد الطبیعات پرحضرت سے تبادلہ خیال کرناچاہا حضرت نے اس سے نہایت مکمل گفتگوکی اورعلم کلام کے اصول پردہریت اورمادیت کوفناکرچھوڑا، اس آخرمیں کہناپڑاکہ آپ نے اپنے دعوی کواس طرح ثابت فرمادیاہے کہ ارباب عقل کومانے بغیرچارہ نہیں،تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہندی فلسفی سے جوگفتگوکی تھی اسے کتاب کی شکل میں مدون کرکے باب اہلبیت کے مشہورمتکلم جناب مفضل بن عمرالجعفی کے پاس بھیج دیاتھا اوریہ لکھاتھاکہ:

          اے مفضل میں نے تمہارے لیے ایک کتاب لکھی ہے جس میں منکرین خداکی ردکی ہے ،اوراس کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ میرے پاس ہندوستان سے ایک طبیب (فلسفی) آیاتھا اوراس نے مجھ سے مباحثہ کیاتھا، میں نے جوجواب اسے دیاتھا، اسی کوقلم بندکرکے تمہارے پاس بھیج رہاہوں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت صادق آل محمد کے فلک وقار شاگرد

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں کاشمارمشکل ہے بہت ممکن ہے کہ آئندہ سلسلہ تحریرمیں اپ کے بعض شاگردوں کا ذکرآتاجائے، عام مورخین نے بعض ناموں کو خصوصی طور پرپیش کرکے آپ کی شاگردی کی سلک میں پروکرانہیں معزز بتایاہے ۔

          مطالب السؤل، صواعق محرقہ، نورالابصار و غیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ، یحی بن سعیدانصاری،ابن جریح، امام مالک ابن انس، امام سفیان ثوری، سفیان بن عینیہ، ایوب سجستانی و غیرہ کاآپ کے شاگردوں میں خاص طور پرذکرہے(تاریخ ابن خلکان جلد ۱ ص ۱۳۰، خیرالدین زرکلی کی الاعلام ص ۱۸۳، طبع مصر محمد فرید وجدی کی ادارہ معارف القرآن کی جلد ۳ ص ۱۰۹/ طبع مصر میں ہے  و کان تلمیذہ ابوموسی جابربن حیان الصوفی الطرسوسی  آپ کے شاگردوں میں جابربن حیان صوفی طرسوسی بھی ہیں۔

          آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت قدراوران کی تصانیف اورعلمی خدمات پرروشنی ڈالنی توبے انتہادشوارہے اس لیے اس مقام پرصرف جابربن حیان طرسوسی جوکہ انتہائی باکمال ہونے کے با وجود شاگرد امام کی حیثیت سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں کا ذکر کیاجاتاہے۔

 

امام الکیمیا جناب جابرابن حیان طرسوسی

          آپ کاپورا نام  ابوموسی جابربن حیان بن عبدالصمد الصوفی الطرسوسی الکوفی ہے آپ ۷۴۲ ءء میں پیداہوئے اور ۸۰۳ ءء میں انتقال فرماگئے بعض محققین نے آپ کی وفات ۸۱۳ ءء بتائی ہے لیکن ابن ندیم نے ۷۷۷ ءء لکھاہے انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ استاداعظم جابربن حیان بن عبداللہ، عبدالصمد کوفہ میں پیداہوئے وہ طوسی النسل تھے اور آزاد نامی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے خیالات میں صوف تھا اوریمن کارہنے والاتھا، اوئل عمرمیں علم طبیعیات کی تعلیم اچھی طرح حاصل کرلی اور امام جعفر صادق ابن امام محمد باقر کی فیض صحبت سے امام الفن ہوگیا۔

          تاریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظمت کااعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ ساری کائنات میں کوئی ایسا نہیں جو امام کی طرح سارے علوم پربول سکے الخ۔

          تاریخ آئمہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی تصنیفات کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک کتاب کیمیا جفر رمل پرلکھی تھی حضرت کے شاگرد و مشہور و معروف کیمیاگر جابربن حیان جو یورپ میں جبرکے نام سے مشہورہیں جابرصوفی کالقب دیاگیاتھا اور ذوالنون مصری کی طرح وہ بھی علم باطن سے ذوق رکھتے تھے، ان جابرابن حیان نے ہزاروں ورق کی ایک کتاب تالیف کی تھی جس میں حضرت امام جعفر صادق کے پانچ سو رسالوں کوجمع کیاتھا، علامہ ابن خلکان کتاب وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۰ طبع مصر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مقالات علم کیمیا اورعلم جفر و فال میں موجودہیں اورجابربن حیان طرسوسی آپ کے شاگردتھے، جنہوں نے ایک ہزار ورق کی کتاب تالیف کی تھی، جس میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پانچ سورسالوں کوجمع کیاتھا، علامہ خیرالدین زرکلی نے بھی الاعلام جلد ۱ ص ۱۸۲ طبع مصرمیں یہی کچھ لکھاہے، اس کے بعد تحریر کیاہے کہ ان کی بے شمار تصانیف ہیں جن کاذکرابن ندیم نے اپنی فہرست میں کیاہے علامہ محمدفریدوجدی نے دائرئہ معارف القرآن الرابع عشر کی ج ۳ ص ۹۰۱ طبع مصرمیں بھی لکھاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کوجمع کرکے ایک کتاب ہزارصفحے کی تالیف کی تھی، علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ ابن خلدون مطبوعہ مصرص ۳۸۵ میں علم کیمیا میں علم کیمیا کا ذکر کرتے ہوئے جابربن حیان کا ذکر کیاہے اور فاضل ہنسوی نے اپنی ضخیم کتاب اورکتاب خانہ غیرمطبوعہ میں بحوالہ مقدمہ ابن خلدون ص ۵۷۹ طبع مصرمیں لکھاہے کہ جابربن حیان علم کیمیاکے مدون کرنے والوں کاامام ہے، بلکہ اس علم کے ماہرین نے اس کو جابرسے اتنامخصوص کردیاہے کہ اس علم کانام ہی ”علم جابر“ رکھ دیاہے (الجوادشمارہ ۱۱ جلد ۱ ص ۹) ۔

          مورخ ابن القطفی لکھتے ہیں کہ جابربن حیان کوعلم طبیعات اور کیمیا میں تقدم حاصل ہے ان علوم میں اس نے شہرئہ افاق کتابیں تالیف کی ہیں ان کے علاوہ علوم فلسفہ وغیرہ میں شرف کمال پرفائزتھے اوریہ تمام کمالات سے بھرپورہونا علم باطن کی پیروی کانتیجہ تھا ملاحظہ ہو (طبقات الامم ص ۹۵ واخبارالحکماص ۱۱۱ طبع مصر)۔

          پیام اسلام جلد ۷ ص ۱۵ میں ہے کہ یہ وہی خوش قسمت مسلمان ہے جسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی کاشرف حاصل تھا،اس کے متعلق جنوری ۲۵ ء میں سائنس پروگریس نوشتہ جے ہولم یارڈایم ائے ایف آئی سی آفیسر اعلی شعبئہ سائنس کفٹن کالج برسٹل نے لکھاہے کہ علم کیمیا کے متعلق زمانہ وسطی کی اکثرتصانیف ملتی ہیں جن میں گیبرکاذکرآتاہے اورعام طورپرگیبرابن حین اوربعض دفعہ گیبرکی بجائے جیبربھی دیکھاگیاہے اورگیبریاجیبردراصل جابرہے، چنانچہ جہاں کہیں بھی لاطینی کتب میں گیبرکاذکرآتاہے وہاں مرادعربی ماہرکیمیاجابربن حیان ہی ہے جسے() کے بجائے() کاآناجانا آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لاطینی میں جے کے مترادف کوئی آواز اور بعض علاقوں مثلا مصر وغیرہ میں جے کواب بھی بطور(جی) یعنی (گ) استعمال کیاجاتا ہے اس کے علاوہ خلیفہ ہارون رشیدکے زمانے میں سائنس کیمسٹری وغیرہ کاچرچہ بہت ہوچکاہے اوراس علم کے جاننے والے دنیاکے گوشہ گوشہ سے کھینچ کر دربارخلافت سے منسلک ہورہے تھے جابربن حیان کازمانہ بھی کم وبیش اس ہی دورمیں پھیلاتھا پچھلے بیس پچیس سال میں انگلستان اورجرمنی میں جابرکے متعلق بہت سی تحقیقات ہوئی ہیں لاطینی زبان میں علم کیمیاکے متعلق چندکتب سینکڑوں سال سے اس مفکرکے نام سے منسوب ہیں جس میں مخصوص

 ۱ ۔ سما

 ۲ ۔ برفیکشن

۳ ۔ ڈی انویسٹی پرفیکشن

 ۴ ۔ڈی انویسٹی گیشن ورٹیلس

 ۵ ۔ ٹٹیابہن لیکن ان کتابوں کے متعلق اب تک ایک طولانی بحث ہے اوراس وقت مفکرین یورپ انہیں اپنے یہاں کی پیداواربتاتے ہیں اس لیے انہیں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جابرکوحرف (جی)(گ) سے پکاریں اور بجائے عربی النسل کے اسے یورپین ثابت کریں۔

          حالانکہ سماکے کئی طبع شدہ ایڈیشنوں میں گیبرکوعربی ہی کہاگیاہے رسل کے انگریزی ترجمہ میں اسے ایک مشہور عربی شہزادہ اور منطقی کہاگیاہے ۱۵۴۱ ء میں کی نورن برگ کے ایڈیشن میں وہ صرف عرب ہے اسی طرح اوربہت سے قلمی نسخے ایسے مل جاتے ہیں جن میں کہیں اسے ایرانیوں کے بادشاہ سے یادکیاگیاہے کسی جگہ اسے شاہ بندکہاگیاہے ان اختلافات سے سمجھ میں آتاہے کہ جابربراعظم ایشیاسے نہ تھا بلکہ اسلامی عرب کاایک درخشندہ ستارہ تھا۔

          انسائکلوپیڈیاآف اسلامک کیمسٹری کے مطابق جعفربرمکی کے ذریعہ سے جابربن حیان کاخلیفہ ہارون الرشیدکے دربارمیں آناجاناشروع ہوگیاچنانچہ انہوں نے خلیفہ کے نام سے علم کیمیامیں ایک کتاب لکھی جس کانام ”شگوفہ“ رکھااس کتاب میں اس نے علم کیمیاکے جلی وخفی پہلوؤں کے متعلق نہایت مختصرطریقے نہایت ستھراطریق عمل اورعجیب وغریب تجربات بیان کئے جابرکی وجہ ہی سے قسطنطنیہ سے دوسری دفعہ یونانی کتب بڑی تعدادمیں لائی گئیں ۔

          منطق میں علامہ دہرمشہورہوگیا اورنوے سال سے کچھ زائدعمرمیں اس نے تین ہزارکتابیں لکھیں اوران کتابوں میں سے وہ بعض پرنازکرتاتھا اپنی کسی تصنیف کے بارے میں اس نے لکھا ہے کہ ”روئے زمین پرہماری اس کتاب کے مثل ایک کتاب بھی نہیں ہے نہ آج تک ایسی کتاب لکھی گئی ہے اورنہ قیامت تک لکھی جائے گی (سرفراز ۲/ دسمبر ۱۹۵۲ ء)۔

          فاضل ہنسوی اپنی کتاب”وکتاب خانہ“ میں لکھتے ہیں کہ جابرکے انتقال کے بعد دوبرس بعدعزالدودولہ ابن معزالدولہ کے عہدمیں کوفہ کے شارع باب الشام کے قریب جابرکی تجربہ گاہ کاانکشاف ہواچکاتھا جس کوکھودنے کے بعدبعض کیمیاوی چیزیں اورآلات بھی دستیاب ہوئے ہیں(فہرست ابن الندیم ۴۹۹) ۔

          جابرکے بعض قدیمی مخطوطات برٹش میوزیم میں اب تک موجودہیں جن میں سے کتاب الخواص قابل ذکرہے اسی طرح قرون وسطی میں بعض کتابوں کاترجمہ لاطینی میں کیاگیامنجملہ ”ان تراجم کے کتاب“ سبعین بھی ہے جوناقص و ناتمام ہے اسی طرح ”البحث عن الکمال“ کاترجمہ بھی لاطینی میں کیاجاچکاہے یہ کتاب لاطینی زبان میں کیمیاپریورپ کی زبان میں سب سے پہلی کتاب ہے اسی طرح اوردوسری کتابیں بھی مترجم ہوئیں جابرنے کیمیاکے علاوہ طبیعیات،ہیئت،علم رویا،منطق،طب اوردوسرے علوم پربھی کتابیں لکھیں اس کی ایک کتاب سمیات پربھی ہے ۔

          یوسف الیاس سرکس صاحب معجم المطبوعات بتلاتے ہیں کہ جابربن حیان کی ایک نفیس کتاب سمیات بربھی ہے جوکتب خانہ تیموریہ قاہرہ مصرمیں بہ ضمن مخطوطات ہے ان میں چندایسے مقالات کوجوبہت مفیدتھے بعدکرئہ حروف نے رسالہ مقتطف جلد ۵۸،۵۹ میں شائع کیاہے ملاحظہ ہو(معجم ا لمطبوعات العربیہ المعربہ جلد ۳ حرف جیم ص ۶۶۵) ۔

          جابر بحیثیت ایک طبیب کے کام کرتاتھا لیکن اس کی طبی تصانیف ہم تک نہ پہنچ سکیں، حالانکہ اس مقالہ کا لکھنے والا یعنی ڈاکٹر ماکس می یرہاف نے جابرکی کتاب کوجوسموم پرہے حال ہی میں معلوم کرلیاہے۔

          جابرکی ایک کتاب جس کومع متن عربی اور ترجمہ فرانسیسی پول کراؤ متشرق نے ۱۹۳۵ ء میں شائع کیاہے ایسی بھی ہے جس میں اس نے تاریخ انتشارآراوعقائد وافکارہندی، یونانی اوران تغیرات کاذکرکیاہے جومسلمانوں نے کئے ہیں اس کتاب کانام ”اخراج مافی القوة الی الفعل “ ہے (الجوادج ۹،۱۰ ص ۱۰ طبع بنارس)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

صادق آل محمد کے علمی فیوض و برکات

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جنہیں راسخین فی العلم میں ہونے کاشرف حاصل ہے اورجوعلم اولین وآخرین سے آگاہ اوردنیاکی تمام زبانوں سے واقف ہیں جیساکہ مورخین نے لکھاہے میں ان کے تمام علمی فیوض وبرکات پرتھوڑے اوراق میں کیاروشنی ڈال سکتاہوں میں نے آپ کے حالات کی چھان بین کی ہے اوریقین رکھتاہوں کہ اگرمجھے فرصت ملے،توتقریبا چھ ماہ میں آپ کے علوم اورفضائل وکمالات کاکافی ذخیرہ جمع کیاجاسکتاہے آپ کے متعلق امام مالک بن انس لکھتے ہیں میری آنکھوں نے علم وفضل وروع وتقوی میں امام جعفر صادق سے بہتردیکھاہی نہیں جیساکہ اوپرگذراوہ بہت بڑے لوگوں میں سے تھے اوربہت بڑے زاہدتھے خداسے بے پناہ ڈرتے تھے ،بے انتہاحدیث بیان کرتے تھے ،بڑی پاک مجلس والے اورکثیرالفوائد تھے، آپ سے مل کر بے انتہاء فائدہ اٹھایاجاتاتھا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۲ طبع بمبئی)۔

 

علمی فیوض رسانی کا موقع

          یوں توہمارے تمام آئمہ اہلبیت علمی فیوض وبرکات سے بھرپورتھے اورعلم اولین وآخرین کے مالک،لیکن دنیاوالوں نے ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں قیدوبندمیں رکھ کرعلوم وفنون کے خزانے پرہتھکڑیوں اوربیڑیوں کے ناگ بٹھادئیے تھے اس لےے ان حضرات کے علمی کمالات کماحقہ، منظرعام پرنہ آسکے ورنہ آج دنیاکسی علم میں خاندان رسالت مآب کے علاوہ کسی کی محتاج نہ ہوتی فاضل معاصرمولاناسبط الحسن صاحب ہنسوی لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام المتوفی ۱۴۸ ھ کاعہدمعارف پروری کے لحاظ سے ایک زرین عہدتھا،وہ رکاوٹیں جوآپ سے قبل آئمہ اہل بیت کے لیے پیش آیاکرتی تھیں ان میں کسی حدتک کمی تھی ،اموی حکومت کی تباہی اورعباسی سلطنت کااستحکام آپ کے لیے سکون وامن کاسبب بنااس لیے حضرت کومذہب اہلیبت کی اشاعت اورعلوم وفنون کی ترویج کاایک بہترین موقع ملالوگوں کوبھی ان عالمان ربانی کی طرف رجوع کرنے میں اب کوئی خاص زحمت نہ تھی جس کی وجہ سے آپ کی خدمت میں علاوہ حجازکے دوردرازمقامات مثل عراق ،شام،خراسان، کابل سندھ ہند اوربلادروم ،فرنگ کے طلباء وشائقین علم حاضرہوکر مستفیدہوتے تھے حضرت کے حلقہ درس میں چارہزاراصحاب تھے علامہ شیخ مفیدعلیہ الرحمہ کتاب الارشادمیں فرماتے ہیں :

          ترجمہ : لوگوں نے آپ کے علوم کونقل کیاجنہیں تیزسوارمنازل بعیدہ کی طرف لے گئے اورآوازہ آپ کے کمال کاتمام شہروں میں پھیل گیااورعلماء نے اہل بیت میں کسی سے بھی اتنے علوم وفنون کونہیں نقل کیاہے جوآپ سے روایت کرتے ہیں اورجن کی تعدادچارہزاہے غیرعرب طالبان علم سے ایک رومی النسل بزرگ زرارہ بن اعین متوفی ۱۵۰ ھ قابل ذکرہیں جن کے داداسنسن بلادردم کے ایک مقدس راہب ( Nonk ) تھے زرارہ اپنی خدمات علمیہ کے اعتبارسے اسلامی دنیامیں کافی شہرت رکھتے تھے اورصاحب تصانیف تھے (کتاب الاستطاعت والجبران کی مشہورتصنیف ہے (منہج المقال ص ۱۴۲ ،مولفواالشیعة فی صدر اسلام ص ۵۱) ۔

 

کتب اصول اربعمایة

          حضرت کے اصحاب میں چارسوایےس مصنفین تھے جنہوں نے علاوہ دیگرعلوم و فنون کے کلام مصوم کوضبط کرکے چارسوکتب اصول مدون کیں اصل سے مراد مجموعہ احادیث اہلبیت کی وہ کتابیں ہیں جن میں جامع نے خودبراہ راست معصوم سے روایت کرکے احادیث کو ضبط تحریر کیاہے یاایسے راوی سے سناہے جوخود معصوم سے روایت کرتاہے اس قسم کی کتاب میں جامع کی دوسری کتاب یارویت سے معنعنا (عن فلاں عن فلاں) کے ساتھ نہیں نقل کرتا جس کی سند میں اوروسائط کی ضرورت ہواس لیے کتب اصول میں خطاوغلط سہوونسیان کااحتمال بہ نسبت اوردوسری کتابوں کے بہت کم ہے کتب اصول کے زمانہ تالیف کاانحصارعہد امیرالمومنین سے لے کرامام حسن عسکری کے زمانہ تک ہے حس میں اصحاب معصومین نے بالمشاذمعصوم سے روایت کرکے احادیث کوجمع کیاہے یاکسی ایسے ثقہ راوی سے حدیث معصوم کواخذکیاہے جوبراہ راست معصوم سے روایت کرتا ہے شیخ ابوالقاسم جعفربن سعید المعروف بالمحقق الحلی اپنی کتاب المعبر میں فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے جوابات مسائل کوچارسومصنفین اصحاب امام نے تحریرکرکے چارسوتصانیف مکمل کی ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

صادق آل محمد کے اصحاب کی تعداد اوران کی تصانیف

          آگے چل کر فاضل معاصرالجوادمیں بحوالہ کتاب وکتب خانہ لکھتے ہیں کتب رجال میں جن اصحاب آئمہ کے حالات وتراجم مذکورہیں ،ان کی مجموعی تعدادچار ہزارپانچ سواصحاب ہیں جن میں سے صرف چارہزاراصحاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہیں سب کاتذکرہ ابوالعباس احمدبن محمدبن سعیدبن عقدہ نے اپنی کتاب رجال میں کیاہے اورشیخ الطائفہ ابوجعفرالطوسی نے بھی ان سب کااحصاء اپن ی کتاب رجال میں کیاہے ۔

          معصومین علیہم السلام کے تمام اصحاب میں سے مصنفین کی جملہ تعداد ایک ہزارتین سوسے زائدنہیں ہے جنہوں نے سینکڑوں کی تعدادمیں کتب اصول اورہزاروں کی تعدادمیں دوسری کتابیں تالیف اورتصنیف کی ہیں جن میں سے بعض مصنفین اصحاب آئمہ توایسے تھے جنہوں نے تنہا سینکڑوں کتابیں لکھیں ۔

          فضل بن شاذان نے ایک سواسی کتابیں تالیف کی ہیں،ابن دول نے سوکتابیں لکھیں ہیں اسی طرح برقی نے بھی تقریبا سوکتابیں لکھیں ،ابن عمیرنے نوے کتابیں لکھیں اوراکثراصحاب آئمہ ایسے تھے جنہوں نے تیس یاچالیس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں غرضیکہ ایک ہزارتین سومصنفین اصحاب آئمہ نے تقریبا پانچ ہزارتصانیف کیں،مجمع البحرین میں لفظ جبرکے ماتحت ہے کہ صرف ایک جابرالجعفی،امام جعفر صادق علیہ السلام کے سترہزاراحادیث کے حافظ تھے۔

          تاریخ اسلام جلد ۵ ص ۳ میں ہے کہ ابان بن تغلب بن رباح (ابوسعید) کوفی صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کی تیس ہزاراحادیث کے حافظ تھے ان کی تصانیف میں تفسیرغریب القرآن کتاب المفرد، کتاب الفضائل، کتاب الصفین قابل ذکرہیں، یہ قاری فقیہ لغوی محدث تھے، انہیں حضرت امام زین العابدین اورحضرت امام محمدباقر،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے صحابی ہونے کاشرف حاصل تھا ۱۴۱ ھ میں انتقال کیا۔

 

حضرت صادق آل محمد اور علم طب

          علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفر صادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا،علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔

 

حضرت صادق آل محمد کا علم القرآن

          مختصریہ کہ آپ کے علمی فیوض و برکات پرمفصل روشنی ڈالنی تودشوارہے جیساکہ میں نے پہلے عرض کیاہے ،البتہ صرف یہ عرض کردیناچاہتاہوں کہ علم القرآن کے بارے میں دمعہ ساکبہ ص ۴۸۷ پرآپ کاقول موجودہے وہ فرماتے ہیں خداکی قسم میں قرآن مجیدکواول سے آخرتک اس طرح جانتاہوں گویامیرے ہاتھ میں آسمان وزمین کی خبریں ہیں،اوروہ خبریں بھی ہیں جوہوچکی ہیں،اورہورہی ہیں اورجوہونے والی ہیں اورکیوں نہ ہوجبکہ قرآن مجیدمیں ہے کہ اس پرہرچیزعیاں ہے ایک مقام پرآپ نے فرمایاہے کہ ہم انبیاء اوررسل کے علوم کے وارث ہیں (دمعہ ساکبہ ص ۴۸۸) ۔

 

علم النجوم

          علم النجوم کے بارے میں اگرآپ کے کمالات دیکھناہوں توکتب طوال کامطالعہ کرنا چاہئے آپ نے نہایت جلیل علماء علم النجوم سے مباحثہ اورمناظرہ کرکے انہیں انگشت بدندان کردیاہے ،بحارالانوار،مناقب شہرآشوب ،دمعہ ساکبہ ،وغیرہ میں آپ کے مناظرے موجود ہیں علماء کافیصلہ ہے کہ علم نجوم حق ہے لیکن اس کاصحیح علم آئمہ اہلبیت کے علاوہ کسی کونصیب نہیں ،یہ دوسری بات ہے کہ حلقہ گوشان مودت نورہدایت سے کسب ضیا کرلیں۔

 

علم منطق الطیر

          صادق آل محمد دیگر آئمہ کی طرح منطق الطیر سے بھی باقاعدہ واقف تھے، جوپرندہ یاکوئی جانورآپس میں بات چیت کرتاتھااسے آپ سمجھ لیاکرتے تھے اوربوقت ضرورت اس کی زبان میں تکلم فرمایاکرتے تھے مثال کے لیے ملاحظہ ہو، کتاب تفسیرلباب التاویل جلد ۵ ص ۱۱۳، معالم التنزیل ص ۱۱۳، عجائب القصص ص ۱۰۵، نورالابصار ص ۳۱۱، طبع ایران میں ہے کہ صادق آل محمدنے قبرنامی پرندہ جس کو (چکور) یاچنڈول کہتے ہیں کہ بولتے ہوئے اصحاب سے فرمایا کہ تم جانتے ہے یہ کیاکہتاہے اصحاب نے صراحت کی خواہش کی توفرمایایہ کہتاہے ”اللہم العن مبغضی محمد و آل محمد“ خدایامحمد، آل محمد سے بغض رکھنے والوں پرلعنت کر، فاختہ کی آوازپرآپ نے کہاکہ اسے گھرمیں نہ رہنے دو، یہ کہتی ہے کہ ”فقدتم فقدتم“ خداتمہیں نیست و نابودکرے، وغیرہ وغیرہ۔

 

حضرت امام صادق علیہ السلام اور علم الاجسام

          مناقب بن شہرآشوب اوربحارالانوارجلد ۱۴ میں ہے کہ ایک عیسائی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے علم طب کے متعلق سوالات کرتے ہوئے جسم انسان کی تفصیل پوچھی آپ نے ارشادفرمایاکہ خداوندعالم نے انسان کے جسم میں ۱۲ وصل دوسواڑتالیس ہڈیاں اورتین سوساٹھ رگیں خلق فرمائی ہیں، رگیں تمام جسم کوسیراب کرتی ہیں ،ہڈیاں جسم کو،گوشت ہڈیوں کواوراعصاب گوشت کوروکے رہتے ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اور دوراندیشی

          مورخین لکھتے ہیں کہ جب بنی عباس اس بات پرآمادہ ہوگئے کہ بنی امیہ کوختم کردیں ،توانہوں نے یہ خیال کیاکہ آل رسول کی دعوت کاحوالہ دئیے بغیرکام چلنا مشکل ہے لہذاوہ امدادوانتقام آل محمدکی طرف دعوت دینے لگے اوریہی تحریک کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جس سے عام طورپرآل محمدیعنی بنی فاطمہ کی اعانت سمجھی جاتی تھی ،اسی وجہ سے شیعیان بنی فاطمہ کوبھی ان سے ہمدردی پیداہوگئی تھی اوروہ ان کے معاون ہوگئے تھے اوراسی سلسلہ میں ابوسلمہ جعفربن سلیمان کوفی آل محمد کی طرف سے وزیرتجویزکئے تھے یعنی یہ گماشتہ کے طورپرتبلیغ کرتے تھے انہیں امام وقت کی طرف سے کوئی اجازت حاصل نہ تھی،یہ بنی کے مقابلہ میں بڑی کامیابی سے کام کررہے تھے جب حالات زیادہ سازگارنظرآئے توانہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابومحمدعبداللہ بن حسن کوالگ الگ ایک ایک خط لکھاکہ آپ یہاں آجائیں تاکہ آپ کی بیعت کی جائے۔

          قاصداپنے اپنے خطوط لے کرمنزل تک پہنچے، مدینہ میں جس وقت قاصدپہنچا وہ رات کاوقت تھا،قاصدنے عرض کی مولامیں،ابوسلمہ کاخط لایاہوں حضوراسے ملاحظہ فرماکرجواب عنایت فرمائیں۔

          یہ سن کرحضرت نے چراغ طلب کیااورخط لے کراسی وقت پڑھے بغیرنذرآتش کردیااورقاصدسے فرمایاکہ ابوسلمہ سے کہناکہ تمہارے خط کایہی جواب تھا۔

          ابھی وہ قاصد مدینہ پہنچابھی نہ تھا کہ ۳/ ربیع الاول ۱۲۳ ھ کوجمعہ کے دن حکومت کافیصلہ ہوگیا اور سفاح عباسی خلیفہ بنایاجاچکاتھا(مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۸ ص ۳۰، تاریخ الخلفاء ص ۲۷۲ ،حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۷۴ ، تاریخ آئمہ ص ۴۳۳ ،)۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام کا دربار منصور میں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات

  علامہ رشیدالدین ابوعبداللہ محمدبن علی بن شہرآشوب مازندرانی المتوفی ۵۸۸ ء نے دربارمنصورکاایک اہم واقعہ نقل فرمایاہے جس میں مفصل طورپریہ واضح کیاہے کہ ایک طبیب جس کواپنی قابلیت پربڑابھروسہ اورغرورتھا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے کس طرح سپرانداختہ ہوکرآپ کے کمالات کامعترف ہوگیاہم موصوف کی عربی عبارت کاترجمہ اپنے فاضل معاصر کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

   ایک بار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام منصور دوانقی کے دربارمیں تشریف فرماتھے، وہاں ایک طبیب ہندی کی باتیں بیان کررہاتھا اورحضرت خاموش بیٹھے سن رہے تھے جب وہ کہہ چکاتو حضرت سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اگرکچھ پوچناچاہیں توشوق سے پوچھیں، آپ نے فرمایا، میں کیاپوچھوں،مجھے تجھ سے زیادہ معلوم ہے (طبیب اگریہ بات ہے تومیں بھی کچھ سنوں ۔

     امام : جب کسی مرض کاغلبہ ہوتواس کاعلاج ضدسے کرناچاہئے یعنی حارگرم کاعلاج سردسے ترکاخشک سے ،خشک کاترسے اورہرحالت میں اپنے خداپربھروسہ رکھے یادرکھ معدہ تمام بیماریوں کاگھرہے اورپرہیزسودواں کی ایک دواہے جس چیزکاانسان عادی ہوجاتاہے اس کے مزاج کے موافق اورا سکی صحت کاسبب بن جاتی ہے ۔

   طبیب: بے شک آپ نے جوبیان فرمایاہے اصلی طب ہے۔

   امام : اچھامیں چندسوال کرتاہوں،ان کاجواب دے : آنسووں اوررطوبتوں کی جگہ سرمیں کیوں ہے؟ سرپربال کیوں ہے؟ پیشانی بالوں سے خالی کیوں ہے؟ پیشانی پرخط اورشکن کیوں ہے؟ دونوں پلکیں آنکھوں کے اوپرکیوں ہیں؟ ناک کاسوراخ نیچے کی طرف کیوں ہے؟ منہ پردوہونٹ کیوں بنائے گئے ہیں؟ سامنے کے دانت تیزاورڈاڈھ چوڑی کیوں ہے؟ اوران دونوں کے درمیان میں لمبے دانت کیوں ہیں؟ دونوں ہتھیلیاں بالوں سے خالی کیوں ہیں؟

   ردوں کے ڈاڈھی کیوں ہوتی ہے؟ ناخن اوربالوں میں جان کیوں نہیں؟ دل صنبوری شکل کاکیوں ہوتاہے؟ پھیپڑے کے دوٹکڑے کیوں ہوتے ہیں،اوروہ اپنی جگہ حرکت کیوں کرتاہے؟ جگرکی شکل محدب کیوں ہے، گردے کی شکل لوبئے کے دانے کی طرح کیوں ہوتی ہے گھٹنے آگے کوجھکتے ہیں پیچھے کوکیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاوں کے تلوے بیچ سے خالی کیوں ہیں؟

   طبیب: میں ان باتوں کاجواب نہیں دے سکتا۔

امام : بفضل خدا میں ان سب باتوں کاجواب جانتاہوں ۔

طبیب بیان فرمائیے۔

امام علیہ السلام :

          ۱ ۔ سراگرآنسوؤں اوررطبوتوں کامرکزنہ ہوتاتوخشکی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔

          ۲ ۔  بال اس لیے سرپرہیں کہ ان کی جڑوں سے تیل وغیرہ دماغ تک پہنچتارہے اوربہت سے دماغی انجرے نکلتے رہیںدماغ گرمی اورزیادہ سردی سے محفوظ رہے۔

          ۳ ۔  پیشانی اس لیے بالوں سے خالی ہے کہ اس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتاہے۔

          ۴ ۔  پیشانی میں خطوط اورشکن اس لیے ہیں کہ سرسے جوپشینہ گرے وہ آنکھوں میں نہ پڑجائے ،جب شکنوں میں پسینہ جمع ہوتوانسان اسے پونچھ کرپھینک دے جس طرح زمین پرپانی جاری ہوتاہے توگڑھوں میں جمع ہوجاتاہے۔

          ۵ ۔  پلکیں اس لیے آنکھوں پرقراردی گئی ہیں کہ آفتاب کی روشنی اسی قدران پر پڑے جتنی کہ ضرورت ہے اوربوقت ضرورت بندہوکرمردمک چشم کی حفاظت کرسکیں نیزسونے میں مدد دے سکیں، تم نے دیکھاہوگاکہ جب انسان زیادہ روشنی میں بلندی کی طرف کسی طرف کسی چیزکودیکھناچاہتاہے توہاتھ کوآنکھوں کے اوپررکھ کرسایہ کرلیتاہے۔

          ۶ ۔  ناک دونوں آنکھوں کے بیچ میں اس لیے قراردیاہے کہ مجمع نورسے روشنی تقسیم ہوکربرابردونوں آنکھوں کوپہنچے۔

          ۷ ۔  آنکھوں کوبادامی شکل کااس لیے بنایاہے کہ بوقت ضرورت سلائی کے ذریعہ سے دوا(سرمہ وغیرہ) اس میں آسانی سے پہنچ جائے،اگرآنکھ چوکور یاگول ہوتی توسلائی کااس میں پھرنامشکل ہوتادوااس میں بخوبی نہ پہنچ سکتی اوربیماری دفع نہ ہوتی۔

          ۸ ۔  ناک کاسوراخ نیچے کواس لیے بنایاکہ دماغی رطوبتیں آسانی سے نکل سکیں، اگراوپرکوہوتاتویہ بات نہ ہوتی اوردماغ تک کسی چیزکی بوبھی جلدی نہ پہنچ سکتی

          ۹ ۔  ہونٹ اس لیے منہ پرلگائے گئے کہ جورطوبتیں دماغ سے منہ میں آئیں وہ رکی رہیں اورکھانابھی انسان کے اختیارمیں رہے جب چاہے پھینک اورتھوک دے۔

          ۱۰ ۔  داڑھی مردوں کواس لیے دی کہ مرداورعورت میں تمیزہوجائے ۔

          ۱۱ ۔  اگلے دانت اس لیے تیزہیں کہ کسی چیزکاکاٹنایاکھٹکھٹاسہل ہو، اورڈاڈھ کوچوڑا اس لیے بنایاکہ غذا پیسنا اورچبانا آسان ہو، ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لیے بنائے کہ ان دونوں کے استحکام کے باعث ہوں، جس طرح مکان کی مضبوطی کے لیے ستون (کھمبے) ہوتے ہیں۔

          ۱۲ ۔  ہتھیلوں پربال اس لیے نہیں کہ کسی چیزکوچھونے سے اس کی نرمی سختی، گرمی، سردی وغیرہ آسانی سے معلوم ہوجائے، بالوں کی صورت میں یہ بات حاصل نہ ہوتی۔

          ۱۳ ۔ بال اورناخن میں جان اس لیے نہیں ہے کہ ان چیزوں کابڑھنابرامعلوم ہوتاہے اورنقصان رساں ہے،اگران میں جان ہوتی توکاٹنے میں تکلیف ہوتی

          ۱۴ ۔  دل صنوبری شکل یعنی سرپتلااوردم چوڑی (نچلاحصہ) اس لیے ہے کہ بآسانی پھیپڑے میں داخل ہوسکے اوراس کی ہواسے ٹھنڈک پاتارہے تاکہ اس کے بخارات دماغ کی طرف چڑھ کربیماریاں پیدانہ کرے۔

          ۱۵ ۔  پھیپڑے کے دوٹکڑے اس لیے ہوے کہ دل ان کے درمیان ہے اوروہ اس کوہوادیں۔

          ۱۶ ۔  جگرمحدب اس لیے ہواہے کہ اچھی طرح معدے کے اوپرجگہ پکڑے اوراپنی گرانی اورگرمی سے غذا کوہضم کرے۔

          ۱۷ ۔  کردہ لوبئے کے دانہ کی شکل کااس لیے ہواکہ (منی) یعنی نطفہ انسانی پشت کی جانب سے اس میں آتاہے اوراس کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتاہے جوسبب لذت ہے۔

          ۱۸ ۔  گھٹنے پیچھے کی طرف اس لیے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی میں ہواگرایسانہ ہوتاتوآدمی چلتے وقت گرگرپڑتا، آگے چلنا آسان نہ ہوتا۔

          ۱۹ ۔  دونوں پیروں کے تلوے بیچ میں سے اس لیے خالی ہیں کہ دونوں کناروں پربوجھ پڑنے سے باسانی پیراٹھ سکیں اگرایسانہ ہوتااورپورے بدن کابوجھ پیروں پرپڑتاتوسارے بدن کابوجھ اٹھانا دشوارہوتا۔

          یہ جوابات سن کرہندوستانی طبیب حیران رہ گیااورکہنے لگاکہ آپ نے یہ علم کس سے سیکھاہے فرمایااپنے داداسے انہوں نے رسول خداسے حاصل کیاتھا اورانہوں نے خداسے سیکھاہے اس نے کہا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدارسول اللہ وعبدہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ خداایک ہے اورمحمداس کے رسول اورعبد خاص ہیں ،”وانک اعلم اہل زمانہ“ اورآپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۴۶ طبع بمبئی وسوانح چہاردہ معصومین حصہ ۲ ص ۲۵) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ

          طبیب ہندی سے گفتگوکے بعدامام علیہ السلام کاعام شہرہ ہوگیااورلوگوں کے قلوب پہلے سے زیادہ آپ کی طرف مائل ہوگئے، دوست اوردشمن آپ کے علمی کمالات کاذکرکرنے لگے یہ دیکھ کرمنصورکے دل میں آگ لگ گئی ،اوروہ اپنی شرارت کے تقاضوں سے مجبورہوکریہ منصوبہ بنانے لگاکہ اب

 جلدسے جلدانہیں ہلاک کردیناچاہئے،چنانچہ اس نے ظاہری قدرومنزلت کے ساتھ آپ کومدینہ روانہ کرکے حاکم مدینہ حسین بن زیدکوحکم دیا۔

          ان احرق جعفربن محمدفی دارہ “ امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت گھرکے اندرجلادیاجائے، یہ حکم پاکروالی مدینہ نے چندغنڈوں کے ذریعہ سے رات کے وقت جبکہ سب محوخواب تھے آپ کے مکان میں آگ لگوادی، اورگھرجلنے لگاآپ کے اصحاب اگرچہ اسے بجھانے کی پوری سعی کررہے تھے، لیکن بجھنے کونہ آتی تھی، بالاخرہ آپ انہیں شعلوں میں کہتے ہوئے کہ ”اناابن اعراق الثری اناابن ابراہیم الخلیل“ اے آگ میں وہ ہوں جس کے آباواجدادزمین آسمان کی بنیادوں کے سبب ہیں اورمیں خلیل خداابرہیم نبی کافرزندہوں،نکل پڑے۔

          اپنی عباکے دامن سے آگ بجھادی،(تذکرة المصومین ص ۱۸۱ بحوالہ اصول کافی آقائے کلینی علیہ الرحمة)۔

 

۱۴۷ ھ میں منصور کا حج اور امام جعفر صادق کے قتل کاعزم بالجزم

          علامہ شبلنجی اورعلامہ محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ ۱۴۷ ھ میں منصورحج کوگیا، اسے چونکہ امام کے دشمنوں کی طرف سے برابریہ خبردی جاچکی تھی کہ امام جعفر صادق تیری مخالفت کرتے رہتے ہیں، اورتیری حکومت کاتختہ پلٹنے کی سعی میں ہیں،لہذا اس نے حج سے فراغت کے بعدمدینہ کاقصدکیااوروہاں پہنچ کراپنے مصاحب خاص، ربیع سے کہاکہ جعفربن محمدکوبلوادو، ربیع نے وعدہ کے باوجودٹال مٹول کی اس نے پھردوسرے دن سختی کے ساتھ کہاکہ انہیں بلواو،میں کہتاہوں کہ خدامجھے قتل کرے اگرمیں انہیں قتل نہ کرسکوں، ربیع نے امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی، مولاآپ کومنصوربلارہاہے، اوراس کے تیوربہت خراب ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملاقات میں آپ کوقتل کردے گا، حضرت نے فرمایا”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“ یہ اس دفعہ ناممکن ہے غرضکہ ربیع آنحضرت کولے کرحاضردربارہوا، منصور کی نظرجیسے ہی آپ پرپڑی توآگ بگولہ ہوکربولا”یاعدواللہ“ اے دشمن خداتم کواہل عراق امام مانتے ہیں اورتمہیں زکواة اموال وغیرہ دیتے ہیں اورمیری طرف ان کاکوئی دھیان نہیں، یادرکھو، میں آج تمہیں قتل کرکے چھوڑوں گا اوراس کے لیے میں نے قسم کھالی ہے ہے یہ رنگ دیکھ کرامام جعفر صادق نے ارشادفرمایا ایے امیر جناب سلیمان کو عظیم سلطنت دی گئی توانہوں نے شکرکیا، جناب ایوب بلا میں مبتلا کیا گیاتوانہوں نے صبرکیا، جناب یوسف پرظلم کیاگیاتوانہوں نے ظالموں کومعاف کردیا، اے بادشاہ یہ سب انبیاء تھے اورانہیں کی طرف تیرانسب بھی پہنچتاہے تجھے توان کی پیروی لازم ہے، یہ سن کراس کاغصہ ٹھنڈاہوگیا(نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۶۷) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت

          علماء فریقین کااتفاق ہے کہ بتاریخ ۱۵/ شوال ۱۴۸ ھ بعمر ۶۵ سال آپ نے اس دارفانی سے بطرف ملک جاودانی رحلت فرمائی ہے، ارشادمفید ص ۴۱۳ ، اعلام الوری ص ۱۵۹ ، نورالابصار ص ۱۲۳ ، مطالب السول ص ۲۷۷ ،یوم وفات دوشنبہ تھا اورمقام دفن جنت البقیع ہے۔

          علامہ ابن حجرعلامہ علامہ ابن جوزی علامہ شبلنجی علامہ ابن طلحہ شافعی تحریر رقمطرازہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۱، تذکرةخواص الامتہ، نورالابصار ص ۱۳۳، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔

          علماء اہل تشیع کااتفاق ہے کہ آپ کو منصور دوانقی نے زہرسے شہید کرایاتھا، اور نمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی علامہ کلینی اورعلامہ مجلسی کاارشادہے کہ آپ کونہایت کفن دیاگیا اورآپ کے مقام وقات پرہر شب چراغ جلایاجاتارہا۔ کتاب کافی و جلاء العیون مجلسی ص ۲۶۹ ۔

 

آپ کی اولاد

          آپ کے مختلف بیویوں سے دس اولاد تھیں جن میں سے سات لڑکے اورتین لڑکیاں تھیں لڑکوں کے نام یہ ہیں :

۱- جناب اسماعیل ۲- حضرت امام موسی کاظم ۳- عبداللہ ۴- اسحاق ۵- محمد ۶۔ عباس ۷۔ علی ۔ اورلڑکیوں کے اسماء یہ ہیں : ۱- ام فروہ ۲-  اسماء ۳- فاطمہ (ارشاد و جنات الخلود) علامہ شبلنجی نے سات اولاد تحریرکیاہے جن میں صرف ایک لڑکی کاحوالہ دیاہے جس کانام ”ام فروہ“ تھا(نورالابصار ص ۱۳۳) ۔

          آپ ہی کی اولادسے خلفاء فاطمیہ گزرے ہیں جن کی سلطنت ۲۹۷ ئسے ۵۶۷ ء تک دوسوسترسال قائم رہی، ان کی تعدادچودہ تھی۔

 

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 14:36| توسط غلام حیدر عابدی| |

ساتویں امام کا نام ونسب

 

یا موسی بن جعفر الکاظم (ع)

نام ونسب

اسم گرامی : موسیٰ

لقب : کاظم

کنیت : ابو الحسن

والد کانام :جعفر (ع)

والدہ کا نام : حمیدہ ( اسپین کی رھنے والی تھیں)

تاریخ ولادت : ۷/ صفر ۱۲۸ھء

جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵ / سال

عمر مبارک : ۵۵/ سال

تاریخ شھادت : ۲۵/ رجب

شھادت کی وجہ : ھارون رشید نے آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا

روضہ اقدس : عراق ( کاظمین )

اولاد کی تعداد : ۱۹/ بیٹے اور ۱۸ /بیٹیاں

بیٹوں کے نام : (۱) علی (۲) ابراھیم (۳) عباس(۴) قاسم (۵) اسماعیل (۶) جعفر (۷) ھارون (۸) حسن (۹) احمد (۱۰) محمد (۱۱) حمزہ (۱۲) عبد اللہ (۱۳) اسحاق(۱۴) عبید اللہ (۱۵) زید (۱۶) حسن (۱۷) فضل (۱۸) حسین (۱۹) سلیمان

بیٹیوں کے نام : (۱) فاطمہ کبریٰ (۲) لبابہ (۳) فاطمہ صغریٰ (۴) رقیہ (۵) حکیمہ (۶) ام ابیھا (۷) رقیہ صغریٰ (۸) ام جعفر (۹) لبابہ (۱۰) زینب (۱۱) خدیجہ (۱۲) علیا (۱۳)آمنہ (۱۴) حسنہ (۱۵) بریھہ (۱۶) عائشہ (۱۷) ام سلمہ (۱۸) میمونہ

بیویوں کی تعداد تاریخ میں موجود نھیں ھے ۔

انگوٹھی کے نگینے کا نقش : ” کن مع اللہ حرزاً“

 

 

ولادت 

سات صفر128ھ میں آپ  کی ولادت ھوئی . اس وقت آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام مسند امامت پرمتمکن تھے اور آپ  کے فیوض علمی کادھارا پوری طاقت کے ساتھ بھہ رھا تھا .اگرچہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے پھلے آپ  کے دو بڑے بھائی اسماعیل اور عبدالله پید اھوچکے تھے مگر اس صاحبزادے کی ولادت روحانی امانت کی حامل تھی جو رسول کے بعد اس سلسلہ کے افراد میں ا یک دوسرے کے بعد چلی آرھی تھی  .

 

 

نشو ونما اور تربیت 

آپ نے اپنی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کے سایہ تربیت میں گزارے. ایک طرف خدا کے دیئے ھوئے فطری کمال کے جوھر اور دوسری طرف اس باپ  کی تربیت جس نے پیغمبر کے بتائے ھوئے فراموش شدہ مکارم اخلاق کو ایساتازہ کر دیا  تھاکہ چاروں طرف اسی کی خوشبو پھیلی ھوئی تھی. امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نے بچپنہ او رجوانی کاکافی حصہ اسی مقدس آغوش تعلیم میں گزارا. یھاں تک کہ تمام دنیا کے سامنے آپ  کے کمالات وفضائل روشن ھوگئے اور امام جعفر صادق علیہ السّلام نے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرمادیا . باوجودیکہ آپ  کے بڑے بھائی بھی موجود تھے مگر خدا کا عطا کردہ منصب میراث کا ترکہ نھیں ھوتا ھے بلکہ ذاتی کمال کی بنیاد پر رھتا ھے . سلسلہ معصومین علیہم السّلام میں امام حسن علیہ السّلام کے بعد بجائے ان کی اولاد کے امام حسین علیہ السّلام کاامام ھونا اور اولاد امام جعفر صادق علیہ السّلام میں بجائے فرزند اکبر کے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی طرف امامت کامنتقل ھونا اس بات کا ثبوت ھے کہ معیار امامت میں نسبتی وراثت کو مدِنظر نھیں رکھا گیا ھے

 

یا موسی بن جعفر الکاظم (ع)

امام موسی کاظم کے زمان امامت پر مختصر نظر

امامت

148ھ میں امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شھادت ھوئی اس وقت سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار ھوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بیٹھا تھا. یہ وھی ظالم بادشاہ تھا جس کے ھاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے اور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیواروں میں چنوا دیئے یاقید رکھے گئے تھے . خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورتوں سے تکلیفیں پھنچائی گئی تھیں یھاں تک کہ منصور ھی کا بھیجا ھوا زھر تھا جس سے اب آپ  دنیا سے رخصت ھورھے تھے .ان حالات میں آپ  کو اپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھاکہ حکومتِ وقت اسے زندہ نہ رھنے دے گی اس لیے آپ  نے ایک اخلاقی توجہ حکومت کے کاندھوں پر رکھنے کے لیے یہ صورت اختیار فرمائی کہ اپنی جائداد اور گھر بار کے انتظام کے لیے پانچ افراد پر مشتمل ایک جماعت مقرر فرمائی . جس میں پھلا شخص خود خلیفہ وقت منصور عباسی تھا . اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ اور عبداللہ فطح جو سن میں امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے بڑے بھائی تھے اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نیز ان کی والدہ حمیدہ خاتون.

  امام کا اندیشہ بالکل صحیح تھا اور آپ  کاطریقہ بھی کامیاب ثابت ھوا. چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاع منصور کو پھنچی تو اس نے پھلے تو سیاسی مصلحت کے طور پر اظھار رنج کیا. تین مرتبہ اناللهِ واناالیہ راجعون کھااور کہا کہ اب بھلاجعفر کا مثل کون ھے ? ا س کے بعد حاکم مدینہ کو لکھا کہ اگر جعفر صادق نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کیا ھوتو اس کا سر فوراً قلم کردو . حاکم مدینہ نے جواب لکھا کہ انھوں نے تو پانچ وصی مقرر کئے ھیں جن میں سے پھلے آپ  خود ھیں . یہ جواب پڑھ کر منصور دیر تک خاموش رھا اور سوچنے کے بعد کھنے لگا تو اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نھیں کیے جاسکتے . اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رھا لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے کوئی تعرض نھیں کیا اور آپ  مذھبی فرائض امامت کی انجام دھی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رھے . یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شھر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پھلے اسے فراغت ھوئی . اس لئے وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نھیں ھوا .

  

دور مصائب

 158ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ھوا تو اس کا بیٹا مھدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نھیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وھی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیاتو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا. ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رھے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ھوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا , مھدی کے بعد اس کابھائی ھادی192ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مھینے تک اُس نے حکومت کی . اس کے بعد ھارون رشید کازمانہ آیا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نھیں ھوا

 

 

یا موسی بن جعفر الکاظم (ع)

اخلاق واوصاف

  حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اسی مقدس سلسلہ کے ایک فرد تھے جس کو خالق نے نوع انسان کے لیے معیار کمال قرار دیا تھا اس لیے ان میں سے ھر ایک اپنے وقت میں بھترین اخلاق واوصاف کا مرقع تھا .بے شک یہ ایک حقیقت ھے کہ بعض افراد میں بعض صفات اتنے ممتاز نظر آتے ھیں کہ سب سے پھلے ان پر نظر پڑتی ھے , چنانچہ ساتویں امام میں تحمل وبرداشت اورغصہ کوضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ  کالقب »کاظم « قرار پایا  جس کے معنی ھیں غصے کو پینے والا . آپ  کو کبھی کسی نے تر شروئی اور سختی کے ساتھ بات کرتے نھیں دیکھا اور انتھائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ھوئے نظر آئے . مدینے کے ایک حاکم سے آپ  کو سخت تکلیفیں پھنچیں . یھاں تک کہ وہ جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا کرتا تھا مگر حضرت نے اپنے اصحاب کو ھمیشہ اس کو جواب دینے سے روکا .

 

  جب اصحاب نے اس کی گستاخیوں کی بھت شکایات کیں اور یہ کھا کہ ھمیں ضبط کی تاب نھیں . ھمیں اس سے انتقام لینے کی اجازت دی جائے تو حضرت نے فرمایا کہ » میں خود اس کاتدارک کروں گا .« اس طرح ان کے جذبات میں سکون پیدا کرنے کے بعد حضرت  خود اس شخص کے پاس ا سکی زراعت پر تشریف لے گئے اور کچھ ایسا احسان اور سلوک فرما یا کہ وہ اپنی گستاخیوں پر نادم ھوا ا ور اپنے طرزِ عمل کو بدل دیا . حضرت نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرماکر پوچھا کہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھا تھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرنا چاھتے تھے ؟ سب نے کھا , یقیناً حضور نے جو طریقہ استعمال فرمایا وھی بھتر تھا . اس طرح آپ  نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امیر علیہ السّلام کے اس ارشاد کو عمل میں لا کر دکھلایا جو آج تک نھج البلاغہ میں موجود ھے کہ اپنے دشمن پر احسان کے ساتھ فتح حاصل کرو کیونکہ اس قسم کی فتح  زیادہ پر لطف اور کامیاب ھے. بیشک اس کے لیے فریق مخالف کے ظرف کاصحیح اندازہ ضروری ھے اور اسی لیے حضرت علی علیہ السّلام نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایا ھے کہ »خبردار یہ عدم تشدد کاطریقہ نااھل کے ساتھ اختیار نہ کرنا ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ھوجائے گا .,,

 

 یقیناً ایسے عدم تشدد کے موقع کو پھچاننے کے لیے ایسی ھی بالغ نگاہ کی ضرورت ھے جیسی امام کو حاصل تھی مگر یہ اس وقت میں ھے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایسا عمل ھوچکا ھو جو اس کے ساتھ انتقامی جواز پیدا کرسکے لیکن اس کی طرف سے اگر کوئی ایسا اقدام ابھی نہ ھوا تو یہ حضرات بھر حال ا س کے ساتھ احسان کرنا پسند کرتے تھے تاکہ اس کے خلاف حجت قائم ھو اور اسے اپنے جارحانہ اقدام کے لیے تلاش کرنے سے بھی کوئی عذر نہ مل سکے .بالکل اسی طرح جیسے ابن ملجم کے ساتھ  جناب امیر علیہ السّلام نے کیا جو آپ کو شھید کرنے والا تھا، آخری وقت تک جناب امیر علیہ السّلام اس کے ساتھ احسان فرماتے رھے . اسی طرح محمد ابنِ اسمٰعیل کے ساتھ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی جان لینے کاباعث ھوا , آپ  برابر احسان فرماتے رھے , یھاں تک کہ اس سفر کے لیے جو اس نے مدینے سے بغداد کی جانب خلیفہ عباسی کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی شکائتیں کرنے کے لیے کیا تھا ، ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درھم کی رقم خود حضرت ھی نے عطا فرمائی تھی جس کو لے کر وہ روانہ ھوا تھا . آپ  کو زمانہ بھت ناساز گار ملا تھا . نہ اس وقت وہ علمی دربار قائم رہ سکتا تھا جوامام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانہ میں قائم رہ چکا تھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ واشاعت ممکن تھی . بس آپ  کی خاموش سیرت ھی تھی جو دنیا کو آلِ محمد کی تعلیمات سے روشناس کراسکتی تھی .

 

 آپ  اپنے مجمعوں میں بھی اکثر بالکل خاموش رھتے تھے یھاں تک کہ جب تک آپ  سے کسی امر کے متعلق کوئی سوال نہ کیا جائے آپ  گفتگو میں ابتدا بھی نہ فرماتے تھے . اس کے باوجود آپ  کی علمی جلالت کا سکہ دوست اور دشمن سب کے دل پر قائم تھا اور آپ  کی سیرت کی بلندی کو بھی سب مانتے تھے , اسی لیے عام طور پر آپ  کو کثرت عبادت اور شب زندہ داری کی وجہ سے »عبد صالح « کے لقب سے یاد جاتا تھا . آپ  کی سخاوت اور فیاضی کابھی خاص شھرہ تھا۔آپ فقرائے مدینہ کی اکثر پوشیدہ طور پر خبر گیری فرماتے تھے۔ ھر نماز کے صبح کی تعقیبات کے بعد آفتاب کے بلند ھونے کے بعد سے پیشانی سجدے میں رکھ دیتے تھے اور زوال کے وقت سراٹھاتے تھے . پاس بیٹھنے والے بھی آپ  کی آواز سے متاثر ھو کر روتےرھتے تھے .

 

170ھ میں ھادی کے بعد ھارون تخت خلافت پر بیٹھا . سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جو سادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے اس کے سامنے تھے خود اس کے باپ  منصور کارویہ جو امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف تھا اسے معلوم تھا اس کا یہ ارادہ کہ جعفر صادق علیہ السّلام کے جانشین کو قتل کر ڈالاجائے یقیناً اس کے بیٹے ھارون کو معلوم ھوچکا ھوگا . وہ تو امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حکیمانہ وصیت کا اخلاقی دباؤ تھا جس نے منصور کے ھاتھ  باندہ دیئے تھے اور شھر بغداد کی تعمیر کی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ھونے دیا تھا ورنہ اب ھارون کے لیے ان میں سے کوئی بات مانع نہ تھی . تخت سلطنت پر بیٹھ کر اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے سب سے پھلے اس کے ذھن میں تصور پیدا ھوسکتا تھا کہ اس روحانیت کے مرکز کو جو مدینہ کے محلہ بنی ھاشم میں قائم ھے توڑنے کی کوشش کی جائے مگر ایک طرف امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کامحتاط اور خاموش طرزِ عمل اور دوسری طرف سلطنت کے اندرونی مشکلات جن کی وجہ سے نوبرس تک ھارون کو بھی کسی امام کے خلاف کھلے تشدد کا  موقع نھیں ملا .

 

امام موسی کاظم (ع)

شہادت

  سب سے آخر میں امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سندی بن شاھک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بھت ھی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت کوانگور میں زھر دیا گیا-  25رجب 183ھ میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شھادت ھوئی۔ بعد شھادت آپ  کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نھیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توھین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ھوئے آپ  کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ھو گیا تھا اس لئے کچھ  اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باھر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشھور ھے، دفن کیا

 

 

نوشته شده در یکشنبه بیست و ششم تیر 1390| ساعت 14:34| توسط غلام حیدر عابدی| |


قالب وبلاگ : فقط بهاربيست

 دانلود آهنگ - قیمت خودرو - قالب وبلاگ